کانسٹیبل اشرف سپرد خاک، پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں نماز جنازہ، رقت آمیز مناظر

کانسٹیبل اشرف سپرد خاک، پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں نماز جنازہ، رقت آمیز ...

  



لاہور(کرائم سیل) پولیس اہلکار کی پراسرار ہلاکت، پاکستان عوامی تحریک اور پولیس کے مابین ہونے والے آٹھ اگست کے تصادم میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے ہاتھوں شدید تشدد کا نشانہ بننے کے بعداہلکار محمد اشرف ہلاک ہوا پولیس کا دعوی ،اشرف روٹی لینے گیا تھا تب حادثہ کا شکار ہو گیا ، متوفی کے بھائی کا بیان اورمیڈیا ذرائع۔پولیس نے کانسٹیبل محمد اشرف اسلم کی نعش گزشتہ روز پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی ،جبکہ مرحوم کی نماز جنازہ پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ادا کی گئی ۔نماز جنازہ میں محمد اشرف کے لوحقین سمیت اعلٰی پولیس افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔پولیس کے مطابق آٹھ اگست کو ماڈل ٹاؤن میں پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے مابین ہونے والی جھڑپ میں پولیس کانسٹیبل محمد اشرف اسلم کو مظاہرین نے پکر لیا تھا اوراس کو پتھر مار مار کے شدید زخمی کر دیا جسے بعد ازاں ریسکیو ٹیموں نے جنرل ہسپتال میں منتقل کر دیا تھا جہا ں وہ 12گھنٹے تک زندگی اور مات کی کشمکش میں رہتے ہوئے 9اگست کو زندگی کی بازی ہار گیا۔پولیس نے محمد اشرف کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاؤس میں منتقل کر دیا تھا جہاں سے گزشتہ روز پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی نعش کو لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔ جبکہ اس حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے خلاف تھانہ نصیر آباد میں مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔مقتول اہلکار محمد اشرف کے بھائی محمد اختر، اور میڈیا ذرائع کے مطابق کانسٹیبل اشرف اسلم جمعہ کی شام کو روٹی لینے گھر سے نکلا تھا کہ ارفع کریم ٹاور کوٹ لکھ پت کے قریب ٹریفک حادثے میں زخمی ہوا تھا اور اس کے سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ 8بجکر 10منٹ پر جنرل ہسپتال میں لایا گیا تھا ۔ محمد اشرف کی نماز جنازہ پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ادا کرنے کے بعد سپردخاک کرنے کے لیے اس کے آبائی گاؤں روہی نارروال میں لے جا کر سپرد خاک کر دیا گیا۔اس موقع پر نمائندہ \"پاکستان \"سے گفتگو کرتے ہوئے شہید محمد اشرف کے کزن محمد خاقان علی، سالے خرم شہزاد،چچا محمد مجیدنے بتایا کہ محمد اشرف کی 6ماہ قبل شادی ہوئی تھی جبکہ شادی کے فوری بعد اس کی 2سال کے لیے لاہور پوسٹنگ ہو گئی تھی۔عوامی تحریک کے کار کنوں کے ہا تھوں زخمی ہونے کے بعد ہمیں اس حوالے سے پولیس حکام نے اطلاع دی جس پر ہم محمد اشرف کے آبائی گاؤں روہی سے لاہور پہنچ گئے۔ پولیس اور ہسپتال انتظامیہ نے ہماری ہر طرح سے مدد کی لیکن پوسٹ مارٹم کے وقت میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاؤس میں پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے ہمیں کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا اس کے بعد جب پولیس کے اعلٰی سے بات کی گئی تب کہیں جاکر ڈاکٹرز نے پوسٹ مارٹم شروع کیا۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ صوبیدار محمد اسلم اورمحمد اشرف اسلم کے والد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا خاندان ملک اور قوم کے لیے قربانیاں دیتا آیا ہے اور آگے بھی دیتا رہے گا،اشرف ایک خوش اخلاق انسان تھا ہمیں اس کی جواں سال ہلاکت کے حوالے سے انصاف چاہیئے۔محمد اشرف کے بچپن کے دوست صدام حسین اور عابد جبکہ پولیس لائن میں اس کے دوست محمد اعجاز اور دلبر حسین نے بتایا کہ محمد اشرف کا خاندان ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہے حکومت سے اپیل ہے کہ ان کو انصاف فراہم کرکیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر