ترکی کے صدارتی انتخابات میں ابتدائی نتائج کے مطابق رجب طیب اردگان کو برتری

ترکی کے صدارتی انتخابات میں ابتدائی نتائج کے مطابق رجب طیب اردگان کو برتری

  



لاہور(اسلم بھٹی) ترکی میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں جن کے مطابق رجب طیب اردگان کو برتری حاصل ہے تاہم مکمل نتائج آج (سوموار) دوپہر تک آ جائیں گے۔ گزشتہ روز (اتوار) کو ووٹنگ کا مجموعی عمل پرامن رہا اور کوئی قابل ذکر بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ ووٹنگ صبح 8بجے شروع ہوئی اور شام 5بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔ شام 5بجے کے بعد مختلف پولنگ اسٹیشن کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔ تینوں صدارتی امیدوار رجب طیب ایردوآن، پروفیسر ڈاکٹر اکمل الدین احسان اولو اور کرد کمیونٹی کے نمائندہ صلاح الدین دمیرتاش نے اپنا اپنا ووٹ اپنے اپنے شہر میں کاسٹ کیا۔ رجب طیب اردگان اور پروفیسر ڈاکٹر اکمل الدین احسان اولو نے استنبول میں ووٹ ڈالا جبکہ صلاح الدین دمیر تاش نے اپنا ووٹ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ترکی کے شہر دیار بکر میں کاسٹ کیا۔ ووٹ بیلٹ(پرچی) کے اوپر تینوں صدارتی امیدواروں کی تصاویر موجود تھیں۔ جن میں دائیں طرف پروفیسر ڈاکٹر اکمل الدین احسان اولو، درمیان میں صلاح الدین دمیر تاش اور بائیں جانب رجب طیب ایردوآن کی تصویر تھی۔ امیدواروں کے فوٹو کے نیچے ان کا نام اور اس کے نیچے گول دائرہ موجود تھا جو خالی تھا اور اس میں ووٹر گول دائرے والی مہر جس کے اوپر ”ہاں“ لکھا ہوا تھا لگانی پڑتی تھی۔ یاد رہے کہ ترکی کی 91سالہ تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہو رہا کہ ترکش عوام براہ راست اپنے ووٹوں سے اپنے صدر کا انتخاب کر رہے ہیں جبکہ اس سے قبل پاکستان کی طرح صدر کا انتخاب پارلیمنٹ کرتی تھی۔ یہ صدارتی انتخابات اس لئے بھی اہم ہیں کہ ملک کا نظام پارلیمانی سے صدارتی ہونے جا رہا ہے جن میں صدر کو زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں اور وزیر اعظم لینا علامتی عہدہ اور کمزور ہو گا۔ترک آئین کی رو سے اگر کوئی امیدوار پہلے راﺅنڈ میں 50فیصد سے زائد ووٹ لے جاتا ہے تو وہ کامیاب قرار دیا جائے گا ورنہ دوسرا راﺅنڈ 24اگست کو منعقد ہو گا اور اس میں جو امیدوار پہلے راﺅنڈ میں زیادہ ووٹ لیں گے اس کے درمیان مقابلہ ہو گا اور دونوں میں سے جو دوسرے راﺅنڈ میں زیادہ ووٹ حاصل کر ے گا وہ منتخب ہو جائے گا اور اگلے 5سال کے لئے ملک کا 12واں صدر بن جائے گا۔ان انتخابات سے قبل بھی رجب طیب ایردوآن کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ دیگر دو امیدواروں کی نسبت ان کا سیاسی کیرئیر زیادہ بہتر تھا۔ وہ مسلسل تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز چلے آ رہے تھے اور خاص طور پر اپنے ابتدائی 10سالوں میں انہو ں نے ترک معیشت اور اقتصادیات کو پستی سے اٹھا کر انتہائی بلندیوں پر لے گئے۔ انہوں نے بہت سی ملک میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ اب چونکہا ٓئین کی رو سے وہ چوتھی مرتبہ وزیر اعظم نہیں رہ سکتے لہٰذا اس بار انہوں نے صدارتی منصب کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا اور غالب اور قوی امکان یہی ہے کہ وہ آخر کار اس عہدے پر بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ مخالفین اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ صدر بن کر زیادہ سے زیادہ اختیارات اور طاقت کے مالک بن جائیں گے اور ملک میں سیمی ڈکٹیٹر شپ اور اتھاسٹیرین نظام ایردوآن کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی بہتری کے لئے اپنا اصلاحاتی ایجنڈا جاری رکھیں گے اور نیا جمہوری آئین ملک کو دیں گے ، کردوں کا مسئلہ حل کریں گے اور معاشی بہتری کے لئے تگ و دو جاری رہے گی۔دوسری طرف 6سے زائد اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار جو اہم تصور کئے جا رہے ہیں وہ پروفیسر ڈاکٹر اکمل الدین احسان اولو ہیں، پروفیسر اکمل الدین کو ترکی میں اگرچہ اتنی شہرت اور جان پہچان نہیں لیکن وہ بین الاقوامی سطح پر ایک جانا پہچانا نام ہیں جنہوں نے اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ کی حیثیت سے خاص مثبت شہرت کمائی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے انہیں متفقہ طور پر اپنا امیدوار نامز دکیا ہے تاکہ رجیب طیب ایردوآن کے خلاف مضبوط امیدوار لایا جا سکے۔رجب طیب ایردوآن کی نسبت پروفیسر احسان اولو کو نرم مزاج، متعدل اور ٹھنڈے دل و دماغ کا لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے خیالات بھی ملک کے صدر کو غیر سیاسی ہونا چاہئے اور ملک کا نظام پارلیمنٹ ہی بہتر چلا سکتی ہے اس لئے پارلیمانی نظام زیادہ جمہوری ہے۔ وہ طاقت کا سرچشمہ کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ عوام اور ان کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو سمجھتے ہیں۔ اس لئے اگرچہ پروفیسر احسان اولو منتخب ہوتے ہیں تو وہ زیادہ اختیارات اپنے پاس رکھنے کی بجائے پارلیمنٹ کو تفویض کریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں میں سے جو بھی منتخب ہو گا ملک میں سیاسی نظام کبھی اس کے مزاج کا عکاس ہو گا۔

مزید : صفحہ اول