طرز حکمرانی

طرز حکمرانی
طرز حکمرانی

  



2013ءکے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار آئی، تو ملک گیر تاثر یہ تھا کہ اپنے انتخابی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس سے پہلے آنے والی حکومتوں کے مقابلے میں طرز حکمرانی میں قابل دید بہتری کا مظاہرہ کرے گی۔ خصوصی طور پر ملک کے پسے ہوئے طبقات اُمید کررہے تھے کہ میاں نواز شریف سالہا سال کی اپنی پریشانیوں اور محرومیوں کے علی الرغم اپنی حکومت کے طور طریقے اس حد تک بہتر بنائیں گے کہ عام آدمی کے لئے آسانی اور آسودگی کا کچھ سامان ہوسکے گا۔ ملک کے دیگر طبقات میں سے بھی اکثریت اسی تاثر کے زیر اثر تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت تو بن گئی، لیکن ابھی تک ایک سال کی حکمرانی کے باوجود عوامی توقعات کی پذیرائی نہیں ہو سکی۔ اس ضمن میں مختلف اطراف سے بہت کچھ کہا گیا ، لکھا گیا اورمباحث چل رہے ہیں، لیکن ابھی تک ایسا تجزیہ نہیں ہوسکا کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اتنے بھاری مینڈیٹ کے باوجود حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس ضمن میں حکومت کا استدلال اگرچہ یہ ہے کہ اس نے معاشی میدان میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک کو ایسی معاشی شاہراہ پر ڈال دیا ہے جس کا راستہ سیدھا خوشحالی کی طرف جاتا ہے۔ یہ کہاں تک سچ ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اگرمعاشی طور پر درست سمت میں سفر کا آغاز ہو چکا ہے تو ایک سال کے عرصے میں کیا محروم طبقات کی حالت زار میں بھی بہتری کے آثار نظر آ رہے ؟ بد قسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ ملک کے غربت اور عسرت کی لائن سے نیچے زندگی گزارنے والے 50 فیصد سے زائد عوام اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ مجبور و مقہور کیوں پاتے ہیں ؟ مہنگائی نے اس طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کا خود حکومتی ترجمان نے پاکستان میڈیا کے ذریعے اعتراف کیا ہے ۔وزیر خزانہ کی طرف سے پریس میں کئے گئے ایک استفسار کے مطابق افراط زر کی شرح اس سال کے درمیان 8.6فیصد رہی، جبکہ پچھلے سال یہ شرح 7.4 فیصد تھی۔ مہنگائی کے اس طوفان نے اس غریب طبقے کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی بیروزگاری نے غربت کے اس شکنجے کو مزید کس دیا ہے۔ سرمایہ کاری میں کمی ہوئی اور غیر ملکی سرمایہ داروں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے،اسی طرح انڈسٹریل سیکٹر میں مزید پھیلاﺅ نہ ہونے کی وجہ سے روز گار کے مواقع بڑھتی ہوئی آبادی کی نسبت کم ہوئے ہیں۔ انرجی بحران نے انڈسٹریل سیکٹر کو مزید سکڑنے پر مجبور کردیا ہے اور صنعتوں کا چلتا ہوا پہیہ رکتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ان حالات کے ہوتے ہوئے حکومت کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ انرجی بحران مزید بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بجلی کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ جون کے مہینے سے بجلی کی قیمتوں میں 6روپے فی یونٹ اضافے نے بے چینی کی اس لہر کو مزید مہمیزدی ہے۔

اگر امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھا جائے تو معاملات میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آتے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ معاشی ترقی کا جو خواب دکھایا جارہا ہے، وہ ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ یوم آزادی کے حوالے سے داخلی سلامتی کو درپیش خطرات نے بے یقینی کی اس صورت حال میں اضافہ کردیا ہے۔ آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کا شورو غوغا ہے اور ملک میں ہر چیز ساکت نظر آرہی ہے۔ حکومت صورت حال سے جس طرح عہدہ برآ ہونے کی کوشش کر رہی ہے، لگتا ہے کہ وہ خود اعتمادی سے بالکل محروم ہوچکی ہے۔ سیاسی فیصلوں کا فقدان ہے اور معاملات کو انتظامی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ داخلی بدامنی کے ہوتے ہوئے معاشی بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے؟ حکومت کے طرز عمل نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے ۔ سیاسی اور سول اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے شخصی فیصلوںکو ترجیح دی جا رہی ہے۔

 میاں محمد نواز شریف کے طرز حکمرانی کی سب سے بڑی کمزوری اداروں کی بجائے شخصیات پر انحصارکی پالیسی ہے۔ سیاسی فیصلوں کے لئے اگر سیاسی انداز اپنایا جاتا تو داخلی امن کو جو خطرات درپیش ہیں، وہ لاحق نہ ہوتے۔ احتجاجی سیاست کرنے والوں کے ساتھ سیاسی انداز سے نمٹا جاتا تو آج ہم بند گلی میں نہ پہنچے ہوتے۔ جب تک حکومت اپنے طرز حکمرانی میں جوہری تبدیلی نہیں لائے گی اس وقت تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ داخلی اور خارجی معاملات میں حکومت کو اپنا انداز فکر تبدیل کرنا چاہئے۔ کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف معاملات کو پارلیمنٹ کے ذریعہ حل کرے، لیکن کیا حکومت خود ایسا کرنے کے لئے سنجیدہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ خود وزیراعظم پارلیمنٹ کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ایوانوں میں چودہ ماہ کے عرصے میں خود کتنی بار شرکت کی ہے۔ حکومت کے وزراءکا رویہ بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اداروں کی مضبوطی میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے برعکس مخالف سیاسی رہنماﺅں کو کہا جارہا ہے کہ وہ ایسے معاملات سیاسی انداز میں پارلیمنٹ کے اندر حل کرنے کے لئے پیش کریں.... قول و فعل کے اس تصاد کا نتیجہ کیا برآمد ہوسکتا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔

گزشتہ ایک سال سے زائد کی حکومتی کارکردگی سے عیاں ہے کہ اسے اداروں کی مضبوطی سے کوئی دلچسپی نہیں معاشی خود انحصاری کا جو ڈھول پیٹا جا رہا ہے وہ تبھی پورا ہو گا، جب داخلی طور پر ملک میں امن وآشتی کا دور دورہ ہوگا۔ اس کے لئے اداروں کو مضبوط بنانا اورخود انحصاری کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا، جس کا فقدان نظر آرہا ہے، معاشی ترقی کے ذریعے ملک کو خوش حال بنانا خواب ہی رہے گا ۔حکومت کو مخالفین کی باتوں کو برداشت کرنا ہوگا ، ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ آگے بڑھنے سے معاشی اہداف کا حصول ناممکن رہے گا۔ اگر داخلی امن و امان کودرپیش خطرات موجود رہیں گے، تو خارجی سرمایہ کار کس طرح ہماری معیشت کا ہاتھ بٹائیں گے۔ بیرونی سرمایہ کاری کا انحصار داخلی سلامتی پر ہوتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کار تو ایک طرف، ملک کے اندر سے سرمایہ کاری کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں، جبکہ ملکی سرمایہ کار بھی بیرونِ ملک سرمایہ کاری کو اہمیت دے رہے ہیں۔ اس سے بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور غربت بڑھ رہی ہے، کیونکہ غربت میں کمی روزگار میں اضافہ کر کے ہی ہوسکتی ہے ۔ یہی خوشحالی کا زینہ ہے، جس سے حکومت اس وقت کترا رہی ہے ۔

 اگر نیشنل سیکیورٹی کو مضبوط نہ کیا گیا اور داخلی سلامتی کے لئے اسی طرح خطرات موجود رہے اور حکومت کی خود اعتمادی میں اضافہ نہ ہوا، تو پچپن (55) فیصد آبادی کے غربت کے مسائل کم نہیں ہو سکیں گے ،اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اپنے طرز حکمرانی میں تبدیلی پیدا کرے اور ذاتی فیصلوں کی بجائے اداروں کی مضبوطی کے لئے اقدامات کرے۔ اہم قومی معاملات میں اپنی صفوں میں اتفاق پیدا کیا جائے، جس کا اس وقت فقدان ہے، کیونکہ وزیراعظم صاحب کئی معاملات میں اپنے رفقاءسے الگ نظر آتے ہیں۔ پوری حکومتی ٹیم میں سنجیدگی کا عنصر عنقا ہے اس سے نجات حاصل کی جائے، کیونکہ وقت کا پہیہ پہلے ہی معاشرے کے ایک بڑے طبقے کو مصائب سے دو چار کر چکا ہے اس سے نکلنا ضروری ہے وگرنہ اتنی دیر ہو جائے گی کہ کوئی تدبیر کارگر نہ ہو گی۔ اس لئے فیصلہ سازی میں شخصی انداز فکر سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا اس سے بھی بڑھ کر ہر اہم فیصلہ تاخیر سے کرنے کے رجحان سے بچنا ہوگا۔ ماضی قریب میں شخصی فیصلوں کی وجہ سے سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن بھی پیدا ہو چکا ہے اور اس سے جمہوری اور اقدار کو خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔مخالفین کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت برداشت کا کلچر پیدا کیا جائے۔ وگرنہ جمہوری اقدار کو بچانا مشکل ہو گا۔ حکومت کے اکابر کو مختلف سمتوں میں سوچنے اور عمل کرنے سے گریز کرنا ہو گا اور اداروں کو ایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے قوم ایک بڑی جنگ لڑ رہی ہے، اس میں بھی حکومتی اکابرین کی سوچ میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ داخلی صورت حال کو مزید بگاڑ سے بچانے کے لئے حکومتی اراکین کو صبرو برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اس وقت ملک کو اس برداشت کے کلچر کی جتنی ضرورت ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی، حکومتی اراکین اس بات پر مامور نظر آتے ہیں کہ ملک کے اندر سیاسی درجہ حرارت کو بڑھایا جائے ۔ کیا ایسے رویہ سے داخلی امن قائم ہوسکتا ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں کامیابی ہوسکتی ہے؟ اس سے پہلے بھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ جنگ ہر صورت میں ہمیں جیتنا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہماری سلامتی منسلک ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ سیاسی شعور کا تقاضہ ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ تعلقات کو مزید مکدر نہ بنایا جائے۔ سیاسی شعور کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ یہی مسلم لیگ (ن) کا المیہ ہے کہ اس کے زعماءاپنی ذات سے اوپر اٹھ کر سوچنے کے عادی نہیں ہیں اگر اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کرکے آگے بڑھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اور داخلی سلامتی کو جو خطرات آج لاحق ہیں ان سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ خاص طور پر اس وقت جبکہ حکومت کا ایجنڈا معاشی ترقی کا حصول ہے، تو اس کے لئے طرز حکمرانی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ وگرنہ عوام کے اندر پائی جانے والی بے چینی مزید بڑھے گی اور یہ حکومت کے لئے نیک شگون نہیں ہو گا۔ خدا کرے کہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے اور ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے ایجنڈے میں کامیاب ہو،کیونکہ مزید معاشی بدحالی ایسے انقلاب کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے، جس کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔ تاریخ سے سبق حاصل کرنے والی قومیں ترقی کے زینے پر چڑھ چکی ہیں، ہمیں ان کی پیروی کرنا ہوگی، وگرنہ وقت کا پہیہ ہمیں کچل سکتا ہے ۔

مزید : کالم