پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ طاہر القادری سمیت اڑھائی سو کارکنوں کیخلاف درج

پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ طاہر القادری سمیت اڑھائی سو کارکنوں کیخلاف ...

  



                       سرگودھا(سجاد اکرم ) ایک روز قبل بھیرہ انٹر چینج سے سروس ایریا تک توڑ پھوڑ ،گاڑیوں کو نذر آتش ، ایک پولیس اہلکار کو قتل جبکہ ڈیڑھ درجن سے زائد جوانوں کو زخمی کرنے کے الزام میں پولیس نے پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر علامہ طاہر القادری سمیت اڑھائی سو سے زائد کارکنوں کے خلاف دہشت گردی اور بلوا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا، پاکستان عوامی تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ علامہ طاہر القادری کو بھی اعانت جرم کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے‘ یہ مقدمہ قتل‘ اقدام قتل‘ گھیراﺅ‘ جلاﺅ ‘ توڑ پھوڑ‘ سرکاری ملاک کو نقصان پہنچانے‘ کار سرکار میں مزاحمت اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق حکومت نے مختلف اضلاع میں علامہ طاہر القادری کے خلاف درج ہونے والے مقدمہ کی تفصیلات طلب کر لی ہے‘علاوہ ازیں یوم شہداءتحریک کے دوران سرگودھا‘ قائد آباد‘ بھکر اور ڈویژن کے دیگر مقامات پر ہونے والی مزاحمت کے مرتکب حراست میں لیے جانے والے عوامی تحریک کے کارکنوں کو آج انسداد دہشتگردی سرگودھا کی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے‘جبکہ سانحہ بھیرہ جس میں کانسٹیبل شہید اور 19 پولیس اہلکار زخمی ہوئے کا مقدمہ درج ہونے کے باعث عوامی تحریک کی مرکزی قیادت نے ضلع بھر کے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہر طرح کی سرگرمیاں معطل رکھنے کا حکم دے دیا‘ تا کہ سانحہ بھیرہ کے درج مقدمہ میں کم سے کم کارکنوں کی گرفتاری ہو۔اسی بناءپر ضلع میں مرکزی قیادت کی ہدایات کے باوجود عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے یوم شہداءکے سلسلہ میں کوئی پروگرام منعقد نہ ہوا۔ ضلع بھر کے کارکن گرفتاریوں سے بچنے کے لئے روپوش ہو گئے ہیں‘ اکثر کے موبائل فونز بھی آف ہیں۔پولیس کی جانب سے عوامی تحریک کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رہا۔ پولیس نے 3 مزید کارکنوں کو پکڑ کر 3 ایم پی او کے تحت 15 روز کےلئے جیل بھجوا دیا۔

مزید : صفحہ اول