آج پارلیمنٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکے قاتل اور مقتول اتحاد کی صورت میں بیٹھے ہیں: شاہ محمود قریشی 

آج پارلیمنٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکے قاتل اور مقتول اتحاد کی صورت میں بیٹھے ...
آج پارلیمنٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکے قاتل اور مقتول اتحاد کی صورت میں بیٹھے ہیں: شاہ محمود قریشی 

  

اسلا م آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا  کہنا تھا کہ آج پارلیمنٹ میں ایک طرف ملک کی ایک سوچ کی نمائندگی کرنے والا طبقہ بیٹھا اور ایک طرف ایک اتحاد بیٹھا ہے جو مختلف نظریات کا مجموعہ ہے ، آج پارلیمنٹ میں موجود اس اتحاد میں ذوالفقار علی بھٹو کے قاتل مقتول یکجا دیکھائی دے رہے ہیں انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قردار کشی کی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی نظر میں یہ اتحاد ایک غیر فطری ہے وہ اس وجہ سے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس ایون میں بہت سی جماعتیں یکجاں بیٹھی ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان میں کوئی نظریاتی ہم آہنگی نہیں ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا مفتی محمود صاحب کو اسی اتحاد کی ایک جماعت نے انہیں قومی اسمبلی سے باہر پھینکوایا تھا ۔ کون نہیں جانتا کہ سردار عطااللہ مینگل کو چکی میں پیسا گیا اور ان کو جیل میں زندگی گزارنا پڑی اور آج ان کے صاحبزادے اس ایوان میں بیٹھے ہیں اور میرااشارہ سمجھ گئے ہیں ۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں  شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج قوم کے سامنے دو راستے ہیں اورقوم کو ایک راستہ اختیار کرنا ہوگا ایک راستہ خودی کا راستہ ہے ایک غلامی کا راستہ ہے ۔ میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اپنے پارلیمنٹ کے ساتھیوں کا جنہوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل نہیں کیں ،یہ جھکے نہیں بکے نہیں ۔آج پی ٹی آئی نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے کہ اس کے نظریات نے عوام کے ذہن میں اپنا مقام بنا لیا ہے ۔ 

شاہ محمود قریشی نے شہباز شریف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ شہباز شریف آج وزیر اعظم بننے کیلئے اپنے آپ کو میدان میں اتار رہے ہیں ، کون نہیں جانتا کہ انہیں مسلط کیا جا رہا ہے اور قوم کا مینڈیٹ ان کے پاس نہیں ہے جوڑ توڑ کر کے ایک عارضی الائنس بنایا گیا جو بکھر جائے گا۔ آج کون نہیں جانتا ملک کے نامزدوزیر اعظم کی لاہور میں پیشی تھی اور ان پر فرد جرم عائد ہونا تھی۔کل شہبا زشریف زرداری صاحب سے ملنے گئے باز گشت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ بلاول کو وزیر خارجہ بنوانہ چاہتے ہیں لیکن میں کہوں گا کہ اگر بلاول شہباز شریف کی وزارت خارجہ قبول کرتے ہیں تو یہ بھٹوکے نواسے شہید بینظیر بھٹو کے بیٹے کو جچتا نہیں ہے ۔

مزید :

قومی -