کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کرتا کیونکہ ہم یوٹرن نہیں لیتے ۔۔۔مصطفی کمال کا ذو معنی طنز 

کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کرتا کیونکہ ہم یوٹرن نہیں لیتے ۔۔۔مصطفی کمال کا ذو معنی ...
کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کرتا کیونکہ ہم یوٹرن نہیں لیتے ۔۔۔مصطفی کمال کا ذو معنی طنز 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین اور این اے 249 سے پی ایس پی کے امیدوار سید مصطفی کمال کہاہے کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ بلدیہ سے منتخب ایم این اے کو منتخب ہونے کے بعد اہلیانِ بلدیہ نے کبھی دیکھاہی نہیں، پاک سرزمین پارٹی کے الیکشن میں حصہ لینے کی وجہ سے آج این اے 249 کے لوگ دھڑا دھڑ وزرا کو حلقے میں دیکھ رہے ہیں، سڑکوں کی مرمت کا آغاز ہو گیا ہے جو پہلے نہیں ہوا تھا۔ ہمیں بلدیہ ٹاﺅن کی عوام کے مسائل کا علم ہے۔ہمیں مسائل کا علم ہی نہیں بلکہ انہیں حل کرنا بھی آتا ہے، عوام کی محرومیاں دور کرنے آئے ہیں،کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کرتا کیونکہ ہم یوٹرن نہیں لیتے لیکن بلدیہ والوں سے یہ وعدہ ضرور ہے کہ ہم راتوں کو جاگ کر لوگوں کی صبح بہتر بنائیں گے۔ 

 خیبر چوک پر عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے سید مصطفی کمال نے کہا کہ بلدیہ کے حلقے کو ایسا مثالی بنائیں گے کہ یہ پورے پاکستان کیلئے مثال بنے گا، لسانی سیاست نے لوگوں سے پانی، تعلیم، صحت کی سہولیات چھین لیں، سہراب گوٹھ پر پختونوں کا جلسہ کیا، لڑے ہوئے مہاجر اور پٹھان ایک دوسرے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے، ہمیں چوروں نے نہیں چوکیداروں نے لوٹا ہے، عوام کو پس پشت ڈال کر سب نے اپنا حصہ لیا ہے، میرا کوئی پیٹرول پمپ نہیں اور نہ ہی میں نے کوئی شادی ہال بنایا ہے، میرا دشمن بھی مجھ پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا،ظلم کے نظام کے خاتمے کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا ہے، لوگ خود چل کر ہمارے پاس آرہے ہیں اور جوق در جوق ہمارے قافلے میں شامل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے پاس ڈالفن سے بہتر آپشن نہیں ہے، انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ہم اب یہیں رہیں گے ،عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے،حلقہ این اے 249 کی عوام ڈالفن پر مہر لگائیں اور پاک سر زمین پارٹی کو کامیاب بنائیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ 48 لاکھ گیلن پانی کی لائن بلدیہ ٹان کیلئے لے کر آئے ہیں،پانی کی لائن پر 178 ناجائز کنکشن اور 25 ہائیڈرنٹس ہیں،100 بستر کا ہسپتال بنا کر گئے تھے اسے شروع کرنا تھا وہ نہیں شروع کر سکے،عالمی سٹینڈرڈ کا سٹیڈیم بنایا تھا ،آج اس کی لائٹیں کھول کر لے گئے اور تمام گٹر لائنوں کو گرانڈ میں چھوڑ دیا گیا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -