11 اگست.... یوم اقلیت

11 اگست.... یوم اقلیت
11 اگست.... یوم اقلیت

  



قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اعلان آزادی سے تین روز پہلے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران اصول مملکت و اولین مقاصد مملکت بیان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے مَیں پاکستان کی اقلیتوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک چاہے وہ کسی رنگ، ذات یا نسل یا عقیدے سے متعلق ہو، اس کا تعلق کسی فرقے سے ہی کیوں نہ ہو، وہ اول و آخر اس ریاست کا باشندہ ہوگا تمہارے حقوق و مراعات و ذمہ داریاں مشترک ہوں گی اور تم ان سب میں برابر کے حصے دار ہوگے اور آپ آزاد ہیں آپ اس لئے آزاد ہیں کہ آپ اپنے مندروں میں جائیں، آپ آزاد ہیں، آپ اس لئے آزاد ہیں کہ آپ اپنی مسجد میں جائیں یہاں پاکستان کی حدود میں کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں آپ کا تعلق کسی مذہب، کسی عقیدے یا کسی ذات سے ہو اس کا مملکت کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں یہ اصول بطور نصب العین اپنے سامنے رکھنے چاہئیں اور آپ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا، مذہبی لحاظ سے نہیں کیونکہ یہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے۔ بلکہ سیاسی لحاظ سے اس مملکت کے ایک شہری کی حیثیت سے رہے گا۔

 تحریک آزادی میں اقلیتی رہنماﺅں کی خدمات کے اعتراف میں قائد اعظم تحریک آزادی کے آغاز سے لے کر اپنی تمام حیات میں مثبت رد عمل دیتے رہے ہیں 11اگست 1947ءکے دن پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان حاصل کرنے کے مقاصد اور پاکستان کے آئین و قانون کے متعلق واضح حکمت عملی منظر عام پر آ چکی تھی، یہ دن ایک تاریخی دن ہے جس میں پاکستان کے مستقبل کے متعلق انکشافات کئے گئے، جبکہ اس تاریخی اجلاس کی صدارت تحریک پاکستان کے ہندو رہنما جوگندر ناتھ منڈل نے کی جو پاکستان کے پہلے وفاقی وزیر قانون بھی تھے، پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں وزارت قانون و وزارت خارجہ کا قلمدان تحریک آزادی کے دو اقلیتی رہنماﺅں کو سونپا گیا اس اجلاس میں آئین ساز اسمبلی نے قائد اعظمؒ کے بیان کردہ مقاصد مملکت و آئین و قانون کی تیاری کے نکات کی متفقہ منظوری دی تھی جو پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی تھے۔

 11 اگست 1947ءکے اجلاس کی مناسبت سے پاکستان کی مذہبی اقلیتوں میں، جن میں مسیحی، ہندو، بدھ مت، کیلاش، پارسی، سکھ، بہائی شامل ہیں میں اس دن کو اقلیتوں کا دن منانے سے یکسانیت پائی جاتی ہے مذہبی رہنما، لکھاری، شاعر 11 اگست کو یوم اقلیت قرار دینے کے لئے اپنی آوازیں بلند کرتے رہے ہیں، جہاں ان مذکورہ شخصیات میں اس تاریخی دن کو یوم اقلیت قرار دلوانے کی یکسانیت موجود رہی ہے وہاں اقلیتوں کے سیاسی رہنما مختلف ادوار میں اس دن کے حوالے سے مختلف رائے رکھتے رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی 11 اگست کو یوم اقلیت قرار دے کر اسے سرکاری سطح پر منانے کا مطالبہ موجود رہا ہے، لیکن مرکزی حکومتیں مذہبی اقلیتوں کے مطالبات کو نظر انداز کرنے سمیت 11 اگست کو یوم اقلیت قرار دینے سے انکاری رہی ہیں۔ اس صورت حال میں مذہبی اقلیتیں تمام تر حالات کے باوجود اپنے مساوی حقوق و فرائض کے حصول کی خاطر اپنے جائز مطالبات پر قائم رہی ہیں، اقلیتوں کے حقوق و فرائض آئینی نوعیت کے ہیں، جس کے باعث پارلیمینٹ میں ان جائز حقوق و فرائض کی بجا آوری کے لئے اقدامات کر سکتی ہے، لیکن پارلیمینٹ میں جو اقلیتوں کے نمائندے موجود چلے آ رہے ہیں، وہ ان حقوق و فرائض کی بجا آوری پر اپنے اپنے تحفظات رکھتے چلے آ رہے ہیں۔

ان اقلیتی سیاسی ارکان اسمبلی میں اقلیتوں کے مطالبات پر یکسانیت نہ ہونے کی وجہ ان ارکان اسمبلی کی پارلیمانی پارٹیوں کے اقلیتوں کے حقوق و فرائض کے بارے منشور و مقاصد ہیں جن کی پیروی کر کے یہ اقلیتی ارکان اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کو آئینی طور پر ممکن بنانے کی بجائے اپنی سیاسی بقاءکو قائم رکھتے آ رہے ہیں، لیکن 12 اکتوبر 1999ءکو ملک میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت قائم ہونے کے وقت سے حصول حقوق کی خاطر مذہبی اقلیتوں کی جانب سے جدوجہد میں تیزی آ گئی، اس دور میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے جا رہی تھی، عام انتخابات نزدیک تھے، اکثریتی سیاسی جماعتیں اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کرنے کے روایتی منشور منظر عام پر لا رہی تھیں، ان جماعتوں میں پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی اقلیتوں کے حقوق پر اپنا منشور واضح کر رکھا تھا۔ اس منشور میں 11 اگست کے دن کو یوم اقلیت قرار دینا بھی شامل تھا۔

 18 فروری 2008ءکے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی اس طرح یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے جنہوں نے اسی سال 11 اگست کو یوم اقلیت قرار دے دیا، یوں 11 اگست 2009ءکے دن وفاقی وزارت اقلیتی امور کے زیر انتظام پہلے سرکاری یوم اقلیت کی تقریب ڈریم لینڈ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوئی، اس روز مرکزی حکومت نے یوم اقلیت کی مناسبت سے یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جا رہی کئے، وزارت کی جانب سے تمام بڑی جماعتوں کے ارکان اسمبلی سمیت اقلیتی مذہبی رہنماﺅں کو مدعو کیا گیا، وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کی زیر صدارت اس تقریب میں کیتھولک بشپ راولپنڈی ڈاﺅسیس انتھنی لوبو، پروٹسٹنٹ بشپ ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک لاہور ڈاﺅسیس۔ اُس وقت ارکان پارلیمینٹ سینٹر جہانگیر بدر پیپلزپارٹی، فاروق ستار ایم کیو ایم، انجم عقیل خان مسلم لیگ (ن) مس نوشین سعید، مسلم لیگ (ق) پرویز خان عوامی نیشنل پارٹی، سینٹر اعظم خان سواتی جمعیت علماءاسلام، ڈاکٹر مہش کمار ملانی پیپلزپارٹی شریک ہوئے۔ انہوں نے اس تقریب میں پیش کردہ یوم اقلیت کی قرارداد پر متفقہ طور پر اپنی اپنی پارلیمانی جماعت کی جانب سے حمایت تحریر کی تھی۔ ان سمیت سابق وفاقی وزیر قانون و انصاف سید اقبال حیدر رہنما انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان، مولانا سید عبدالخبیر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور، اُس وقت پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے نامزد تین اقلیتی ارکان شریک ہوئے۔

 2010ءکے یوم اقلیت کی تقریب اُس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری کی صدارت میں ایوان صدر میں ہونا طے پائی تھی جو منعقد نہ ہو سکی، تاہم 11 اگست 2011ءکو ان کی صدارت میں ایوان صدر میں مذکورہ تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر مملکت وزارت بین المذاہب قومی ہم آہنگی اکرم گل، مشیر وزیر اعظم ڈاکٹر پال بھٹی سمیت مذہبی و سیاسی رہنما شریک ہوئے 2012ءپیپلزپارٹی کی حکومت کا آخری سال تھا جس میں ایسی کوئی تقریب منعقد نہ کی گئی 11 مئی 2013ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) مرکزی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، اس جماعت کے انتخابی منشور میں یوم اقلیت منانے کا نکتہ موجود تھا لیکن 11 اگست 2013ءکو سرکاری سطح پر ایسی کوئی تقریب منعقد نہ کی گئی تاہم وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف نے اس روز اپنے پیغام میں اقرار کیا کہ 11 اگست کا دن قائداعظمؒ کی بصیرت کو اجاگر کرتا ہے، جس کا اظہار انہوں نے 11 اگست 1947ءکو آئین ساز اسمبلی میں اپنے مقاصد مملکت کے تحت خطاب میں کیا تھا کہ تمام شہریوں کے حقوق و فرائض برابر ہوں گے ایسا ہی پیغام پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو و شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اس روز عام کیا، یوم اقلیت کا دن تحریک آزادی میں اقلیتوں کی عظیم قربانیوں و خدمات کی یاد دلاتا ہے، جو طویل جدوجہد کے بعد رائج ہوا ہے یہ دن تمام مذہبی اقلیتوں کی امنگوں کا ترجمان ہے کیونکہ یہ دن تاریخ پاکستان میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے جسے ہر سال 11 اگست کے دن بھرپور طریقے سے منایا جاناچاہئے۔ ”اہل وطن کو یوم اقلیت مبارک ہو!“

مزید : کالم