امام ابو حنیفہ نیعمل اور کردار سے سیرت رسول عربی ؐ کاعملی نمونہ پیش کیا،شریف الدین

امام ابو حنیفہ نیعمل اور کردار سے سیرت رسول عربی ؐ کاعملی نمونہ پیش کیا،شریف ...

لاہور(نمائندہ خصوصی)حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ عالم اسلام کی وہ عظیم شخصیت تھیں کہ جنہوں نے علم وفقہ کی تدوین کی۔ آپ رحمۃاللہ علیہ نے اپنے عمل اور کردار سے سیرت رسول عربی ؐ کاعملی نمونہ پیش کیا۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دنیاوی تاج وتخت کو ٹھوکر مار کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ہمیں یہ سبق دیا کہ یہ سر کٹ تو سکتا ہے مگر ظالم حکمرانوں کے آگے جھک نہیں سکتا۔آج عالم اسلام کی ٹھہری زندگی میں انقلاب برپا کرنے کے لیے آپ رحمۃاللہ علیہ کے افکار کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ رحمۃاللہ علیہ جیسے روشن ستاروں کو آئیڈیل بنا کر ملک سے فر قہ واریت اور بدعملی کا تعفن دور کیا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے ضلعی صدر شریف الدین قذافی نے’’ عُرس امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ‘‘کے موقع پر اپنے بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی حیات مبارکہ سے ایثار، ہمدردی ، انسانیت اور امت کے اجتماعی مفاد کا درس ملتا ہے۔ آپ رحمۃاللہ علیہ نے محسن انسانیت ﷺ کے نقش قدم پر چل کر اسلام کی حقیقی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کروایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے قیامت تک آنے والی نسلوں کی رہنمائی کے لیے قرآن وسنت سے لاکھوں فقہی مسائل کا استنباط کر کے پور ی امت پر احسان عظیم فرمایا۔آپ رحمۃاللہ علیہ حق کے مرکز اور تعلیمات محمدی رحمۃاللہ علیہ کے سر چشمہ تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت ابو حنیفہ نسبی نہیں وصفی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے منطق اور استدلال کے ساتھ مذ ہب اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے قرآت امام عاصم رحمتہ اللہ علیہ سے سیکھی جن کاشمار قراءِ سبعہ میں ہوتا ہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ رمضان المبارک میں 60مرتبہ قرآن مجید ختم فرماتے تھے۔ اسلامی عقائد کی تعبیرو تشریح میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تقریباََ 83 ہزار دفعات پر مشتمل عملی قوانین مرتب فرمائے جس کی بنیاد قرآن وسنت اورصحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال وآثار اور اجتہاد کی بنیاد پر ہے۔146ہجری میں منصور قاضی القضاہ کے عہد ہ قبول نہ کرنے کی وجہ سے امام صاحب کو قید کرڈالا۔ قید خانے میں بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تعلیم وتدریس جاری رکھی۔ 150ہجری میں بادشاہ نے آخری تدبیر اختیار کر کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو زہر دلو ا دیا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ حالت سجدہ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4