کراچی میں عید!

کراچی میں عید!

  



کراچی میں عید اس بار کچھ اس انداز میں منائی گئی کہ پورے شہر میں تقریباً ایک ہفتے تک رات دن میلے کا سا گمان رہا۔ عید کی رونقیں تو رمضان کے آخری عشرے میں ہی نمایاں ہونا شروع ہو گئی تھیں اور بے لگام مہنگائی کے باوجود بازار گاہکوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے، بلکہ ہر بازار کے ساتھ حسب روایت کئی عارضی بازار بھی لگ گئے تھے، جن پر ہر وقت خریداروںکا جم گھٹا لگا رہتا تھا۔ چاند رات کو مہندی لگوانے کے لئے پارلروں پر اپوئنٹ منٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، کئی کئی گھنٹوں بعد ملتی تھیں، جبکہ چوڑیوں کے سٹالوں پر لڑکیوں اور عورتوں کا وہ رش تھا کہ خدا کی پناہ۔ اگر کوئی رات دیر گئے تک یہ سوچ کر بازار کا رُخ کرتا کہ اب تو رش کم ہو گیا ہو گا، سخت مایوس ہو کر لوٹتا۔ عید سے پہلے اگر بازاروں میں گاہکوں کا تانتا بندھا ہوا تھا، تو عید کے بعد پانچ دن تک سڑکوں پر گاڑیوں کی بھیڑ رہی۔ ہر سڑک گاڑیوں سے کھچا کھج بھری ہوئی نظر آتی تھی اور اسی تناسب سے ٹریفک بھی رینگ رینگ کر چلتی تھی۔

 شہر بھر میں تقریباً24گھنٹے کی چہل پہل کا ماحول دیکھ کر یوں لگا جیسے کراچی کی رونقیں بالآخر واپس لوٹ آئی ہوں.... اللہ نظر بد سے بچائے.... روشنیوں کے شہر کی جگمگاہٹ دیکھ کر کراچی کے لئے ”عروس البلاد“ کا خطاب یاد آ گیا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ کراچی نے ” شہر برباد“ سے دوبارہ عروس البلاد کی طرف کا یہ سفر گزشتہ تقریباً ایک سال کے عرصے میں طے کیا۔ اس دوران شہر کے حالات کا تعین کرنے والے باقی سب عوامل تو وہی تھے، البتہ وفاق میں میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت آ گئی تھی، جس نے پہلے کراچی میں امن کے لئے آپریشن شروع کروایا، اس کے بعد پورے ملک میں امن کے لئے وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا اہتمام کیا۔ کراچی آپریشن میں کامیابی حاصل کرنے میں کافی و قت لگا۔ اس دوران قابل ِ ذکر تعداد میں رینجرز اور پویس کے اہلکار جاں بحق ہوئے، لیکن اس کے باوجود آپریشن کے خلاف مختلف حلقوں کی جانب سے گاہے بگاہے نکتہ چینی ہوتی رہی۔ خاص طور پر تاجروں کی جانب سے، جن کی زندگی بھتہ خوروں نے اجیرن بنا رکھی تھی۔

عام شہریوں نے آپریشن کی افادیت کو محسوس تو کیا، لیکن پوری طرح مطمئن نہیں تھے، لیکن جب وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار رینجرز اور پولیس کی مدد سے کراچی میں ان کے خفیہ ٹھکانوں تک بھی بڑھا دیا گیا، تو یکایک ایک ڈرامائی تبدیلی محسوس ہوئی اور یوں لگا جیسے اُلجھی ہوئی ڈور کا سرا مل گیا ہو۔ شہر میں یکایک سکون ہو گیا اور اہل کراچی نے گزشتہ عید اس پُرسکون ماحول میں منائی۔ یہ اور بات ہے کہ جس وزیراعظم کی کوششوں سے کراچی میں امن کا قیام عمل میں آیا، اس کے اپنے شہر اور دارالحکومت کو ہنگامہ خیزی نے آ لیا، جس پر قابو پانے میں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ کراچی کے آپریشن میں تو سندھ کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے حتیٰ الامکان تعاون کیا، جبکہ پنجاب کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں غیر موجود، مگر سڑکوں پر متحرک سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر لاہور اور اسلام آباد میں وزیراعظم کی نیندیں حرام کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔

ملک کے حالات پر نظر رکھنے والے سیاسی اور صحافتی دانشوروں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ”آ بیل مجھے مار“ کے مصداق حکومت نے یہ بَلا خود اپنے سر مول لی ہے۔ یہ بَلا وہ ہے، جس پر تشدید لگا کر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اگر وہ قابو میں آ گیا ہے تو اسے جانے نہ دیا جائے، حالانکہ آصف علی زرداری نے اپنی جان بچانے کے لئے اسے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ راہداری کا پروانہ دیا تھا۔ میاں محمد نواز شریف کو، جنہوں نے اٹک کے قلعے میں اپنی قید کا حساب چکانا ہے، یہ مشورہ بہت اچھا لگا اور وہ چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اُس تشدید کو نہ دیکھ سکے، جو آصف علی زرداری نے بڑی ہوشیاری سے بَلا کے اوپر لگا دی تھی، چنانچہ اب بَلا ان کے گلے پڑ چکی ہے۔ اگرچہ اس وقت تک صورت حال یہ ہے کہ کمبل نواز شریف سے جان چھڑانے کے لئے کوشاں ہے، لیکن حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ اگر نون شین نے سمجھ داری سے کام نہ لیا تو ممکن ہے، کل وہ یہ دہائی دیتے ہوئے دکھائی دیں کہ مَیں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔

مزید : کالم