"ذمہ دار کون"

"ذمہ دار کون"

  

دنیا بھر کے ممالک اس وقت کرونا وائرس جیسی وبا سے لڑ رہے ہیں اور پاکستان میں بھی کرونا وائرس کی وبا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور حکومت وقت اس وبا سے عوام الناس کو محفوظ رکھنے کیلے ہر سطح پر اقدامات بھی کر رہی ہے تاہم عین اس وقت جب کرونا وائرس کی وجہ سے پنجاب سمیت صوبائی دارلحکومت لاہور میں بھی لاک ڈوان ہو اور دفعہ 144 بھی نافذکی گئی عوام الناس کی نقل حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جارہی ہو اس وقت لاہور کی تحصیل شالیمار کے علاقہ ہربنس پوڑہ میں وفاقی حکومت کی ملکیت اور صوبائی حکومت کی ملکیت سرکاری جائیداوں پر اچانک خوفناک حد تک قبضے کرواتے ہوئے تعمیرات کا سلسلہ تیز کروا دیا گیا اور وہ سرکاری جائیدایں جن کے کسٹوڈین وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں وہاں اربوں کی سرکاری اراضی کو مال مفت دل بے رحم کی طرح نگلا جارہا ہے،،،، دفعہ 144 اور لاک ڈوان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے، ایڈمسٹریشن کی آنکھوں کے سامنے دیدہ دلیری سے سرکاری جائیداد کی فروخت بھی جاری ہے،،، یقننا اس شہر کے حاکم سے بڑی بھول ہو چکی ہے ہربنس پوڑہ کے علاقہ ڈیرہ حکیماں، رانی پنڈ، سبحان گارڈن، ہجویری سیکم سمیت منظور کالونی، مہتاب پارک، سمیت ریلوے لائنوں کے اردگرد بڑے پیمانے پر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے میں حیران ہوں کہ اس حالات میں جب پوڑی دنیا سجدہ ریز ہے اور اللہ تعالی سے کرونا جیسی وبا سے محفوظ رہنے کیلے دعا کر رہی ہو کاروبار بند ہوں لاک ڈوان اور دفعہ 144 نافذ کی جاچکی ہو تو اسی وقت ہربنس پوڑہ کے علاقہ میں سرکاری جائیداوں پر جاری سرعام تعمیرات۔ ایک بڑی ڈیل کا نتیجہ ہے۔

میں اپنے اس کالم میں یہ بھی آگاہ کرتا چلوں کہ ہربنس پوڑی میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی سرکاری اراضی پر جو افراد قبضے کر رہے ہیں اور جو کروا رہے ہیں اس حوالے سے میں نے بطور رپورٹر ان مقامات کی لوکیشن، ویڈیو، تصاویر، اور مکمل آگاہی دیتے ہوئے جن آفسران کے نوٹس میں یہ بات لائی ان افسران میں کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال، اسٹنٹ کمشنر شالیمار مہدی معروف ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور کاشف جلیل بھی ہیں اور اس وقت جو صورتحال اور بندر بانٹ ہربنس پوڑہ میں جاری ہے ان افسران کے نوٹس میں یہ آچکی ہے میرا اپنے کپتان سے یہ سوال ہے کہ کیا یہ دفعہ 144 صرف عوام الناس کیلے ہے کیا لاک ڈوان بھی صرف ایک محدود عوام پر لاگو ہوتی ہے جو کنسٹریکشن، بجری سیمنٹ اینٹ اور بیس بیس مزدور اکھٹے ہوکر ہربنس پوڑہ میں کام کر رہے ہیں اور لینڈ مافیا جن کے زریعے درجنوں گھر کھوٹھیاں پلازے سرکاری اراضی پر تعمیر کروا رہا ہے ان پر کوئی قانون نہیں لاگو ہوتا، کیا یہ لوگ پاکستان کے ہر قانون اور آئین سے بالاتر ہے جن سرکاری اراضی سے اس وقت وفاق اور صوبہ پنجاب کو محروم کیا جا رہا ہے اس کے زمہ دار پرائم منسٹر پاکستان عمران خان اور چیف ایگزیکٹو پنجاب عثمان بزدار نہیں ہیں کیا؟ تو کون ہے پھر زمہ داری لینے کو تو کوئی بھی تیار نہیں ہیں تو یہ جو بندر بانٹ جاری ہے اس میں ناکامی کس کی زمہ داری ہے محکمہ ریونیو کا سٹاف کہتا ہے کہ پولیس تعاون نہیں کرتی، کرونا جیسی وبا کو سنبھالیں یا سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والے لیں مافیا کو۔ میں دعوی کے ساتھ یہ بات کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص حلقہ پٹواری کے گھر پر ایک اینٹ بھی رکھ کر دکھا دے اور پٹواری صاحب اس کی ٹانگیں نہ توڑ ڈالیں تو پھر کہنا مگر چوں کہ یہ سرکار کی زمین ہے لحاظہ اس پر قبضے ہو بھی جائیں تو کسی کو کوئی فرق اور پروا نہیں ہے۔ہربنس پورہ میں کرونا جیسی وبا ء کی موجودگی میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی جائیداد کی بندر بانٹ کیلئے جو پیکج دیا گیا ہے

وہ بھی قابل غور ہے سرکاری اراضی پر قبضے سے لیکر پختہ تعمیرات، لینٹر ڈالے جانے اور رہائش کیے جانے تک ایک مکمل فارمولا طے پا چکا ہے جیسے ہی سرکاری اراضی پر قبضہ کیا جاتا ہے اس کو ریونیو سٹاف بتا دیتا ہے کہ ایک استغاثہ اور ایک ایف آئی آر آپ پر دی جائے گی مگر آپ نے کام جاری رکھنا ہے زیادہ شور مچ جانے پر ایک آدھا چھوٹا سا آپریشن بھی کیا جانا ہوتا ہے اور باقی کے بیس مقامات پر تعمیرات جاری رکھی جاتی ہیں اور ایک معقول معاوضہ ریونیو سٹاف کی جانب سے وصول کر لیا جاتا ہے بعد ازاں تھانہ ہربنس پورہ کی پولیس جو کہ مکمل طور پر بھرپور تعاون بھی کرتی ہے اور معاونت بھی کرتی ہے اپنی طے کردہ شرائط کے بعد اپنی نگرانی میں ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور سرکاری اراضی پر پختہ تعمیرات کروانے اور قبضے کرنے میں تھانہ ہربنس پورہ کے ملازمین کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے جس کی تحقیقات آئی جی پنجاب کو لازم کروانی چاہئیے تھانہ کا ایک خاص بجٹ لینڈ مافیا سے وصول کیا جاتا ہے اس کے بعد لسیکو کے ایس ڈی او صاحب بھی بجلی کا کنکشن جاری کرنے کیلئے روٹین سے ہٹ کر ملنے والی رقم سے اپنا ضمیربیچتے ہیں اور سرکاری اراضی پر قبضے کروانے میں بطور سہولت کار اپنا فرائض سرانجام دیتے ہیں جو کہ فیڈریل انوسٹی گیشن ایجنسی کو تحقیقات کرنی چاہیئے اسطرح سوئی گیس اور واسا کی ملازمین بھی کنکشن جاری کرتے ہیں پرائم منسٹر اور وزیر اعلی پنجاب کی جائیدادوں پر قبضے کروانے کیلے بھرپور سہولیات اور راہ ہموار کرواتے ہیں کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے صوبے بھر میں تمام چھوٹے بڑے کاروبار بند ہیں اور لوگ گھروں میں پابند ہو کر بیٹھ چکے ہیں مگر سرکاری جائیداد کی فروخت اور قبضے سے لیکر پختہ تعمیرات تک کا یہ کاروبار اس وقت عروج پر پہنچ چکاہے 2020 کے دو ماہ مارچ اور اپریل کے دوران اربوں روپے کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی اپنی ملکیتی اراضی سے محروم ہوچکی ہے جس کی ذمہ داری یقینا کوئی بھی لینے کو تیار نہ ہے اور یہ ذمہ داری بھی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے میں پرائم منسٹر کے پرنسپل سکرٹری اعظم خان اور وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری سے بھی نوٹس لینے کی اپیل کرتا ہوں کہ اس بندر بانٹ کا نوٹس لیا جائے اور اس میں ملوث سرکاری و غیر سرکاری افراد کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے

مزید :

رائے -کالم -