بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ ملک کا قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے

بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ ملک کا قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے
بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ ملک کا قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے

  

اگر ایک عمومی سوال کیا جائے کہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو جوابات میں یقینا شامل ہوگا کہ ہتھیاروں کی دوڑ، عالمی سطح پر اجارہ داری کا مقابلہ، دنیا بھر کے موسموں میں تغیر ، آفات، تباہ کن زلزلوں کا خوف، بدترین سیلاب، سونامی ، جنگ و جدل ، خانہ جنگی، نسل کشی وغیرہ وغیرہ۔ گو کہ یہ واقعی دنیا کے بڑے بڑے مسائل ہیں ،لیکن یقینا بہت سے لوگوں کے لئے یہ بات حیرت انگیز ہوگی کہ ماہرین، دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو مانتے ہیں،کیونکہ یہ مسئلہ مزید بہت سے خوفناک مسائل کو جنم دے رہا ہے، جن میں سرفہرست وسائل اور آبادی کے درمیان عدم توازن اور دیگر ممالک کے وسائل پر قبضہ کے لئے جارحیت سرِ فہرست ہیں۔ دنیا کی آبادی بڑھانے میں ترقی پذیر ممالک بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں ،کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ترقی پذیر ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے متعلق کوئی شعور نہیں ہے اور بدقسمتی سے ہمارا ،یعنی پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں ہوتا ہے۔اگرچہ ترقی کے حوالے سے ہم عالمی درجہ بندی میں بہت پیچھے ہیں، لیکن آبادی کے حوالے سے چھٹے نمبر پر آچکے ہیں۔

 دوسری طرف جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے حوالے سے ہم 2.4فیصد کے ساتھ دنیا میں 128ویں نمبر پر، انڈسٹریل پروڈکشن گروتھ ریٹ کے حوالے سے ہم 4.90فیصد کے ساتھ 67ویں نمبرپر، بجلی کی پیداوار کے حوالے سے 33ویں نمبر پر اور شرح خواندگی کے حوالے سے 161ویں نمبر پر ہیں۔ اس حوالے سے ہم نے نہ تو کوئی پیش رفت کی ہے اور نہ ہی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کوئی پیش رفت ہونے کی امید ہے، البتہ آبادی میں شب و روز اضافے کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ پاکستان کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 2.56فیصدہے، جس میں سالانہ 1.57فیصدکی شرح سے اضافہ ہورہا ہے ۔ 1998ءکے شماریاتی سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی 13کروڑ 23لاکھ کے لگ بھگ تھی، جو سال 2011ءکے اختتام پر 17کروڑ 71لاکھ تک پہنچ گئی۔ بڑھتی ہوئی آبادی ایک ایسا ٹائم بم بن چکا ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، کیونکہ آبادی کے مقابلے میں وسائل محدود ہیں اور رہی سہی کسر کرپشن اور اقرباءپرستی نے پوری کردی ہے، جس کی بدولت دستیاب وسائل بھی چند ہاتھوں میں ہیں، جو انہیں بے دردی سے لوٹ اور لٹارہے ہیں۔ اگر حالات یہی رہے تو خدانخواستہ ہمارا مستقبل بہت مخدوش ہوگا۔

اب یہ تو ممکن نہیں کہ موجودہ آبادی کو کم کردیا جائے، مگریہ ضرور ہوسکتا ہے کہ موجودہ آبادی بوجھ بننے کے بجائے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے، لیکن اس کے لئے شرح خواندگی بڑھانا ہوگی۔ اگر اس آبادی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کردیا جائے تو یہی آبادی نہ صرف ملک کا قیمتی سرمایہ بن جائے گی، بلکہ لوگوں کے شعور میں اضافہ ہونے سے آبادی میں اضافہ خود بخود کم ہونا شروع ہوجائے گا۔ جائزہ لے لیں، زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ زیادہ سے زیادہ دو بچوں پر اکتفا کئے ہوئے ہیں، لیکن چار پانچ سو روپے دیہاڑی کمانے والے کئی مزدوروں کے سترہ سترہ بچے ہیں۔ چار پانچ سو روپے روزانہ میں ان بچوں کو تعلیم دلوانا تو بہت دور کی بات، اگر وہ شخص بچوں کی روٹی ہی پوری کرلے تو بہت بڑی بات ہے، جبکہ حکومت ہر سال وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص فنڈز کم کرکے یہ امر یقینی بنارہی ہے کہ کہیں غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کرلے۔ اب ہویہ رہا ہے کہ جو لوگ وسائل کے حامل ہیں، وہ دو بچے پیدا کررہے ہیں اور جن کے پاس وسائل نہیں ،وہ آٹھ دس اور بعض اوقات ان سے بھی زیادہ بچے پیدا کرکے ملک پر بوجھ بڑھارہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے نہ صرف ٹھوس منصوبہ بندی کرے، بلکہ تعلیم کے لئے فنڈز کم کرنے کے بجائے حتی المقدور حد تک بڑھائے ۔

 یہاں مَیں ذکر کرتا چلوں کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے تعلیم قوت کا کام کرتی ہے، لیکن اس حقیقت کے باوجود پاکستان میں تعلیمی شعبے پر کئے جانے اخراجات کبھی بھی مجموعی پیداوار(جی ڈی پی) کے 3فیصد سے نہیں بڑھے، حالانکہ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ اِن اخراجات کو 6فیصد تک پہنچائے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ تعلیم کا فروغ بغیر کسی مصالحت کے ہر حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے،کیونکہ یہی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ شرح خواندگی کے حوالے سے ہماری عالمی درجہ بندی سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کس قدر ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان میں زیادہ سے زیادہ پرائمری سکولوں کے قیام کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً6.8 ملین بچے سکولوں سے محروم ہیں۔ اُستاد اور طالبعلموں کا اوسط 1:40ہے، یعنی 40طالبعلموں کے لئے صرف ایک اُستاد موجودہے اور وہ بھی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر دوسرے کاموں پر زیادہ توجہ دیتا ہے، جیسا کہ حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ پانچ ہزار تنخواہ لینے والا استاد کیا انقلاب لائے گا؟

سری لنکا میں یہ اوسط 1:24ہے، جس کی وجہ سے وہاں شرح خواندگی 99%تک پہنچ گئی ہے ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے ہاں طالبعلموں کی تقریباً دوتہائی تعداد پرائمری کی سطح تک پہنچ کر تعلیم چھوڑ دیتی ہے، جس کی بہت سی وجوہات ہیں، جبکہ صرف ایک تہائی طالب علم تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ یہاں مَیں تجویز پیش کروں گا کہ پرائمری سکولوں میں صرف خواتین اساتذہ کا تقرر عمل میں لایا جائے، کیونکہ مرد اساتذہ کی نسبت خواتین اساتذہ طالب علموں کے ساتھ نرم رویہ رکھتی ہیں اوروہ طلباءتعلیم جاری رکھیں گے ،جو مرد اساتذہ کی مار کے خوف سے سکول چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ خواتین اساتذہ کو بھی خصوصی تربیت دی جائے، تاکہ اُن کا پیار اور محبت طالب علموں میں سکول جانے کا شوق پیدا کرے۔

مزید برآں پاکستان میں سرکاری سکولوں کا نیٹ ورک اگرچہ ہے تو بہت بڑا، لیکن یہ تباہ و برباد ہوگیا ہے، جبکہ نجی شعبے میں تعلیم اس قدر مہنگی ہے کہ ہر کوئی اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اگر حکومت سرکاری سکولوں کا نیٹ ورک بہتر کرلے تو بہت بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ اس کا سب سے بہترین حل یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کے بچے سرکاری سکولو ںمیں ہی تعلیم حاصل کریں ۔ جب اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا کسی اور اعلیٰ افسر کا بچہ کسی سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کرے گا تو وہ افسر اس سکول کی حالت سدھارنے کے لئے اپنی تمام ترتوانائیاں صرف کرے گا۔نتیجتاً تمام سرکاری سکول خود بخود ٹھیک ہوجائیںگے اور یہ سرکاری ملازمین کا اس قوم پر بہت بڑا احسان ہوگا ۔

پارلیمنٹ باقاعدہ قانون سازی کرے، جس کے تحت تمام بچوں کے لئے سکول جانا لازمی قرار دیا جائے اور سرکاری سکولوں میں مستحق بچوں کے لئے تعلیم بالکل مفت کردی جائے۔ سکولوں کے اوقات میں جو بچے سڑکوں پر گھومتے پھرتے نظر آئیں، اُن کے والدین پر جرمانہ عائد کردیا جائے یا پھر کوئی مناسب سزا دی جائے۔ ملک کی آبادی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوگئی تو وہ اسی طرح ایک بہترین سرمایہ ثابت ہوگی، جس طرح جاپان کی آبادی ہے، لہٰذا اس سلسلے میں ہر ایک کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

(کالم نگارعبدالباسط لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر، پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اور معاشی امور کے ماہر ہیں)  ٭

مزید :

کالم -