پٹرول کی بندش سے خزانے کو 45 ارب نقصان کا خدشہ

پٹرول کی بندش سے خزانے کو 45 ارب نقصان کا خدشہ
پٹرول کی بندش سے خزانے کو 45 ارب نقصان کا خدشہ

  



لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے انقلاب و آزادی مارچ کی وجہ سے ملک بھر کی طرح پنجاب سمیت اسلام آباد اور دوسرے صوبوں میں پٹرول کی سپلائی رکنے سے اندرونی و بیرونی تجارت اور قومی خزانے میں جانے والے ٹیکسوں کی مد میں 40 سے 45 ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے، پٹرول پمپ مالکان روزانہ دو ارب روپے کا پٹرول فروخت نہیں کرپائیں گے۔ پٹرول کی بندش سے مسافروں اور فیکٹری مالکان کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پٹرول کی عدم دستیابی سے سب سے زیادہ تکلیف پنجاب کے عوام کو درپیش ہے جہاں گزشتہ دو روز سے پٹرول کی سپلائی بند ہے۔ ہر ضلعی انتظامیہ نے پٹرول پمپ مالکان سے میٹنگ کراکے ان کو پمپ بند کرنے کے احکامات دئیے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں 5500 سے زائد پٹرول پمپ ہیں جن پر روزانہ 1 سے ڈیڑھ کروڑ لیٹر پٹرول، ڈیزل اور دوسری مصنوعات فروخت ہوتی ہیں لیکن گزشتہ روز تمام پٹرول پمپ بند ہونے کے بعد کسی صارف کو ایک لیٹر پٹرول بھی دستیاب نہیں ہوا۔ لاہور میں 350 کے قریب پمپ ہیں جن پر روزانہ 32 کروڑ روپے مالیت کی 25 لاکھ لیٹر پٹرولیم مصنوعات لائی جاتی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی عدم دستیابی سے عام صارفین کے علاوہ فیکٹری مالکان کو بھی لوڈشیڈنگ کے دوران اپنی جنریٹر چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

مزید : بزنس