کراچی، 90فیصد رکشے چلتے پھرتے بم بن گئے

  کراچی، 90فیصد رکشے چلتے پھرتے بم بن گئے

  

کراچی(این این آئی)کراچی میں 90 فیصد چنگی اور تھری سیٹر رکشہ چلتے پھرتے بم بن گئے۔ چنگی اور رکشے سے پیٹرول کی ٹنکیاں غائب کردی گئیں۔ انجن سے ڈائریکٹ پیٹرول ڈیڑھ لیٹر کی بوتل سے سپلائی کیے جانے لگا۔سنہ 2020 کو کراچی کے علاقے پاور ہاوس چورنگی پر ایک ہائی رف میں آگ لگی جس سے9  افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس گاڑی میں چند سو روپے کا پیٹرول بچانے کے لئے ڈرائیور نے ٹنکی کے بجائے ڈیڑھ لیٹر کی بوتل سے انجن کو پیٹرول کی سپلائی جاری رکھی ہوئی تھی۔ 2 سال بعد اس واقعہ دوبارہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ غلطی اب بھی بہت سے لوگ کررہے ہیں۔کراچی کے چنگی اور تھری سیٹر رکشے چلتے پھرتے بم بن گئے ہیں اور اس کی وجہ موت کو دعوت دیتی یہ ڈیڑھ لیٹر کی ٹنکیاں ہیں۔ جنہیں شہر میں موجود تقریبا 80 فیصد ڈرائیوروں نے بطور جگاڑ اپنے رکشوں میں لگا رکھا ہے۔ٹنکی کے بجائے بوتلوں میں پیٹرول ڈلوانے کی وجہ سے ان رکشوں میں ہر وقت شعلے بھڑکنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ٹنکی کچھ دن قبل ہی خراب ہونے کا دعوی بہت ڈرائیوروں نے کیا لیکن کچھ نئی منطق بھی لائے کہ اس سے ایوریج کا درست اندازہ ہوتا ہے۔مذکورہ رکشے ٹرانسپورٹ سسٹم کو ترستے کراچی کے شہریوں کیلئے سستے سفر کا اہم ذریعہ ہیں یہی وجہ ہے کہ مسافر کوئی اور متبادل سواری نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کو خطرے میں ڈال کر اس پر سفر کرتے ہیں۔مسافروں کی زندگیوں سے کھیلتے ان رکشوں نے یقینا کوئی جادوئی ٹوپی پہن رکھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ٹریفک اہلکاروں کی آنکھوں سے بھی اوجھل رہتے ہیں جبکہ افسران ہمیشہ کی طرح کارروائی کا دعوی کرتے رہتے ہیں۔اورنگی ٹاؤن، نارتھ کراچی، سرجانی، سخی حسن چورنگی، فیڈرل بی ایریا،لیاقت آباد اور گلشن معمار سمیت شہر کے تقریبا تمام علاقوں میں چلتے یہ موت کے فرشتے چنگی رکشے کسی بھی وقت خطرناک حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -