سلیکشن کمیٹی اور یونس خان

سلیکشن کمیٹی اور یونس خان
سلیکشن کمیٹی اور یونس خان

  

پاکستان ون ڈے کپ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔کل اس کپ کا اختتامی فائنل میچ کے پی کے اور بلوچستان کے مابین کھیلا جائے گا ۔ اگر بات کی جائے اس ٹورنامنٹ کے ٹاپ کرنے والے کھلاڑیوں کی تو ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اگر ٹاپ کرنے والے کھلاڑی اس کپ میں ایک ہزار رنز بنا لیتے یا کوئی باؤلر وکٹوں کے ڈھیر لگا دیتا تو شاید اس وقت بھی قومی سلیکشن کمیٹی صرف انہی کھلاڑیوں کو دورہ انگلینڈ اور ورلڈکپ جیسے اہم ایونٹ کے لیے قومی ٹیم میں شامل کرتی جو آج کل پاکستان ون ڈے کپ کھیلنے کی بجائے گھروں میں بیٹھ کر آرام کر رہے ہیں ۔کیونکہ آسٹریلیا کے ساتھ سیریز میں ان کھلاڑیوں کو آرام دینے کا مقصد کافی عرصہ سے کھیلنے والی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے ملک کی جیت سے زیادہ اہم ایک ایسے موقع پر آرام ضروری تھا جب ورلڈکپ سر پر ہے، تو پھر پاکستان ون ڈے کپ کا انعقاد اس موقع پر کروانا صرف کھلاڑیوں کے جذبات سے کھیلنا ہے ۔ دوسری طرف قومی ڈومیسٹک کپ کے اس ایونٹ میں عمر اکمل،خوشدل شاہ ،سلمان بٹ و دیگر کھلاڑیوں نے اپنی فارم اور فٹنس سے یہ ظاہر کیا کہ یہ کھلاڑی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے آج بھی اہل ہیں ۔

ہماری فٹنس کی بہتری کا لیول آج تک اسی لیے بہتر نا ہو سکا کہ کرکٹ کے تینوں فارمیٹ یعنی ٹیسٹ،ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے لیے قومی ٹیم کے گنے چنے کھلاڑیوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں آج تک سلیکشن کمیٹی نے اس بات پر زور نہیں دیا ہے کہ ٹیسٹ کی ٹیم علیحدہ اور ون ڈے ،ٹی ٹوئنٹی کی علیحدہ ٹیم سلیکٹ کی جائے اگر بالفرض ایسا ہو جاتا ہے تو اس طرح ہمارے کھلاڑیوں کا فٹنس لیول بھی بہتر رہے گا اور ان کی پرفارمنس بھی بہتر ہو گی کیونکہ تینوں فارمیٹ کھیل کر کھلاڑی ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر تھک جاتے ہیں جس کے باعث ان کی پرفارمنس پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ یونس خان نے گزشتہ روز ایک پر زور پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے اس بات کی جانب زور دیا کہ انڈر 19کا کیمپ لاہور کی بجائے کراچی میں لگایا جائے اس کے ساتھ ان کی سلیکٹ کردہ ٹیم میں کوئی مداخلت نہ کی جائے کوچ و چیف سلیکٹر ہونے کے ناطے انکی ان باتوں پر عمل کر لیا جائے اور ان کو ان کے طریقے سے کام کرنے دیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ ملک کو اس چھوٹی ٹیم میں مستقبل کے بڑے کھلاڑی مل جائیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک عرصہ سے ہماری قومی ٹیم تجربات کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے اور یہ تجربات سابقہ کوچ وقار یونس کے دور سے جاری ہیں جو آج تک مکمل نہ ہو سکے ۔یونس خان ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور پاکستان کی جانب سے کرکٹ کے حسن یعنی ٹیسٹ فارمیٹ میں دس ہزار رنزکرنے والے کھلاڑی ہیں وہ جانتے ہیں کہ کون سا کھلاڑی کس رمز کا ہے لہذا انہیں نا چھیڑا جائے اور ان کو مکمل اختیار دے کر انہیں فری ہینڈ دے دیا جائے ۔رہ گئی بات ورلڈ کپ کی تو سرفراز کو چاہیے کہ وہ اپنی پرفارمنس او ر کپتانی سے ورلڈ کپ کو اس ملک میں لے کر آئے اور اسے بفرزون کی زینت بنا کر ملک وقوم کے اعزاز میں مزید اضافہ کریں۔

مزید : رائے /کالم