نئی حکومت اور اپوزیشن کا امتحان

نئی حکومت اور اپوزیشن کا امتحان

  

قومی اسمبلی میں 14گھنٹے کے طویل اور صبر آزما اعصاب شکن انتظار کے بعد بالآخر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔ ووٹنگ کا مرحلہ آدھی رات گئے آیا اور 174 ارکان اسمبلی نے عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دے دیا۔ صبح ساڑھے دس بجے اجلاس شروع ہوا اور اپوزیشن کے بار بار اصرار کے باوجود سپیکر نے رائے شماری نہیں کرائی۔ کئی مرتبہ اجلاس میں وقفہ دیا گیا اور بات چلتے چلتے رات ساڑھے گیارہ بجے تک پہنچ گئی۔ سپریم کورٹ کے حکم کی رو سے رات بارہ بجے سے پہلے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ضروری تھی، جب یہ وقت قریب آیا تو اسلام آباد میں سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں،وکلا توہین عدالت کی درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے،چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کھولنے کا حکم دے دیا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کھولنے کی خبر بھی پھیل گئی،متحدہ اپوزیشن کے ارکان صبح دس بجے سے ثابت قدمی کے ساتھ ایوان کے اندر موجود تھے۔ اِس دوران پوری قوم دھڑکتے دِلوں کے ساتھ یہ سارا کچھ دیکھ رہی تھی۔ یہ کھٹکا بھی موجود تھا اس صورت حال میں کوئی غیر آئینی مداخلت نہ ہو جائے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانا نہیں چاہتی اور معاملہ اگلے دن پر ڈالنا چاہتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کسی صورت مستعفی ہونے کو تیار نہیں تھے۔ جب 9 اپریل کے ختم ہونے میں نصف گھنٹہ رہ گیا تو اچانک تیزی سے واقعات رونما ہوئے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ایوان میں آئے۔ انہوں نے مسند ِ صدارت سنبھالی۔ یہ بتایا کہ انہیں وہ مراسلہ دکھایا گیا ہے اور اس کی ایک کاپی دی گئی ہے، جو غیر ملکی مداخلت کے حوالے سے موصول ہوا ہے۔ پھر انہوں نے کہا چونکہ ان کی عمران خان سے دیرینہ رفاقت ہے اِس لیے وہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے عمل کا حصہ نہیں بن سکتے۔ انہوں نے اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور پینل آف چیئرمین کے رکن ایاز صادق کو مسند ِ صدارت سونپ کر ایوان سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد ایاز صادق نے تحریک عدم اعتماد کی کارروائی آگے بڑھائی اور ووٹنگ کا عمل شروع ہوا، گنتی ہوئی تو تحریک کے حق میں 174 ووٹ آئے۔ یوں عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب سے فارغ ہو گئے۔ عمران خان وہ پہلے وزیراعظم بن گئے جو تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اپنے منصب سے ہٹائے گئے، وہ 3 سال آٹھ ماہ وزارتِ عظمیٰ  پر فائز رہے اور ان کا نام بھی ان وزرائے اعظم کی فہرست میں درج ہو گیا، جو اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے۔ انہوں نے اسی رات ایوانِ وزیراعظم خالی کر دیا اور اپنی ذاتی رہائش گاہ بنی گالا منتقل ہو گئے۔

 عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کئی ڈرامائی لمحات سے گزری۔ 7 مارچ کو جب یہ تحریک جمع کرائی گئی تو آئین کے مطابق اسے 14 دن کے اندر قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا ضروری تھا، مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ رائے شماری کا وقت آیا تو 3 اپریل 2022ء کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے آئین کا آرٹیکل 5 استعمال کر کے اسے مسترد کر دیا ان کے اس اقدام کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور پانچ دن کی مسلسل سماعت کے بعد حکم جاری کیا کہ9اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔ اسی حکم میں ڈپٹی سپیکر کے حکم کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا گیا تھا،وزیراعظم کی اسمبلی توڑنے کے حوالے سے صدر کو بھیجی گئی تجویز اور صدرِ مملکت کی طرف سے قومی اسمبلی کی تحلیل کے حکم کو بھی آئین سے متصادم قرار دے کر اسمبلی بحال کر دی گئی۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر بلا کسی رکاوٹ کے رائے شماری ہو جائے گی، مگر 9 اپریل کو جو کچھ ہوا اس نے اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا کر دیا۔ بعض وزراء یہ بیان دیتے رہے کہ سپریم کورٹ پارلیمینٹ کے معاملات میں دخل نہیں دے سکتی، حالانکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے اپنا حکم جاری کر چکی تھی۔ دوسری طرف یہ بات بھی ثابت تھی کہ قومی اسمبلی کے اندر حکومت اپنی اکثریت کھو چکی ہے اور اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے یہ وہ موقع تھا کہ جب سابق وزیراعظم عمران خان ایک بہتر فیصلہ کر کے ملک کو بے یقینی کی صورت حال سے نکال سکتے تھے، مگر وہ یہی کہتے رہے کہ شکست نہیں مانیں گے، حالانکہ شکست تو سامنے کھڑی تھی، وہ آخری گیند تک مقابلہ کرنے کی جو بات کرتے رہے وہ غالباً یہ تھی کہ سپریم کورٹ کی دی گئی ڈیڈ لائن کے آخری لمحوں تک انہوں نے ووٹنگ نہیں ہونے دی، جس سے  ہیجان پیدا ہوا اور ایک بڑے بحران کے خطرات منڈلانے لگے۔ ان کا یہ موقف اپنی جگہ کہ انہیں نکالنے کے لیے غیر ملکی سازش ہوئی ہے، مگر زمینی حقائق یہ تھے کہ ان کے خلاف قومی اسمبلی کے اندر تحریک عدم اعتماد آئینی طریقے سے پیش کی گئی تھی،اور یہ بات بھی عیاں تھی کہ اکثریت ان کے ساتھ ہے۔اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ اس پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ کرائی جائے۔ بہرحال اب یہ سارے واقعات تاریخ میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ اب مرحلہ آگے بڑھنے کا ہے، جمہوریت میں سیاسی قوتوں کے کردار بدلتے رہتے ہیں، آج کی مقتدر جماعت اپوزیشن بن جاتی ہے اور اپوزیشن حزبِ اقتدار کا منصب سنبھال لیتی ہے۔ عمران خان اب اپوزیشن لیڈر ہیں انہوں نے اپنے آخری خطاب میں خود بھی یہ اشارہ دیا تھا کہ عوام میں جائیں گے۔ وہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور موجودہ حالات میں وہ واحد رہنما ہیں،جو اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کریں گے، کیونکہ باقی سب جماعتیں متحدہ اپوزیشن کی صورت اقتدار میں جا چکی ہوں گی، بہتر راستہ تو یہی ہوگا کہ اپوزیشن اور حکومت مل کر مستقبل کا روڈ میپ طے کریں۔ نئے انتخابات کا مطالبہ کل کی اپوزیشن بھی کرتی رہی ہے اور آج کی اپوزیشن تحریک انصاف بھی یہی چاہتی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے پر دونوں طرف سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ہونے والے انتخابات صاف و شفاف ہوں۔ سڑکوں پر احتجاجی سیاست کا باب اب بند ہونا چاہئے اور جو بھی کرنا ہے وہ پارلیمینٹ کے اندر ہو۔ ملک محاذ آرائی اور دنگا فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ معیشت کی بہتری کے لیے داخلی امن ضروری ہے،اس حوالے سے نئی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک خوشگوار تعلق قائم ہو جائے،جس کی طرف متوقع وزیراعظم شہباز شریف نے اشارہ بھی کیا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -