بھارت اور امریکہ مشترکہ فوجی اور بحری مشقیں کریں گے

بھارت اور امریکہ مشترکہ فوجی اور بحری مشقیں کریں گے

  



                             واشنگٹن (خصوصی تجزیاتی رپورٹ، اظہر زمان) کیا امریکہ جنوبی ایشیاءمیں پاکستان کو چھوڑ کر سارے انڈے بھارت کی ٹوکری میں ڈالنے جارہا ہے؟ کیا بھارت رقبے، آبادی، مالیاتی حجم، اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی اور خصوصاً ڈیفنس پروڈکشن میں اتنا بڑا جن بن گیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان اب ایک بونے کی طرح نظر آتا ہے؟ یہ اور اسی طرح کے دیگر سوالات کا جواب مثبت ہی ملتا ہے اور تازہ شواہد سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ اس خطے سے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سٹریٹجک سمیت تمام تعلقات میں امریکہ کی ترجیح نمبر ایک صرف بھارت ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے بھارت کے حالیہ دورے میں یقیناً امریکہ اور بھارت کے درمیان مضبوط سیاسی روابط کو مزید موثر بنانے کے عزم کا اظہار ملا تھا لیکن اب امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے بھارت کے دورے میں جو کچھ کہا ہے اس سے تو بالکل واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ خطے کے دوسرے ممالک کی تشویش کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعاون کی آخری حدوں کو چھورہا ہے۔

امریکہ اور بھارت مل کر کیا کرنے جارہے ہیں اسے امریکی وزیر دفاع کی زبانی سن لیں۔ پینٹا گون کے واشنگٹن میں میڈیا یونٹ نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق چک ہیگل نے نئی دہلی میں ”آبزروریسرچ فاﺅنڈیشن“ میں بھارتی تاجروں اور دانشورون کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک عنقریب مشترکہ فوجی اور بحری مشقیں کرنے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ دفاعی تعاون کے نئے افق چھونے کی کوششوں کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بھارت فوجی سامان کی خریدو فروخت کے مرحلے سے آگے نکل کر اب مل کر ڈیفنس پروڈکشن کریں گے اور اس سلسلے میں بھارت کی طرف سے آنے والی تجویز کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ دفاعی پروڈکشن میں کیمیائی اور حیاتیاتی سامان بھی شامل ہوگا۔

چک ہیگل کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کو سائنس اور تخلیقی مہارت میں جو برتری حاصل ہے اسے ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبے میں مشترکہ تیاری کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ امریکی وزیر دفاع کو یقین ہے کہ دونوں ممالک میں شراکت کی ٹھوس بنیادیں موجود ہیں اور اب وہ انہیں حقیقت کا روپ دینے کے خواہاں ہیں۔ تاہم انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ دفاعی صنعتی تعاون میں سرخ فیتے کو دور کرنے کی کوشش کرے۔

امریکی وزیر دفاع نے نوٹ کیا کہ گزشتہ چھ سال کے عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان نو ارب ڈالر سے زائد کے دفاعی ٹھیکوں پر دستخط ہوئے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کا آزادانہ تبادلہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی شعبے میں تعاون کی تجاویز دو سال قبل سامنے آئی تھیں اور اب ایک درجن سے زائد ٹھوس تجاویز پر عمل درآمد کی تیاری کی جارہی ہے، تجاویز کی کمی نہیں ہے، صرف ان پر عملدرآمد کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں ایک اہم اشارہ دیا کہ بھارت اب اپنے مشرق کی طرف دیکھ رہا ہے جہاں ایشیاءپیسفک کے وہ ممالک ہیں جن سے امریکہ ترجیحی بنیاد پر سٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کی نئی پالیسی پر عمل کررہا ہے۔ اس طرح اس خطے میں بھی دونوں ممالک مل کرچل سکتے ہیں۔

امریکہ کے امور خارجہ اور دفاع کے دو وزراءکے بھارتی دورے کا بنیادی مقصد بھارت کے نئے وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی دورے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خطے میں پاکستان سمیت دوسرے ممالک کو نظر انداز کرکے امریکہ اور بھارت کے درمیان محبت کی نئی پینگیں مودی کی واشنگٹن آمد پر کن بلندیوں کو چھوتی ہیں۔

مزید : صفحہ اول