ٹانک، دہشتگردی کیخلاف جنگ کی تباہ کے بعد لشمینیا مچھر سے عوام کو زندگی اجیرن

ٹانک، دہشتگردی کیخلاف جنگ کی تباہ کے بعد لشمینیا مچھر سے عوام کو زندگی اجیرن

ٹانک (نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تباہی کے بعد لیشمینا مچھر نے عوام کی زندگی اجیرن بنا د ی ہزاروں کی تعداد میں بچے ،بوڑھوں اور جوانوں کی اکثریت لیشمینا مچھر کا شکار بن گئے تفصیلات کے مطابق ملک کے دیگر حصوں کی مانند جنوبی وزیرستان میں لیشمینا مچھرکے کاٹنے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں گزشتہ روزتحصیل سراروغہ کے علاقہ کوٹکئی میں صوبائی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی موبائل ٹیم نے 100مریضوں کو 300کے قریب انجکشن لگائے گئے چونکہ مریضوں کی تعداد زیادہ ہو چکی ہے اور انجکشن ختم ناپید ہو چکے ہیں انجکشن نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے محکمہ صحت جنوبی وزیرستان کی نا اہلی کی وجہ سے لیشمینا کے مرض کو کنٹرول کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں اور نہ ہی متاثرہ علاقوں میں فوگ اسپرے کیا گیا جنوبی وزیرستان ایجنسی کے علاقے مکین ،لدھا ،شنکئی،عمر رغزائے،کوٹکئی ،سراروغہ،شکاری، سپینکئی رغزائے،کالکالا،چگملائی،مرغی باند،منڈانہ سمیت دیگر علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں قبائلی رہنماء ملک اے ڈی خان محسود نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ لشمینا کی وباء بری طرح جنوبی وزیرستان میں پھیل چکی ہے جس نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر لیشمینا کی روک تھام کے لئے بروقت حفاظتی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ مرض پورے جنوبی وزیرستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیگااور ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر لے گا جس سے انسانی زندگیوں کو شدید خطرا ت لاحق ہونے کا اندیشہ ہے انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ او جنوبی وزیرستان غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس لئے صوبائی حکومت ان کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائے انہوں نے صوبائی حکومت اور کور کمانڈر پشاورسے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیماری کی روک تھام کے لئے فوری طور پرخصوصی اقدامات اٹھائے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں بھجوائی جائیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر