خواتین جب تک آگے نہیں بڑھیں گی ، معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا : ڈاکٹر عالیہ امام

خواتین جب تک آگے نہیں بڑھیں گی ، معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا : ڈاکٹر عالیہ امام

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممتاز دانشور اور مصنف ڈاکٹر عالیہ امام نے حقوق نسواں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین جب تک آگے نہیں بڑھیں گی ، معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گرین وچ یونیورسٹی میں کراچی ایڈیٹر کلب کے اشتراک سے ’’انٹرنیشنل ویمن ڈے ‘‘ کے موقع پر سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا موضوع ’’ چیلنجز اینڈ اپرچونیٹیز فار پاکستانی ویمن‘‘تھا۔ سیمینار سے مہمان خصوصی صائمہ ندیم ،کلب کے صدر مبشر میر، جنرل سیکریٹری منظر نقوی، کرنل (ر) مختار بٹ، یونیورسٹی کے ڈاکٹر صابر ، اقبال جمیل، فضاء شکیل، قندیل جعفری، صباحت بخاری ، عظمی الکریم اور دیگر نے خطاب کیا۔ عالیہ امام نے کہا کہ طبقاتی نظام نے عورت اور مرد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے، اس وقت ایک ایسے نظریۂ حیات کی ضرورت ہے جس میں صرف حقوق نسوانی کی بات ہو، انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کو پہلے سمجھنا ہوگا اور پھر انہیں تلاش کرنا ہوگا، پھر ان کے مسائل حل ہونگے، اس وقت معاشرہ سرمایہ دارانہ دور سے گذرہا ہے۔ عورت کو ایک پروڈکٹ سمجھ لیا گیا ہے اور اس کی نمائش کی جارہی ہے، جس سے اسکی تذلیل ہورہی ہے۔ اس وقت نظر کو صاف کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر دور میں حکمران طبقہ اپنے مفادات کی خاطر پانی کو گدلا کردیتا ہے۔ نظر کی صفائی سب سے خوبصورت چیز ہے، انہوں نے کہا کہ عورت کبھی بھی آزاد نہیں تھی، مذہب اسلام نے دنیا کی سوچ کو بدلا ہے اور خواتین کے حقوق کو اسلام میں پور پوری اہمیت دی گئی ہے اور نظام حیات دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری صائمہ ندیم نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان خواتین کی بہبود اور ترقی کے لیے ہمیشہ سنجیدہ رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں برابری کے حقوق دیئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں 12 خواتین کو پارلیمنٹ سیکریٹری کا عہدہ دیا گیا اور خواتین کیلئے ایک الگ وزارت بھی قائم کی جائیگی ، اس وقت مثبت سوچ کی ضرورت ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی زراعت کے شعبے میں خواتین کے حصے کو اہمیت دی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ کے نام کے بارے میں ابھی صرف یہ ڈسکس کیا جارہا ہے کہ ابھی نام تبدیل ہوگا کہ نہیں ساری قیاس آرائیاں ہیں البتہ میں یہ ضرور کہوں گی کہ اسمیں ہم صرف کچھ ایڈیشن ضرور کررہے ہیں، جس کے ذریعے ہم اور مزید بہتری لائیں گے جس سے خواتین کی زیادہ سے زیادہ مدد ہوسکے گی، اصل میں کچھ حقد ار لوگوں کو ان کا حق نہیں مل سکا جس کی وجہ سے یہ ضرورت پیش آرہی ہے کہ اسمیں کچھ مزید اضافہ کیا جائے ۔ حالانکہ یہ بہت اچھا پروگرام ہے جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ معیشت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت یہ چاہتی ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے خواتین کو زیادہ سے زیادہ قومی دھارے میں شامل کیا جائے، مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے انڈے اور مرغی کا جو کونسپیٹ دیا ہے وہ اُن ممالک کے لیے بہترین ثابت ہوا ہے جو کہ معاشی طور پر پیچھے ہیں ، ہم اس وقت جن مشکلات سے گذر رہے ہیں، جب تک ہم مضبوط نہیں ہوجاتے معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ۔ مائیکروفنانس کے سلسلے میں بھی موجودہ حکومت اقدامات کررہی ہے اور جلد اس کے اچھے نتائج برآمد ہونگے اور خواتین کو اس کے ثمرات ملیں گے، کسی زمانے میں اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے نام سے ایک پروگرام ہوتا تھا، کسی وجہ سے اسے ختم کردیا گیا، ہم اسے دوبارہ شروع کررہے ہیں جس سے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوگا، ہم تقریباً 60 ملین خواتین کو مستحکم کرنے کا ارادہ کررہے ہیں اور یہ موجودہ حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہوگا۔ خواتین کی سرکاری ملازمتوں کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ میں تو یہ کہونگی کہ کوٹہ نہیں ہونا چاہیے ، صلاحیتوں کی بنیاد پر نوکری دی جائے، خواتین کو پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آگے آنا ہوگا اور اپنی طاقت منوانے کے لیے اپنی صلاحیتوں سے کام لینا ہوگا۔ ایسی خواتین جو کہ نوکری کررہی ہیں اور ان کے چھوٹے بچوں کو سنبھالنے کے لیے اداروں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کام اطمینان سے کرسکیں اور اپنے بچوں کو چند گھنٹوں کے لیے چھوڑ سکیں ، خواتین کے لیے علیحدہ سے ٹرانسپورٹ کی بھی ضرورت ہے ، تنخواہوں میں اضافہ یہ تمام چیزیں ہمارے پروگراموں میں سرفہرست ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے کئی سال پہلے اکنامک پاورمنٹ اپنے طور پر شروع کیا تھا کورنگی کریک پر،جہاں میں انتہائی کم پیسوں میں خواتین کو کورس کراتی تھی تاکہ وہ اپنا معیاربلند کرسکیں، اور ان کے بنائے ہوئے سامان کو ہم آگے رکھتے تھے جو خواتین ان پڑھ تھیں، ان کے لیے بھی پروگرام رکھے گئے تاکہ انہیں بھی معاشی فوائد ہوں وہ اتنا پڑھ لیتی تھیں کہ اپنے دستخط کرسکیں ، انہوں نے کہا کہ کراچی ایڈیٹر کلب نے یہ پروگرام منعقد کراکے اس بات کا ثبوت دیا ہے۔ مرد اور خواتین معاشرے کی ترقی میں برابر کا حصہ لے رہے ہیں اور ورچوئیل یونیورسٹی نے یہ پروگرام کراکے اپنا حصہ ڈالا ہے جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور خواتین کے عالمی دن کے موقع پر یہ سیمینار منعقد کرایا اور اسمیں تمام عمر کی خواتین نے شرکت کی اور مرد حضرات نے بھی ہماری سپورٹ کی ہے اور آج کے دور میں وہ بھی ہمارا ساتھ دے رہے ہیں اور ہماری حکومت کا بھی یہی پیغام ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت ہے کہ ہم تمام پارلیمنٹرین خواتین ایک جامعہ پروگرام خواتین کے لیے ترتیب دیا جارہا ہے۔ ہم چا ہتے ہیں کہ وویمن پروٹیکشن ہماری priority رہے اور اس کو خواتین کی صف میں شامل کریں۔ اور دنیا میں نام روشن کریں ۔ کراچی ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سیمینار کا سب سے بڑا مقصد تو یہ ہے کہ خواتین کے ساتھ ملک میں جو مسائل ہیں انہیں کس طرح حل کیا جائے وہ کیا مسائل ہیں، خواتین کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بہت کم ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو بھی آزمانے کے مواقع محدود ہیں۔ آج کے سیمینار میں جو چیزیں زیربحث آئی ہیں، وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور میں تو یہ کہوں گا کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خود بھی آگے بڑھنا چاہیے اور خواتین کو ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اور اسی طرح مرد حضرات کو بھی خواتین کی مدد کرنی چاہیے ، میں سمجھتا ہوں کہ مرد حضرات کوشش کربھی رہے ہیں اور ہماری آج کی کوشش بھی ان کوششوں میں سے ایک ہے ، جہاں خواتین ہی خواتین کا ساتھ نہیں دیتی وہاں دیکھا گیا ہے کہ وہاں مسائل زیادہ ہیں۔ قندیل جعفری نے جو ایک مثال دی ہے جن میں انہوں نے بتایا کہ آرٹس کونسل میں ان کے ساتھ جو تشدد کیا گیا ، اس میں خواتین نے ان کا ساتھ نہیں دیا جو وہاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ حالانکہ خواتین کو وہاں خصوصی طور پر بات بھی کرنی چاہیے تھی ، آج کی جو خواتین ہیں جو تعلیم سے فارغ ہوچکی ہیں ، ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ حواتین کو اپنے ساتھ ملائیں جنہیں ان کی ضرورت ہے۔ جو خواتین ترقی میں پیچھے رہ گئی ہیں، ان کو مدد کی ضرورت ہے ، میں تو یہ کہوں گا کہ دیئے سے دیا جلانے کی ضرورت ہے، اس سے ایک بہتری کی فضاء بھی پیدا ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین میں جتنی زیادہ تعلیم ہوگی اتنی ہی زیادہ معاشرے میں بہتری آئیگی ۔ دیہی علاقوں کی خواتین کو جو مشکلات حاصل ہیں وہ شہری خواتین کو نہیں ہیں، اس وقت دیہی خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے کی اہم جز بنیں اور ترقی کے راستے میں برابر کی شریک ہوں۔ دیہی خواتین کو صحت کی سہولتیں بھی میسر نہیں اور ان کا شعور بھی زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر آج کے اس پروگرام میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بھی مرد حضرات کے شانہ بشانہ چلنے میں ثابت قدم ہیں۔ اس موقع پر سیمینار سے تمام لوگوں نے کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ کراچی ایڈیٹر کلب جو کہ ایک تھنک ٹھینک کی حیثیت رکھتا ہے ، اس نے ہمیشہ معاشرے کی بہتری کے لیے اس قسم کے سیمینار منعقد کرائے ہیں اور خواتین کو درپیش مسائل اجاگر کئے ،خواتین کی ملازمتوں اور کاروبار کے سلسلے میں کہ وہ کیا کاروبار کرسکتی ہیں، اس کے بارے میں بات چیت کی گئی اور یہ بھی زیربحث آیا کہ حکومت غربت کے خاتمے کے لیے امداد دینے کی بجائے خواتین کو زیادہ سے زیادہ مائیکرو فنانس اسکیم کے تحت قرضے دے تاکہ وہ چھوٹے چھوٹے پروجیکٹ چلا کر خودکفیل ہوسکیں، خواتین کی خصوصیات یہ ہیں کہ وہ محنت سے کام کرتی ہیں اور کرپشن نہیں کرتیں اور اگر خواتین ہمارے ملک کی ترقی میں شامل ہوتی ہیں تو ہمارا ملک بہت آگے جائیگا۔ آخر میں اقبال جمیل نے گرین وچ یونیورسٹی کے وائس چانسلر میاں محمد افضل اور ڈاکٹر صابر کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس پروگرام کے انعقاد میں رہنمائی فرمائی ، سیمینار میں شرکاء میں شیلڈز اور سرٹیفیکٹ بھی تقسیم کیے گئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر