فرق واضح ہے

فرق واضح ہے
فرق واضح ہے

  

ہمارے ٹی وی چینلز کے پاس کہنے کو اب کیا رہ گیا ہے۔ اور جو رہ گیا ہے وہ یہی کہ ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات گھنٹوں عوام کے سامنے بے ربط جملوں کی پس پردہ موسیقی کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں۔ چھ گھنٹوں تک پاکستان کے میڈیا کے پاس کوئی تعلیمی، اطلاعاتی، ٹی وی سکرینوں پر رینجرز کی گاڑیاں، پولیس کی بے وقعتی وبے بسی اور مسلم لیگ(ن) کے جیالوں کی نعرہ بازی، ماتم، اور جنگلے پھلانگتے مناظر کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کی کوشش اتنی اہم خبر نہ تھی کہ میڈیا گھنٹوں پاکستان کے عوام کو اس کارِ فضول کا یرغمال بنائے رکھتا، لیکن ایسا ہوا۔

اس وقت اس گھر میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف بھی موجود تھے۔ وہ اس ساری صورت حال کا اندازہ کر سکتے تھے۔ انہیں اس بات کا علم تھا کہ اسی گھر کے پڑوس میں ایک ایسے ہی موقع پر انسانی زندگی کس طرح پامال کی گئی تھی۔

اس وقت بھی انتظامیہ یہی تھی، پولیس یہی تھی، لیکن حکمران یہ نہیں تھے۔ آج تاریخ کا یہ کھیل بھی دنیا نے دیکھا کہ آج وہ یرغمالی بنائے گئے جو کل تک اپنے مخالفین کا محاصرہ کرتے تھے۔ وہ آج محصور تھے۔

حمزہ شہباز کو دو دن پورا موقع ملا کہ وہ میڈیا کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ حکومت اور وزیر اعظم کو متنبہ کر سکیں کہ ایسے کھیل ان کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوں گے، لیکن اسی ماڈل ٹاؤن، اسی گھر کے پڑوس میں کسی کو اتنی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی کہ وہ اپنا نقطہ نظر یرغمال کرنے والوں کو بتا سکے۔

انہیں سوال کرنے سے پہلے ہی گولی میں جواب مل گیا تھا،یہاں ہائی کورٹ نے ضمانت لے لی۔ نیب کی ٹیم دو روز کی خواری کے بعد واپس چلی گئی اور اپنے پیچھے بے بسی کی داستان چھوڑ گئی،جبکہ اس روز انتظامیہ اپنے پیچھے لاشے اور تڑپتے ہوئے گولیوں سے زخمی چھوڑ کر گئی تھی۔ شہبازشریف کو وہ وقت تو شاید یاد آیا ہو گا،لیکن شائد یاد نہ آیا ہو، کیونکہ اس وقت تو وہ سوئے ہوئے تھے اور اس روز وہ لنچ کر رہے تھے۔

جب مسلم لیگ(ن) کے کارکن پولیس کے گلے پڑ رہے تھے تو پولیس اپنے آپ کو بچا رہی تھی اور انہیں ہر طرح کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی۔ وہ جنگلے پھلانگ رہے تھے، نعرے لگا رہے تھے اور کوئی ان کی آواز خاموش کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھا۔

ایک محتاط اور مدبرانہ رویہ اختیار کیا جا رہا تھا، کیا اس وقت شہری اور پولیس انتظامیہ کا رابطہ وزیراعلیٰ سے نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ، آئی جی ،چیف سیکرٹری اور کمشنر لاہور ڈویژن، ڈی سی لاہور سب ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں تھے اور فیصلہ یہی تھا کہ کسی سیاسی یا کارکن کو گزند نہ پہنچے اور کوئی اور زخمی نہ ہو اور ایسا ہی ہوا۔

یہ عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ تھی، نیب سے کوئی بھی خوش نہیں ہے اور اس کی وجہ ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری وہ کرپشن ہے، جس کا گھوڑا مسلسل دوڑ رہا ہے۔ بے نظیر شہید نے ملک قاسم کو اینٹی کرپشن کمیٹی کا چیئرمین بنایا تو ایک روز مَیں نے ان سے چند ایک واقعات کا ذکر کرکے انہیں اس پر کوئی قدم اٹھانے کا کہا۔

ملک صاحب مسکرا دیئے اور کہنے لگے، جناب ہماری کرپشن کمیٹی، انٹی کرپشن کمیٹی سے زیادہ مضبوط ہے اور اس کے چیئرمین کے سامنے میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ نیب کو احتیاط کی ضرورت ہے، لیکن کرپشن کا خاتمہ اور صرف سیاست دانوں کی ہی نہیں حکومت اور ریاست سے اس کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن سیاستدانوں کو کرپشن کی سیاست سے ہاتھ کھینچنا ہو گا۔

ماڈل ٹاؤن ہی میں ایک واقعہ پچھلے دنوں ہوا اور ایک سانحہ چند برس قبل، جس کا خون ابھی بھی ماڈل ٹاؤن کے ماتھے پر موجود ہے۔اس وقت فیصلہ کرنے والے شہبازشریف تھے اور آج فیصلہ عثمان بزدار کررہے ہیں، فرق واضح ہے۔

مزید : رائے /کالم