پنجاب میں مفت اور لازمی تعلیم، ابتدائی دلائل کیلئے وکلا ء 18 اپریل کو طلب

پنجاب میں مفت اور لازمی تعلیم، ابتدائی دلائل کیلئے وکلا ء 18 اپریل کو طلب

لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں مفت اور لازمی تعلیم کے قانون مجریہ 2014ء پر عمل درآمد کروانے کے لئے دائر درخواست پر فریقین وکلا ء کو ابتدائی دلائل کے لئے 18 اپریل کو طلب کر لیا ۔ درخواست گزارایڈووکیٹ ندیم سرور سے عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ایجوکیشن کے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ،اس کا کیا بنا ہے ؟عدالت نے واضح کیا کہ یہ ایک اہم نوعیت کو معاملہ ہے آپ سپریم کورٹ کی ججمنٹ کو دیکھ لیں، درخواست گزار وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے آرٹیکل 25 (اے )کے نفاذ کے لیے پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2014 ء جاری کیا،جس کے تحت 6 سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دیناضروری ہے ،پنجاب حکومت نے اس ایکٹ کے تحت تعلیم کے فروغ کے لئے نئے سکول قائم کرنے تھے اور پنجاب حکومت نے پری سکول ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لئے کنڈر گارٹن سکول

بنانے تھے لیکن تاحال پنجاب حکومت نے پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ پر عمل درآمد نہیں کیاایکٹ پر عمل در آمد نہ کرنے کی وجہ سے لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو کر رہ گئے درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت پنجاب حکومت کو پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ پر مکمل عمل درآمد کرنے کا حکم دے ،عدالت نے فریقین کے وکلا کو دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے درخواست پر سزید کاروائی 18 اپریل تک ملتوی کر دی ہے ۔

مزید : صفحہ آخر