’’احساس ‘‘ پروگرام کے تحت شیفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

’’احساس ‘‘ پروگرام کے تحت شیفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی ،ڈاکٹر ثانیہ ...

اسلام آباد (اے پی پی) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ معاشرے کے غریب، پسماندہ اور کمزور طبقات کے حالات زندگی میں بہتری لانا اور وسائل پر اشرافیہ کے تسلط کے خاتمہ کے لئے ریاست مدینہ کی طرز پر ’احساس‘ پروگرام شروع کیا گیا ہے، پروگرام کے تحت شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی، معاشرے کے غریب طبقات کی بہتری کے لئے وسائل کے ساتھ ساتھ سیاسی عزم بھی ہونا چاہیے، موجودہ قیادت یہ عزم رکھتی ہے، احساس پروگرام اور بی آئی ایس پی کے تمام معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے، مساوات کے فروغ کے لئے حکومتی نظام کا قیام، سماجی تحفظ کے اخراجات میں اضافہ، سیفٹی نیٹس، انسانی سرمائے کی ترقی اور روزگار اور ذریعہ معاش کے لئے اقدامات کرنا ’احساس‘ پروگرام کے بنیادی ستون ہیں۔ بدھ کو یہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا اور سیکرٹری بی آئی ایس پی کے ہمراہ سینئر اینکر پرسنز کے ساتھ خصوصی نشست میں انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’احساس‘ پروگرام ریاست مدینہ سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا، ریاست مدینہ میں معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا گیا اور ان کی سماجی و اقتصادی حالت میں بہتری لائی گئی، اسی تناظر میں پروگرام شروع کیا گیا تاکہ مساوات کا نظام قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی عشروں سے ریاست کے وسائل اشرافیہ کے ہاتھ میں تھے، سرکاری وسائل، ٹیکسیشن حتیٰ کہ لیبر قوانین کے عدم نفاذ جیسے امور بھی اشرافیہ کے کنٹرول میں رہے ہیں، اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے ’احساس‘ پروگرام شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’احساس‘ پروگرام کی تیاری میں طویل مشاورت ہوئی ہے اور اب اس پر جلد عملدرآمد ہمارے لئے ایک چیلنج ہے جس کے عملی نفاذ کے لئے دلجمعی سے کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساوات کے فروغ کے لئے حکومتی نظام کا قیام، سماجی تحفظ کے اخراجات میں اضافہ، سیفٹی نیٹس، انسانی سرمائے کی ترقی اور روزگار اور ذریعہ معاش کے لئے اقدامات کرنا ’احساس‘ پروگرام کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی نظام کے قیام کے لئے حکومتی فریم ورک میں تبدیلی لائی جا رہی ہے اس مقصد کے لئے آئینی ترامیم کی جائیں گی جس کے لئے مشاورتی عمل جاری ہے، اس شعبے میں 25 ایریاز کا انتخاب کیا گیا ہے۔ قوانین اور ضوابط میں تبدیلیاں لائی جائیں گی، اسی طرح کردار اور ذمہ داریوں کے نظام میں بھی بہتری لائی جائے گی۔ سماجی تحفظ کے شعبہ جات میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، اس مقصد کے لئے کفالت اور تحفظ کے نام سے دو پروگرام شروع کئے گئے ہیں، کفالت پروگرام کے تحت خواتین کی حالت زار میں بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، اس مقصد کے لئے ساٹھ لاکھ عورتوں کو مالیاتی انکلوژن میں شامل کیا جائے گا۔ یہ باکفایت پروگرام ہے جس کے لئے اندرونی و حکومتی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت دسمبر 2019ء میں غربت کے حوالے سے رجسٹری کی اپ گریڈیشن ہو گی۔ اس وقت ہم 2010ء کا ڈیٹا استعمال کر رہے ہیں۔ دسمبر میں یہ ڈیٹا اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ پروگرام کے تحت ایسے شہریوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جو دستاویزی حیثیت نہیں رکھتے، ان میں اندرون ملک مزدوری کے لئے جانے والے شہری، موسمی خانہ بدوش، بیوائیں اور اس طرح کے دیگر طبقات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام میں بیرون ملک روزگار کے لئے جانے والے پاکستانیوں، سٹریٹ چلڈرن اور ٹرانس جینڈرز پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ’احساس‘ پروگرام کے تحت روزگار کی فراہمی پر بھرپور توجہ دی جائے گی، سماجی بہتری کے لئے روزگار کی فراہمی کے مواقع میں اضافہ کیا جائے گا، اسی طرح اس پروگرام کے تحت پسماندہ اضلاع میں خصوصی منصوبے شروع کئے جائیں گے اور کوشش کریں گے کہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایسے منصوبے شروع کئے جائیں جس سے نہ صرف مقامی سطح پر پیداوار بڑھے بلکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں۔ اسی طرح گھروں میں رہنے والی خواتین کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ ’احساس‘ پروگرام کے تحت انسانی وسائل کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، اس ضمن میں جو پالیسی مرتب کی گئی ہے اس پر زیادہ اخراجات نہیں آئیں گے، ہم نے اپنے ماہرین وزارتوں، سول سوسائٹی سے مشاورت کے بعد پالیسی مرتب کی ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر

مزید : صفحہ آخر