پلوامہ حملے کے بعد کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی،پروفیسر سلیم

پلوامہ حملے کے بعد کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی،پروفیسر سلیم

لاہور (جنرل رپورٹر) کشمیربرسوں سے اپنی شناخت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔پلوامہ حملہ کے بعد کشمیریوں کیلئے زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے ان خیالات کا اظہار کشمیر کلچر اینڈ ہیرٹیج ، سری نگر کے پروفیسرمحمد سلیم بیگ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان‘ لاہور میں منعقدہ ایک خصوصی نشست کے دوران بطور مہمان خاص اپنے خطاب میں کیا۔ اس نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے کشمیر ایکشن کمیٹی کے باہمی اشتراک سے کیا تھا۔اس موقع پر جسٹس(ر) سید شریف حسین بخاری، ڈاکٹر معروف شاہ (سرینگر)، میجر جنرل(ر) مظفر اندرابی، فاروق خان آزاد، مولانا محمد شفیع جوش، غلام عباس میر، ڈاکٹر خورشید سکندر، سردار محمد انور، میمونہ اعظم، نجمہ حلیم اور دیگر کشمیری رہنما بھی موجود تھے۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔پروفیسر محمد سلیم بیگ نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی شناخت کو برقرار رکھنے اور اسے بچانے کیلئے سیاسی ، فوجی اور تہذیبی سمیت مختلف میڈیمز کا استعمال کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو ہم مجاہد جبکہ بھارت دہشتگرد کہتا ہے، ہم کب تک لاشوں کو گنتے رہیں گے۔بھارت میں اس وقت ایسی جماعت برسراقتدار ہے جو انتہاپسندانہ نظریات کی حامل ہے۔ آج ہمیں کشمیر کی ثقافتی پہچان کو بھی بچانا ہو گا۔ اس سلسلے میں ہم مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔ ڈھل جھیل پر مغلیہ دور میں ایک پُل کسی ہندو نے بنایا تھا جو اب نہایت خستہ حال ہو چکا تھا ہم نے اس کی مرمت کروائی، علاوہ ازیں سرینگر کے پہلے کالج امر سنگھ کالج، خانقاہ نقشبندیہ، درگاہ حضرت بل کی تعمیر ومرمت کیلئے کام کیا ہے۔ ڈاکٹر معروف شاہ نے کہا کہ کلام اقبال موجودہ مسائل سے نبردآزما ہونے کیلئے ہماری درست سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1