ویانا جوہری مذاکرات معطل، ایران نے 15امریکیوں پر پابندی لگا دی 

ویانا جوہری مذاکرات معطل، ایران نے 15امریکیوں پر پابندی لگا دی 

  

         تہران (این این آئی)ایران نے ویانا جوہری مذاکرات میں تعطل پر 15 امریکی عہدیداروں پر پابندیاں لگادیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق پابندیوں میں امریکا کے سابق آرمی چیف جنرل کیسی، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی، افغانستان میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر اور مئی سابق امریکی سفیر شامل ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیدار ایران کے خلاف دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں اور فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جابرانہ کارروائیوں کی حمایت میں ملوث ہیں۔ویانا میں ایران اور امریکا کے11 ماہ سے جاری بالواسطہ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ایران امریکا دونوں باقی رہ جانے والے مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے سے سیاسی فیصلوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔یرانی صدرابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری ترقی کی سرگرمیاں جاری رکھے گا جبکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تہران کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری ٹیکنالوجی کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سخت گیر صدر نے کہا کہ ان کی انتظامیہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کی تحقیق میں تیزی لانے کی حمایت کرے گی۔انھوں نے کہا کہ جوہری شعبے میں ہمارا علم اور ٹیکنالوجی قابل واپسی نہیں۔پرامن جوہری پروگرام میں ایران کی تحقیق کا تسلسل دوسروں کے مطالبات یا نقطہ نظر پر منحصر نہیں ہوگا۔

ایران

مزید :

صفحہ اول -