پنجاب کا تعلیمی نوحہ۔۔۔

پنجاب کا تعلیمی نوحہ۔۔۔
پنجاب کا تعلیمی نوحہ۔۔۔

  



پنجاب میں تعلیم کی بہتری کے نام پر ایک عجب تماشا جاری ہے، طرح طرح کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں مگر ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ اور ’’الٹی پڑگئیں سب تدبیریں‘‘والی صورتحال ہے، حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں، ایک وقت تھا کہ سرکاری سکولوں کا ایک نام اور پڑھائی کا ایک معیار تھا ، لوگ فخر سے ان سکولوں میں آیا کرتے تھے، پھر 1999ء کا دور آیا جو سرکاری سکولوں کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوا، اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ ان اداروں کا رخ کرتے ہوئے کتراتے ہیں، حکومت طرح طرح کے تجربات کر رہی ہے مگر بے سود، اس ضمن میں اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے مگر کچھ حقائق کو نظرانداز کیا جارہا ہے، اصل ذمہ دار اساتذہ نہیں بلکہ ’’بزرجمہر‘‘ ہیں جو پالیسیاں بنارہے ہیں، یہ ایک طویل داستان ہے مگر چند ایک امور یہاں تحریر کیے جاتے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کرنا آسان ہو کہ اصل خرابی کہاں سے پیدا ہو رہی ہے۔؟

پہلا مسئلہ حاضری کا ہے، اس ضمن میں طلبہ کے سکول نہ آنے کا نزلہ اساتذہ پر گرتا ہے، اگر اساتذہ طلبہ کوسکول آنے پر مجبور کریں تواسے سزا متصور کرکے اساتذہ کو محکمانہ سزا دی جاتی ہے۔اگرانہیں آزاد کردیا جائے تو وہ سکول نہیں آتے اور حاضری مطلوبہ ہدف سے نیچے رہتی ہے جس کی سزابھی استاذ ہی کو دی جاتی ہے ۔

اس سلسلے میں اساتذہ کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، اساتذہ نہ تو ان کو سزا دے سکتے ہیں، نہ ڈرا سکتے ہیں، نہ خارج کرسکتے ہیں اورنہ ہی ان کو عارضی طور پر سکول سے نکال سکتے ہیں، یوں جب ان کی مرضی ہوتی ہے وہ سکول آتے ہیں اور جب ان کا دل چاہتا ہے نہیں آتے، اس طرح باقی طلبہ بھی خراب ہو جاتے ہیں اور یوں سکول کا ماحول خراب ہو جاتا ہے، اساتذہ کے ہاتھ باندھ کر تعلیمی بہتری نہیں لائی جاسکتی۔حاضری کا مسئلہ سب سے زیادہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نہم جماعت نویں کے امتحانات سے فارغ ہو جاتی ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ آخری پیپر کے اگلے ہی دن سکول آنا لازمی ہے۔یہ ایک عام فہم(Common Sense) بات ہے کہ ایک سٹوڈنٹ نویں کے پرچوں میں ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے تھک چکاہوتا ہے اور دسویں کلاس میں بیٹھنے سے پہلے اسے چند دن کاسکون چاہیے ہوتا ہے تا کہ وہ خود کو تروتازہ (Refresh) کر سکے۔

ایک اور مسئلہ تعدادکا ہے، پچھلے سال کی نسبت طلبہ کی اگلے سال میں تعداد دس فیصد زیاہ ہونی چاہیے، اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا ذمہ دار بھی استاد ہو گا، ایسا دنیا کے کسی معاشرے میں نہیں ہوتا، تعداد کا گھٹنا بڑھنا معمول کی بات ہے، اس کے لیے سکول کے اساتذہ کو مکمل بااختیار بنانا ہو گا، اس کے بعد ہیڈماسٹر سکول کی تعداد کو بہتر بناسکتا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پالیسیاں آپ بنائیں، لائحہ عمل آپ طے کریں،راستہ آپ متعین کریں اور اگر مطلوبہ نتائج نہ نکلیں تو ذمہ داری اساتذہ پر ڈال دیں، اگر کسی بھی ادارے کی کوئی پالیسی فیل ہوتی ہے تو اس پالیسی کو تبدیل کیا جاتا ہے یا قصوروار بھی پالیسی بنانے والا ہی ہوتا ہے، ملازمین کا قصور نہیں ہوتا۔

اسی طرح 10% اضافے والی بات بھی ایک محال امر ہے، کسی بھی سکول کی تعداد دس فیصد کے اعتبار سے نہیں بڑھائی جا سکتی، اس اعتبار سے تو ملک کی آبادی بھی نہیں بڑھتی، یہی صورتحال داخلے کی ہے، اگر سرکاری سکولوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ میرٹ پر داخلہ کریں تو اس طرح قابل بچے سکول آئیں گے، سکولوں کا ایک معیار بنے گا اور چار پانچ سالوں کے بعد ان سکولوں کا بھی ایک نام ہو گا، یہاں حکومت پرائیویٹ سکولوں کی مثال دیتی ہے لیکن وہاں کے قاعدے قوانین بھول جاتی ہے، پرائیویٹ ادارے ڈسپلن کی بنیاد پر طلبہ کو سزا بھی دیتے ہیں، ان کو سکول سے خارج بھی کرتے ہیں، فیل ہونے کی صورت میں ان کو اگلی کلاسوں میں پروموٹ بھی نہیں کرتے، حاضر نہ ہونے پر جرمانہ جاری کرتے ہیں ، داخلہ بھی ٹیسٹ لے کر میرٹ کی بنیاد پر کرتے ہیں، کیا سرکاری سکولوں میں ایسا ہوتا ہے یا اساتذہ ایسا کرسکتے ہیں؟ اگر نہیں کرسکتے تو پھر ان سے پرائیویٹ سکولوں والی توقعات بھی وابستہ نہ کریں۔آج پورے ملک میں اگر لارنس کالج ، ایچی سن کالج ، آرمی پبلک سکولوں یا دیگر پرائیویٹ اداروں کا نام ہے تو حکومت کو تحقیق کرنی چاہیے کہ وہاں بھی ہر بچہ لازمی داخل کیاجاتا ہے یا وہاں داخلہ میرٹ کی بنیاد پر کیاجاتا ہے؟کیا وہاں ڈسپلن اور نظم وضبط کی بنیاد پر طلبہ کو خارج کیاجاسکتا ہے یا سرکاری سکولوں کی طرح خارج کرنے پر اساتذہ کو سزا دی جاتی ہے؟ اگر وقت ہو تو یہ بھی تحقیق کی جاسکتی ہے کہ ان اداروں میں سکول نہ آنے پر جرمانہ اساتذہ کو کیا جاتا ہے یا طلبہ کو؟اگر ان سوالوں کے جواب مل جائیں تو حکومت صوبے میں سرکاری سکولوں کو ان کی کھوئی عظمت واپس دلا سکتی ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہ جب بھی آسامیاں مشتہر کی جاتی ہیں تو ایک ضلعے کے تمام تعلیم یافتہ لوگ اپلائی کرتے ہیں، جو لوگ میرٹ میں ٹاپ پر ہوتے ہیں ان کو حکومت جاب دے دیتی ہے اور جو لوگ میرٹ میں رہ جاتے ہیں وہ پھر پرائیویٹ اداروں میں جاتے ہیں، لیکن میرٹ میں ٹاپ پر آنے پر یہی اساتذہ سرکاری سکولوں میں رزلٹ نہیں دے پاتے، کیوں؟ کیا حکومت کا میرٹ بنانے کا طریقہ کار ٹھیک نہیں کہ نالائق لوگ اوپر آجاتے ہیں؟ اگر طریقہ ٹھیک ہے تو پھر کیا وجہ ہے؟ وجہ یہی ہے کہ پرائیویٹ اداروں میں یہی اساتذہ آزادانہ کام کرتے تھے اور انتظامیہ کو مشورے بھی دیتے تھے اور ان کے مشوروں کو مانا بھی جاتا تھا لیکن یہی لوگ سرکاری سکولوں میں آئے تو ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے، ان کو نہر میں پھینک دیا گیا اور اب ڈیمانڈ یہ کی جارہی ہے کہ ڈوبنا بھی نہیں ہے، سرکاری سکولوں کی حالت زار آج بھی ٹھیک کی جاسکتی ہے مگر؟

مزید : رائے /کالم