رات ،دیا اور نئی کتابیں

رات ،دیا اور نئی کتابیں
رات ،دیا اور نئی کتابیں

  

باغ اور باغیچوں میں دھیرے دھیرے بہار آ پہنچتی۔غنچے چٹختکے،پھول کھلتے اور گل و لالہ پہ رنگ و خوشبو کی وحی کا نزول ہوتا۔رنگ و بو کے یہ پیمبر جب سرو سمن کے دیس میں خوشبوؤں کا پیغام لے کر داخل ہوتے تو سانسیں خودبخود معطر ہو جاتیں۔ہوا جب گنگناتی اٹکھیلیاں کرتی آس پاس سے گزرتی تو انگنت پھولوں کی بو باس اپنے دامن میں لیے پھرتی۔شاخوں پہ زمرد کی نئی فصل پھوٹتی۔سر سبز پتے ان مست ہواؤں کی زد پہ رقص کرتے۔

میں تیز تیز قدم اٹھا کے بازار میں گھستا۔کورے کورے نوٹ جیب میں جنگلی کبوتروں کی طرح پھڑپھڑاتے۔بازار میں لوگوں کا ایک جم غفیر رواں دواں ہوتا۔کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ بندے پہ بندہ چڑھا ہوا ہے۔کہیں سے ریڑھی آ رہی ہے،جس پہ بے تحاشا بوجھ لدا ہے۔اس بوجھ کو کھینچتا ہوا ناتواں گدھاکبھی ہانپتا اور کبھی رک کر ڈھینچوں ڈھینچوں کی صدائے احتجاج بلند کرتا۔گدھے کا مالک دھڑا دھڑ تین چار چابک رسید کرتا ہے تو اس کی بریکیں خودبخود فیل ہو جاتی ہیں۔وہ ریڑھی سمیت بگٹٹ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔کسی کو کچلتا ہے کسی کو الٹاتا ہے۔عجب ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوجاتا ہے۔آپا دھاپی مارا ماری شروع ہو جاتی ہے۔کوئی کسی گالیاں دے رہا ہے تو کسی نے کسی کا گریبان پکڑ لیا ہے۔یکا یک ایک گھمسان کا رن شروع ہو جاتاہے ۔میں ایک طرف کھڑا ہو کےاس سارے منظر سے لطف اٹھا تا ہوں۔ آگے چلتا ہوں۔بابے قادرے کی دکان آ جاتی ہے۔ بابے قادرے کے پکوڑوں کی خوشبو ناک میں گھستی ہے۔پکوڑوں کا تھال سامنا دھرا ہے۔کڑاہی کے ابلتے ہوئے تیل میں سے گرما گرم پکوڑے نکل نکل کر باہر آ رہے ہیں۔منہ میں پانی آ رہا ہے۔سینے میں دل اور جیب میں پیسے مچل رہے ہیں۔ سکول میں نئی کلاسیں لگ چکی ہیں۔اور ان پیسوں سے سے تو نئی کتابیں خریدنی ہیں۔ہم پکوڑے کھانے کا فیصلہ بادل نخواستہ مؤخر کرتے ہیں اور کتابوں کی دکان کی طرف قدم بڑھا دیتے ہیں۔

نئی کتابیں ہاتھ آجاتیں تو اردو کی کتاب لے کر میں کسی کونے کھدرے میں دبک جاتا۔سارا سارا دن کتاب پڑھنے میں بیت جاتا۔شام کی دیوی جب سیاہ آنچل اوڑھ کر گاؤں کے گلی کوچوں میں داخل ہوتی تو میں کبھی برآمدے اور کبھی بڑے کمرے میں گھس جاتا۔پیلا بلب جلا لیتا۔اس بلب کی یرقان زدہ روشنی میں کھڑ کھڑاتے ورق الٹتا۔ بجلی چلی جاتی ۔پیلی روشنی کا وجود دم توڑ دیتا۔میں ماچس کی تیلی رگڑتا اور دیے کی سفید بتی کو شعلہ دکھا دیتا۔برآمدے کے طاقچے میں دیا روشن ہو جاتا۔میں لکڑی کی چارپائی اس طاقچے کے نزدیک گھسیٹ کے کتاب کھول کے بیٹھ جاتا۔نہ دن کا پتہ نہ رات کی خبر۔ان کہانیوں میں یوں کھو جاتا کہ اپنا آپ تک بھول جاتا۔دو چار دنوں میں اردو کی کتاب ختم ہو جاتی اردو کی ہی یہ کتابیں تھیں جنہوں نے ،مولانا محمد حسین آزاد ،عبدالحلیم شرر،الطاف حسین حالی،خواجہ حسن نظامی، ڈپٹی نذیر احمد،علامہ راشدالخیری،فرحت اللّٰہ بیگ ،احمد شاہ پطرس بخاری۔چراغ حسن حسرت ، شوکت تھانوی ،امتیازعلی تاج ،ابن انشا اوراحمد ندیم قاسمی ، جیسے نثر نگاروں سے متعارف کروایا وہیں میر اور غالب ،سودا،انشاء اللہ خان جرات،مومن خان مومن،ابراہیم ذوق جیسے شاعروں کا پتہ چلا۔کیا خوبصورت کتابیں تھیں اور کتنے عمدہ لوگوں سے ان کتابوں نے ہمیں ملایا۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -