مویشی منڈیوں کا نظام مینجمنٹ کمیٹیوں کے حوالے کرنے سے خزانے کو ماہانہ 2کروڑ کا نقصان

مویشی منڈیوں کا نظام مینجمنٹ کمیٹیوں کے حوالے کرنے سے خزانے کو ماہانہ 2کروڑ ...

                       لاہور ( اسد اقبال سے)صو بائی دارالحکو مت سمیت پنجاب بھر میں مو یشی منڈیو ں کاٹھیکیداری نظا م ختم کر نے کے بعد مو یشی منڈیو ں کی خریدو فروخت کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمیٹیو ں کے حوالے کر نے سے حکو مت کو سالا نہ اربو ں روپے نقصان اٹھا نا پڑے گا جبکہ اس نئے نظا م سے بیو پاریو ں سمیت خر یدار بھی ایک نئے مخمصے اور الجھن کا شکار ہو نے لگے ہیں ۔بیو پاریو ں کو لاہور کی مو یشی منڈیوں میں چھو ٹا و بڑا مال خریدنے کے حوالے سے درپیش مسائل پر تو جہ نہ دی گئی تو اربو ں روپے سے قائم کردہ مویشی منڈیا ں اور سلا ٹر ہاﺅ س نا کارہ ہو کر رہ جائیں گے دوسر ی جانب حکو مت کی جانب سے مویشی منڈیوں کا نظام کیٹل مینجمنٹ کے سپرد کرنے سے پنجاب کے لاکھو ں افراد کا روزگار متاثر ہو نے کے پیش نظر بیو پاریو ں اور ٹھیکیداروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطا لبہ کیا ہے کہ پرانے نظام کو بحال کرے تاکہ روزگار کے مو اقع وسیع اور حکومتی ریو نیو میں اربو ںروپے کا اضافہ ممکن ہو سکے ۔ بتا یا گیا ہے کہ لاہور میں قائم سب سے بڑی مو یشی منڈی شاہ پور کانجراں اہمیت کی حامل ہے جہا ں پر روزانہ لاکھو ں چھوٹے و بڑے جانوروں کی خر یدو فروخت کے لیے پنجاب بھر سے بیو پاری آتے ہیں ۔ جن کو اس وقت کئی ایک مسائل کا سامنا لا حق ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مویشی منڈیو ں کا نظا م کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمیٹیو ں کے حوالے ہو نے کے بعد بیو پاریو ں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے جس کی وجہ مو یشی منڈیو ں کے نظام میں بہتری نہ ہے منڈیو ں میں جانور نہ ہو نے کے بر ابر لائے جارہے ہیں ۔اور خر یدو فروخت کر نے والے بیو پاریو ں کو پارکنگ ، ما ل لو ڈ اور ان لو ڈ کر نے کے من چاہی فیس ، چارہ ، کھر لی ، شامیانے ودیگر لو ازمات پر عائد مختص رقم سے مسائل کا سامنا ہے جس کے پیش نظر شاہ پور کانجراں مو یشی منڈی میں مال کی خر یدوفروخت کا تناسب 50فیصد سے بھی کم ہے ۔ روزنامہ پاکستان سے خصو صی گفتگو کر تے ہوئے سابق ٹھیکیدار اور ٹھیکیدار ایسو سی ایشن کے رہنماءحاجی اسماعیل کا کہنا ہے کہ مو یشی منڈیو ں کا قیا م کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیو ں کے حوالے کر نے سے پنجاب حکو مت کو سالا نہ 50ارب کا نقصان ہو گا ۔ اور لاکھو ں بیو پاریوں کی ایڈوانس رقم ڈو بنے کا اندیشہ لا حق ہو گیا ہے ۔ انھو ں نے بتا یا کہ شاہ پور کانجراں منڈی اور سلا ٹر ہاﺅ س کے قیام پر اربو ں روپے کی خطیر رقم کا استعمال کیا گیا ہے اور ٹھکیداری نظام کے تحت شاہ پور کانجراں منڈی کا سالانہ ٹھیکہ 25کروڑ روپے تھااور فی ہفتہ 52لا کھ روپے حکو متی خزانہ میں جمع کروائے جاتے تھے ۔جبکہ اب ٹی او ایف اقبال ٹاﺅ ن 25ہزار روپے جمع کروا رہا ہے اسی طر ح کو ٹ کمبو ہ منڈی کا ٹھیکہ 5کروڑ روپے تھا جس سے اب نہ ہو نے کے برابر رقم آتی ہے ۔ حاجی اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شر یف ہوش کے ناخن لیں اور مو یشی منڈیو ں کا ٹھیکیداری نظام بحال کر ے تاکہ لاکھو ں افراد کو معاشی قتل سے بچا یا جا سکے اور اس کے بر عکس حکو متی ریو نیو میں بھی پنجاب بھر سے اربو ں روپے کا اضافہ ممکن ہو سکے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1