پاک بھارت مشترکہ بزنس فورم کے چوتھے اجلاس کا نئی دہلی میں انعقاد

پاک بھارت مشترکہ بزنس فورم کے چوتھے اجلاس کا نئی دہلی میں انعقاد

  



کراچی(آن لائن) پاکستان،بھارت مشترکہ بزنس فورم کو چوتھا اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے صنعتکاروں نے زراعت اور توانائی پر قائم کی گئی ٹاسک فورسز کی جانب سے کی گئی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر مشترکہ بزنس فورم کے بھارتی چیئرمین سنیل کانت منجل نے کہا کہ توانائی کی بطور ہائی پوٹینشل ایریا نشاندہی کی گئی ہے جس کے تحت ہم پاکستان کو بجلی برآمدکرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اس کے عیوض کوئلے جیسا خام مال حاصل کریں گے۔ یاد رہے کہ آئی پی جے بی ایف گورنمنٹ نوٹایفائیڈ باڈی ہے جس کے ارکان نجی شعبے کے ارکان ہے، اس کا قیام دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کاروباری تعلقات کو وسعت دینے کے لیے 2012 میں عمل میں لایا گیا تھا۔آئی پی جے بی ایف نے 10 شعبوں بشمول زراعت، آٹوموٹیو وانجینئرنگ، کیمیکل و پٹروکیمیکل، انفرااسٹرکچر، فارماسیوٹیکلز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، تعلیم و فنی تربیت، ہیلتھ کیر اور تصفیہ تنازع وتجارتی سہولت میں تعاون کی نشاندہی اور اس پرکام کرنے کے لیے ٹاسک فورسز قائم کیں جو اپنی اپنی حکومتوں کو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت وسرمایہ کاری بڑھانے کے لیے تجاویز اور سفارشات پیش کریں گی۔

رپورٹس کے مطابق بزنس فورم میں دونوں ممالک کے کاروباری رہنماو¿ں نے ویزا قوانین آسان بنانے پر زور دیا۔ فورم کے اختتام صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انڈیاپاکستان مشترکہ بزنس فورم کے شریک پاکستانی چیئرمین یاور علی شاہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی نان ٹیرف رکاوٹ ویزا کا معاملہ ہے، کاروباری افراد ملیں گے نہیں تو کاروبار کیسے کریں گے، ویزا ریجیم ایک اہم شعبہ ہے اور اسے کھولنے کی ضرورت ہے۔ سنیل کانت منجل نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کیلیے تاجروں کو ایک سال کے لیے ملٹی پل انٹری بزنس ویزا جاری کیا جائے، یہ ویزا کسی مخصوص شہر کے لیے نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی پولیس رپورٹنگ کی ضرورت ہونی چاہیے۔تاجروں کے ملک میں آنے اور جانے کے لیے بھی کوئی مخصوص جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ فورم اجلاس کے دوران بلاامتیاز مارکیٹ رسائی، بزنس ویزا رجیم میں نرمی اور نان ٹیرف بیریئرز کے خاتمے پر غور کیا گیا۔ چیئرمین پاکستان بزنس کونسل سکندر ایم خان نے کہاکہ ہم ان آٹو پارٹس کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بھارت پاکستان کو برآمد کرسکتا ہے اور جو دیگر ممالک پاکستان کو پہلے ہی ایکسپورٹ کر ر ہے ہیں تاہم دونوں ملکوں کے درمیان بینک برانچز کھولنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔اس موقع پر یاور علی شاہ نے کہا کہ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے حوالے سے کام مکمل ہوچکا ہے، رسمی کاروائیاں کر لی گئی ہیں اس لیے یہ وقت کا معاملہ ہے کہ جب دونوں حکومتیں ملیں گی اور اس کے لیے صحیح فورم بھی موجود ہوگا تو میرے خیال میں یہ اب ایشو نہیں رہا، پاکستانی بزنس کمیونٹی پہلے ہی بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کی حمایت کر چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کی ملاقات کے بعد سیکریٹری تجارت کی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔ سنیل کانت منجل نے آٹو سیکٹر کے بارے میں کہا کہ ٹاسک فورس نے اس حوالے سے منفی فہرست میں کمی کے لیے سفارشات تیار کرلی ہیں۔سکندر ایم خان نے کہا کہ بھارت نے منفی فہرست سے نکالنے کے لیے آٹو پارٹس کی فہرست دی ہے ہم اس کا آئندہ 2 ماہ میں جائزہ لے کر ان کی نشاندہی کریں گے۔ یاور علی شان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے بھی سوچنا چاہیے۔

مزید : کامرس