فش فارم بنا کر بنجر زمینوں کو کارآمد بنایا جا سکتا، محکمہ ماہی پروری

فش فارم بنا کر بنجر زمینوں کو کارآمد بنایا جا سکتا، محکمہ ماہی پروری

  

فیصل آباد (اے پی پی)مچھلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث  فش فارم بنا کر بنجر زمینوں کو کارآمد بنایا جا سکتا ہے جبکہ درخت لگانے سے بھی بنجر زمینوں میں ذرخیزی لائی جا سکتی ہے۔محکمہ ماہی پروری فیصل آباد کے ترجمان نے کہا کہ مذکورہ اقدام کیلئے جہاں محکمہ ماہی پروری و آبی حیات کے ماہرین اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، ان کی سفارش پر کاشتکاروں کیلئے بلامعاوضہ مشاورتی و تکنیکی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کردیاگیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ فش فارمنگ سے نہ صرف انسانی خوراک میں لحمیات کی کمی کو پورا کیا جا سکتاہے بلکہ اس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ 

انہوں نے بتایاکہ کاشتکاروں کو  فش فارمنگ کے جدید طریقوں سے روشناس کروانے کیلئے محکمہ ماہی پروری اور بعض دیگر اداروں کے اشتراک سے ڈویژن، ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر تربیتی سیمینارز کا انعقاد کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔

 جس کے انتہائی مفید اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بتایاکہ ناکارہ اور بنجر زمینوں میں درخت لگانے سے بھی ذرخیزی آ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان، کاشتکار، زمیندار زمین کی ساخت اور ماحول کے مطابق ماہرین ماہی پروری وزراعت کے مشورہ سے ایسے درختوں کا انتخاب کریں۔انہوں نے بتایاکہ فش فارمنگ سے نہ صرف انسانی خوراک میں لحمیات کی کمی کو پورا کیا جا سکتاہے بلکہ اس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

مزید :

کامرس -