حکومت ہوش کے ناخن لے اور پُرتشدد کارروائیوں سے باز آجائے، وسیم اختر

حکومت ہوش کے ناخن لے اور پُرتشدد کارروائیوں سے باز آجائے، وسیم اختر

  



سلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے پٹرول پمپوں کی بندش،اہم راستوں کوکنٹینرز کے ذریعے بند،عوامی مشکلات میں اضافے،سیکیورٹی کے نام پر بے گناہوں کی پکڑدھکڑ،لاہورشہر کے داخلی راستے بند ہونے سے مسافرخواراور ایمبولینس تک کو مریضوں کولے کر ہسپتالوں میں نہ جانے دینے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور پرتشدد کارروائیوں سے باز آجائے۔احتجاج کرناکسی بھی شخص یاجماعت کا آئینی وقانونی حق ہوتا ہے انتظامیہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے حالات کو مزید خراب کررہی ہے۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کو انارکی کی طرف دھکیلا جارہاہے پاکستان کی آزادی،خودمختاری اور سلامتی سب کچھ داﺅ پر لگ چکاہے انہوں نے کہاکہ لاہورسمیت پورے صوبے میں پٹرول نایاب ہوچکااور اہم راستے بند کردئیے گئے ہیں عوام ذلیل وخوار ہورہے ہیں درپیش مسائل کا مثبت اور فی الفور حل نکالناملکی بقاءکے لئے انتہائی ناگزیر ہوگیاہے کنٹینرزلگا کر سڑکیں بلاک کرنے سے ملکی معیشت کو یومیہ20کروڑ روپے کانقصان ہورہاہے ڈاکٹر سیدوسیم اختر نے مزید کہاکہ14اگست یوم آزادی کادن ہے اس دن انتشار پھیلانے اور سیاسی مفادات کے حصول کی بجائے ملکی سلامتی کےلئے دعائیں مانگنی چاہئیں۔سیاسی قائدین قومی دن کے موقع پر قوم کو خوشیاں منانے دیں۔خندقیں کھودکر،کنٹینرزلگاکراور دفعہ144لگاکر اسلام آباد کو راولپنڈی سے جداکردیا گیا ہے۔جماعت اسلامی جمہوریت کے استحکام اور سیاسی مفاہمت کے لئے اپناکردار اداکررہی ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزیدکہاکہ عمران خان اور طاہر القادری اپنے کارکنوں کو قانون اپنے ہاتھوں میں لینے سے منع کریں۔پولیس پر دھاوابولنا،اہلکاروں پر تشدد کرنا،ان سے اسلحہ چھیننا،تھانوں پر حملہ کرنا،پولیس وین پر ڈنڈوںسے حملہ کرکے نقصان پہنچاناکسی بھی طور مناسب اور موزوں نہیںاورنہ ہی اسے پسندیدہ قرار دیاجاسکتاہے۔فریقین اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب کریں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1