وزیر اعلیٰ کا انتخاب خوش اسلوبی سے کرائیں ، جو بھی فیصلہ کریں  دوپہر 2 بجے تک بتا دیں، لاہور ہائیکورٹ 

وزیر اعلیٰ کا انتخاب خوش اسلوبی سے کرائیں ، جو بھی فیصلہ کریں  دوپہر 2 بجے تک ...
وزیر اعلیٰ کا انتخاب خوش اسلوبی سے کرائیں ، جو بھی فیصلہ کریں  دوپہر 2 بجے تک بتا دیں، لاہور ہائیکورٹ 

  

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  لاہور ہائیکورٹ نے  وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابات کیلئے  فریقین کو مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کا کہہ دیا ، عدالت نے کہا کہ دوپہر  2 بجے تک جو بھی فیصلہ ہو  وہ بتا دیں ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے  نئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے  حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کی ، دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ  16 اپریل سے قبل کیا مسئلہ ہے کیوں انتخاب نہیں ہو سکتا ؟، کل یا پرسوں جتنی جلدی ہو سکے ، وزیر اعلیٰ کا الیکشن کرائیں ۔ سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ لاء اینڈر آرڈر کا مسئلہ ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  وزیر اعلیٰ کا الیکشن جلد از جلد کرایا جانا چاہئے ،  اسمبلی میں ہونے والی توڑ پھوڑ کی مرمت کرا کر الیکشن کرائیں ۔ فریقین بیٹھ کر  بات کریں ، اگر نہیں کر سکتے تو پھر عدالت دیکھی ہے ۔

چیف جسٹس نے سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ  ہم سب اس ملک کے رہنے والے ہیں ، دنیا کے سامنے تماشہ نہیں بننا چاہئے ، آپ دوپہر 2 بجے تک فیصلہ کریں ، اگر آپ آج نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے تو کل بھی نہیں پہنچ سکتے ،  سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور امیدوار مل کر حل نکالیں ۔ آپ سب ایڈووکیٹ جنرل کے آفس میں بیٹھ کر دوپہر 2 بجے تک کسی نتیجے پر پہنچ جائیں ۔

اس سے قبل عدالت نے دوران سماعت  ریمارکس دیے کہ  جب وزیر اعلیٰ کے الیکشن کا عمل شروع ہو گیا تو اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا،  بار بار پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن میں کیوں تاخیر کی گئی ، جب وزیر اعلیٰ کے الیکشن کا عمل شروع ہو گیا تو اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا،  کیا 16 اپریل تک اجلاس ملتوی کرنے کی قانونی حیثیت ہے ۔

وکیل نےجواب دیا کہ اسمبلی رولز سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنے کا اختیار دیتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ رولز کے مطابق پڑھ کر بتائیں کیا اجلاس  ملتوی ہو سکتاہے ؟۔حمزہ شہباز کی جانب سے  درخواست میں سپیکر،ڈپٹی سپیکراوردیگرکوفریق بنایاگیاہے، درخواست میں کہا گیا کہ  یکم اپریل سےوزیراعلیٰ پنجاب کاعہدہ خالی ہے، پنجاب اسمبلی کااجلاس بلاکروزیراعلیٰ کےانتخابات کرائےجائیں، پنجاب اسمبلی کااحاطہ سیل کرنےکااقدام بھی غیرقانونی ڈکلیئرکیاجائے۔

  سیکرٹری پنجاب اسمبلی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ بھی عدالت میں موجود تھے ، پرویزالہٰی کی جانب سےبیرسٹرعلی ظفرعدالت میں پیش ہوئے ۔ 

مزید :

اہم خبریں -قومی -