پاکستان بھارت میں در اندازی نہیں کر رہا

پاکستان بھارت میں در اندازی نہیں کر رہا
پاکستان بھارت میں در اندازی نہیں کر رہا

  



بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے بھارتی فوج کو ہدایت کی ہے کنٹرول لائن پر کسی قسم کی دراندازی کا دندان شکن جواب دیا جائے۔ پاکستان کنٹرول لائن پر کشیدگی پھیلا کر ہمارے صبر کا امتحان نہ لے ۔بھارت اپنی سرحدوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر ا±جاگر کرنے کے لئے کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور فائرنگ کی آڑ میں مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے الزام عائد کیا کہ لائن آف کنٹرول پر صورت حال کشیدہ ہے اور پاکستانی فوج بلاجواز فائرنگ کر رہی ہے۔ وزیر دفاع نے فوج کو کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایت دی اور کہاکہ فوج کو یہ اختیارات دے دیئے ہیں کہ وہ مناسب طریقے سے پاکستانی جارحیت کا دندان شکن جواب دے اور ماحول اور وقت کی مناسبت سے ہی جوابی کارروائی کریں تاکہ اس پار بھی یہ پیغام چلا جائے کہ بھارت اپنی سرحدوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس سے قبل بھارتی حکومت نے فوج کی جانب سے کیرن سیکٹر میں پاکستان کی طرف سے در اندازوں کے داخلے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے رپورٹ میں بھارتی فوج کے تمام جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارتی فوج سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان کیساتھ ملنے والی سرحد کے قریب داخلی علاقے میں مورچہ بندی کرے تا کہ در اندازی کی کوشش کرنے والوں کو پھنسایا جا سکے۔ سپیشل فورسز کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اکتوبر میں پاکستان سے بڑے پیمانے پر در اندازی ہوئی اور پاکستانی فورسز کے حمایت یافتہ دراندازوں نے ایک گاﺅں شالا بھالو پر بھی قبضہ کر لیا، جس کا قبضہ چھڑوانے کے لئے بھارتی فوج کا کیرن سیکٹر میں 15دن سے زائد تک بھی آپریشن جاری رہا۔ رپورٹ کے مطابق بعض حکام کی طرف سے یہ بھی کہا کہ کیرن سیکٹر آپریشن پر فوج نے جھوٹ بولا اور یہ محض ایک ڈرامہ تھا۔

بھارت کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے مجرموں کو کٹہرے میں لائے اور امریکہ و بھارت نے القاعدہ اور لشکر طیبہ کو تتربتر کرنے کا عہد کیا ہے۔ بھارت نے حسب دستور ممبئی حملوں میں پہلی گولی چلتے ہی اس کا الزام جماعت الدعوہ کی قیادت پر لگایا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی عائد کی گئی پابندی کو پاکستان میں بھی لاگو کیا گیا۔ معاملہ عدالت گیا، جس نے بھارتی الزامات کا ٹھوس ثبوت نہ پاتے ہوئے کیس میں مبینہ مجرمان کو بری کر دیا۔ اجمل قصاب کو ممبئی حملوں کا مجرم قرار دے کر پھانسی لگا دی گئی ہے۔ اس سے پاکستان کے جوڈیشل کمیشن کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ امریکہ نے ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارت کے بے سروپا الزامات پر اتفاق تو کرلیا اسے سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی پر بات کرنا کیوں یاد نہیں رہی، جس میں درجنوں انسان زندہ جل گئے اس کا الزام بھی پاکستان پر لگا بعد میں ثابت ہوا کہ بھارت کی فوجی ایجنسی کی سازش تھی، جو کرنل پروہت نے ترتیب دی۔

ادھر نئے بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیرسنگھ کے بھی بارہ بجتے نظر آئے۔ انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالتے ہی ڈیڑھ دو سال قبل کے بے بنیاد واقعے کو دہرانا ضروری سمجھا، جس میں ایک بھارتی فوجی کا سر قلم کردیا گیا اور اس کا الزام بھارتی میڈیا اور حکام نے اپنی فطرت کے مطابق پاکستان پر عائد کیا۔ سردار جرنیل نے اب اس کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ پاکستان کو جارح اور خود کو مظلوم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جارحیت برداشت نہیں کریں گے، کیا مظلوم ایسی زبان استعمال کرتے ہیں؟

 بھارتی حکمرانوں، سیاست دانوں اور جرنیلوں کی زبان پر پاکستان کے خلاف انگارے، آنکھوں میں خون اور رویے میں جو اشتعال ہے، اس کا سبب ہمارے حکمرانوں کے دفاعی رویے ہیں۔ بھارت میں پٹاخہ بھی پھوٹتا ہے، تو اس کا الزام پاکستان پر لگا کر پوری دنیا میں پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں ملوث ہے، کشمیر سنگھ سربجیت سنگھ اور سرجیت سنگھ جیسے دہشت گرد بھارت میں پکڑے جاتے، تو وہ کیا کیا طوفان کھڑا کر دیتا۔ بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کے پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں شاید ان کے لیک ہونے کا خدشہ ہے کہ وہ دنیا کے سامنے نہیں رکھے جاتے۔ بھارت کی فوج کا سائز اور دفاعی بجٹ کا حجم پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا ہے۔ اس کے اسلحہ کے ذخائر بھی پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا ہیں اور وہ مزید مہلک اسلحہ خرید رہا ہے، بلکہ اسلحہ کی فیکٹریاں لگانے کے کئی ممالک سے معاہدہ بھی کر چکا ہے۔ خطے میں اس کا پاکستان کے سوا دشمن کون ہے، جس کے لئے وہ جنگی تیاریوں میں سرگرم رہتا ہے۔ ہماری قیادت بھارت سے سبق سیکھے کہ عالمی سطح پرہمدردیاں حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ حریف کی سٹرٹیجی اچھی ہو تو اس پر تنقید کے بجائے بہتر ہے کہ اسے اپنالیا جائے۔بھارت کی کبھی ایک زبان نہیں ہوتی۔ اپنے سیاسی قد کاٹھ کو بڑھانے کے لئے بھارت بے پر کی اڑاتا ہے۔

مزید : کالم