طاہر القادری کی گرفتار ی سے متعلق عوای تحریک کی منظر کشی مخض الزامات تھے

طاہر القادری کی گرفتار ی سے متعلق عوای تحریک کی منظر کشی مخض الزامات تھے

لاہور(کرا ئم سےل ) ڈی آ ئی جی آ پر ےشن نے 1روز قبل ہو نے والی گر فتاری نہ کر نے کی تر دےد کر دی کہ جس مےں کہا گےا تھا کہ پہلے پولیس آئے گی اور فائرنگ کرتی ہوئی سیکریٹریٹ کا محاصرہ کرے گی پھر ہیلی کاپٹر سے سپیشل پولیس کمانڈوز اتارے جائیں گے ساری رات گزر گئی پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے پنجاب حکومت پر لگائے ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی گرفتاری کے متعلق الزامات صرف الزامات ہی ثابت ہوئے ،ڈی آئی جی آپریشن لاہور کی الزامات کی تردید ڈاکٹر طاہر القادری کی گرفتاری کا کوئی ارادہ نہیں ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات گئے ماڈل ٹاﺅن میں واقع منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے سیکریٹریٹ میں عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت پنجاب آج رات کسی بھی وقت آپریشن کرے گی جس میں پولیس کی بھاری نفری حصہ لے گی پولیس کی بھاری نفری بکتر بند گاڑیوں اور ٹرکوں پر سیکریٹریٹ پہنچے گی اور شیلنگ اور فائرنگ کرتی ہوئی سیکریٹریٹ کا محاصرہ کرے گی اور اس کے بعد پولیس کے سپیشل کمانڈوز ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سیکریٹریٹ کی چھت پر اتارے جائیں گے جو کہ سیکریٹریٹ میں کیمیائی گیس فائر کر کے سیکریٹریٹ کی چھت کو توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے اور ڈاکٹر علامہ طاہر لقادری کو گرفتار کر کے لے جائیں گے، منہاج القرآن کی جانب سے جس فلم کی منظر کشی کی گئی فلم ہی رہ گئی ۔ پاکستان عوامی تحریک کی گرفتاری کے متعلق ڈی آئی جی آپریشن لاہور سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر علامہ طاہر لقادی کی گرفتاری کے متعلق تاحال ہمیں پنجاب حکومت کی جانب سے ابھی کوئی احکامات نہیں ملے یہ سب کچھ صرف الزامات ہی ہیں۔

 منظر کشی

مزید : صفحہ آخر