14 اگست سے قبل اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے،شجاعت

14 اگست سے قبل اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے،شجاعت

  




لاہور (خبرنگار) پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین، سینئر مرکزی رہنما چودھری پرویزالٰہی اور عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکمران کتنے بندے ماریں گے، عدلیہ کیوں خاموش ہے، آئین میں دئیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر نوٹس لینا چاہئے۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر اور بعد ازاں پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کیلئے جاتے ہوئے چودھری پرویزالٰہی، شیخ رشید احمد اور دیگر رہنماؤں کے قافلے کو مڑیاں چوک کے قریب لگے کنٹینروں کے ذریعے لگائے پولیس کے ناکے پر زبردستی روک لیا گیا، نصف گھنٹہ تک بحث و تمحیص کے بعد انہیں پیدل آگے جانے کی اجازت دے دی گئی اور 2 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چل کر یہ رہنما ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ پر پہنچے جن میں چودھری پرویزالٰہی اور شیخ رشید کے علاوہ حلیم عادل شیخ، محمد بشارت راجہ، احمد یار ہراج، ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی، میاں ادیب اور دیگر مسلم لیگی لیڈر شامل تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ہم 14 اگست سے قبل ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے، حکومت نہتے کارکنوں پر گولیاں چلا کر کیا ثابت کرنی چاہتی ہے، عورتوں پر بھی گولیاں چلانے سے دریغ نہیں کیا جا رہا، ہم نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، ہماری کوشش ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری اکٹھے ہو کر تحریک چلائیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ میڈیا کو اپنا مثبت رول ادا کرنا ہو گا، پنجاب سیل اور عوام کو یرغمال بنا دیا گیا ہے، ایمبولینسوں کو بھی پٹرول نہیں دیا جا رہا، کھانے پینے اور دیگر ضروریات کی چیزیں آہستہ آہستہ ختم ہو تی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب آن روڈ ہیں اور سب کو آن بورڈ کرنا چاہتے ہیں، حکومت تھک چکی ہے عوام نہیں تھکیں گے۔ شیخ رشید نے کہا کہ سلامتی کونسل کی میٹنگ نہیں بلکہ نواز شریف کی اپنی سلامتی کونسل کا فوٹو سیشن تھا جیسے 1977ء میں بھٹو نے فوجی جرنیلوں سے میٹنگ کی تھی لیکن انہیں بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا، جس یکطرفہ اجلاس میں تحریک اور اور پنجاب کی نمائندگی کوئی نہ کرے اس کا انجام آپ خود جانتے ہیں۔

مزید : علاقائی