ڈاکٹر،ڈسپنسر کا خواتین پر تشدد،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

  ڈاکٹر،ڈسپنسر کا خواتین پر تشدد،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

  

اڈاپل14(نمائندہ پاکستان)تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ڈاکٹر کا کمسن مریضہ کو چیک کرنے سے انکار 12سالہ بچی ایمرجنسی وارڈ کے باہر زمین پر درد سے ٹرپتی رہی ورثا کے پوچھنے پرڈیوٹی ڈاکٹر اور ڈسپنسر کا خواتین پر مبینہ تشدد موبائل فون چھین کر کمرہ میں بند کردیا، جھگڑے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تفصیل کے مطابق جہانیاں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جلال آباد کے رہائشی محمد وسیم والدہ کے ہمراہ اپنی بہن کو بیماری کی حالت میں چیک اپ کروانے ہسپتال لایا باربار کہنے کے باوجود ڈیوٹی ڈاکٹر نے 12سالہ بچی (ک)کو چیک نہ کیا (بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

بچی ایمرجنسی وارڈ کے باہر زمین پر بیٹھی درد سے ترپتی رہی مگر کسی نے چیک کرنا گوار نہ سمھجا ورثا کے پوچھنے پر ڈاکٹر اور مریضہ کے لواحقین میں جھگڑا ہوگیا ڈاکٹر اور ڈسپنسر نے خواتین پر مبینہ تشدد کیا اور کمرہ میں بند کردیا، متاثرہ خواتین نے 15پر کال کی پولیس موقعہ پر پہنچی میں کوئی کاروائی نہ کی الٹا متاثرین کو ہی ہسپتال سے نکال دیا بچی کیورثا نے پرائیویٹ ہسپتال جاکر علاج کروا جبکہ ایم ایس ڈاکٹر عمر غوری کا کہناہے کہ سارے معاملہ میرے علم میں ہے، سی ٹی وی فوٹیج نکل وا رہے ہیں فوٹیج دیکھنے کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے,متاثرین محمد وسیم,محمد شہزاد اور خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خانیوال,چیف سیکرٹری ہیلتھ پنجاب, کمشنر ملتان سے نوٹس لینیکا مطالبہ کیا ہے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -