پرواز میں عملے کا معذور خاتون کو پینے کا پانی تک پیش کرنے سے انکار لیکن اس کا اس کی صحت پر کیا اثر پڑا؟ افسوسناک خبر

پرواز میں عملے کا معذور خاتون کو پینے کا پانی تک پیش کرنے سے انکار لیکن اس کا ...
پرواز میں عملے کا معذور خاتون کو پینے کا پانی تک پیش کرنے سے انکار لیکن اس کا اس کی صحت پر کیا اثر پڑا؟ افسوسناک خبر

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ سے جزائر غرب الہند جانے والی ایک پرواز میں عملے نے ایک معذور خاتون کو پینے کا پانی تک دینے سے انکار کر دیا۔ دی سن کے مطابق یہ پریشان کن واقعہ ٹی یو آئی کی 9گھنٹے کی پرواز پر پیش آیا۔ برطانوی شہر کنگسٹن اپون ٹیمزکی رہائشی 49سالہ نتالی ولیمز نامی یہ خاتون اپنی 23سالہ بیٹی ایلی فشر کے ہمراہ چھٹیاں منانے جزائر غرب الہند جا رہی تھی۔ نتالی معذوری کے ساتھ ساتھ شوگر کی مریض بھی تھی اور اسے لازمی دوا کھانی تھی جس کے لیے پانی درکار تھا لیکن پرواز کے عملے نے انہیں پانی دینے سے انکار کر دیا۔

ایلی فشر نے بتایا ہے کہ جہاز کے عملے کی بدسلوکی نے ہماری چھٹیاں برباد کرکے رکھ دیں کیونکہ بروقت دوا نہ کھانے کی وجہ سے میری والدہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی اور چھٹیوں کے دن اسی ڈپریشن میں گزر گئے۔ جہاز کے عملے نے اپنی اس حرکت کا انتہائی بھونڈا جواز پیش کیا کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے پانی دینے سے قاصر ہیں۔ ڈومینیکن ری پبلک جانے والی اس پرواز کو ابھی آدھ گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ عملے نے کورونا وائرس پروٹوکول لاگو کر دیا اور مسافروں کو کوئی چیز نہیں دی۔ وباءکی وجہ سے انہیں نے قانون بنا رکھا ہے کہ وہ صرف ایک بار ڈرنک دیں گے۔ اپنا یہ قانون انہوں نے میری مریض والدہ پر بھی لاگو کیا اور انہیں دوا کھانے کے لیے پانی بھی نہیں دیا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -