انقلاب پنجاب تک محدود کیوں ہے؟

انقلاب پنجاب تک محدود کیوں ہے؟
 انقلاب پنجاب تک محدود کیوں ہے؟

  




علامہ طاہرالقادری کی جانب سے اعلان کردہ یوم شہداء کو ماڈل ٹاؤن پہنچنے سے روکنے کے لئے حکومت پنجاب نے ماڈل ٹاؤن جانے والی تمام سڑکیں بند کیں، جی ٹی روڈ کو بند کیا اور موٹر وے کو بند کیا، اچھا ہوتا اگر وہ ایک دو ٹی وی چینل بھی بند کردیتی تو پاکستان انتہائی پرامن دکھائی پڑتا اور عوام کو ان ٹی وی چینلوں پر چلنے والے کھچ پروگرام دیکھنے کی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی!

حیرت تو ہمیں اپنے دوست رحیق عباسی ، جو پاکستان عوامی تحریک کے صدر بھی منتخب ہو چکے ہیں، کو دیکھ کر ہوئی ، کیا کمال طریقے سے انہوں نے اپنی خوبصورتی سے ترشوائی ہوئی داڑھی کو رنگا ہوا تھا، ضرور ان کے ذہن میں ہوگا کہ چونکہ انہیں بار بار ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہونا ہے اس لئے ذرا تیاری شیاری کرلی جائے تو اچھا ہوگا، ایک زمانہ تھا جب وہ تحریک کے سیکرٹری جنرل تھے ، تب انہوں نے ہم سمیت کچھ صحافی دوستوں کو لکشمی چوک میں پر مرغ کڑاہی کھلائی تھی ، اب تک وہ ذائقہ نہیں بھولا، ہمیں امید ہے کہ انقلاب کے برپا ہوتے ہی وہ ہمیں دوبارہ سے اپنی میزبانی میں مرغ کڑاہی ضرور کھلائیں گے ، تب ہم ان سے کہیں گے کہ حضور انقلاب کے بعد تو آپ کا سرکڑاہی میں اور پانچوں گھی میں ہیں!

علامہ قادری نے کہا تھا کہ کارکن یوم شہداء کے موقع پر ایک قرآن، ایک تسبیح اور ایک مصلیٰ ساتھ لے کر آئیں، ہمیں تو یہ تجویز اتنی پسند آئی تھی کہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنے دوستوں سے مشورہ کیا تھا کہ کیاہمیں منہاج القرآن کے باہر ان تینوں کا سٹال لگانا چاہئے یا نہیں، یہ مشاورت ابھی بھی جاری ہے ، لیکن ٹی وی سکرینوں کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ کارکن سوائے ڈنڈوں کے کچھ بھی نہیں لے کر آئے، شکر ہے ہم نے اپنی مشاورت کو مکمل نہیں کیا ، وگرنہ اس وقت اپنے سٹال پر بیٹھے خو د ہی قرآن کی تلاوت کررہے ہوتے ، تسبیح گھما رہے ہوتے اور متوقع کارکنوں کے انتظار میں بار بار مصلیٰ بچھا رہے ہوتے!

اور تو اور ہفتے کے روز لاہور میں ہونے والی موسلادھار بارش نے انقلابی پروگرام پر پانی پھیر دیا اور علامہ قادری کو اعلان کرنا پڑا کہ کارکن مادل ٹاؤن آنے کے بجائے اپنے اپنے شہروں میں ہی یوم شہداء کا اہتما م کریں!

پنجاب کے مختلف شہروں میں جس طرح عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں میں ڈنڈے بازی ہوئی ہے اس سے بچاؤ کی ایک ترکیب ہمارے ذہن میں گھومتی رہی ہے کہ کیوں نہ تحریک کے کارکن اور پولیس والے یہ طے کرلیں کہ وہ آپس میں لڑنے کی بجائے مل کر بیٹھتے اور علامہ قادری اور شہباز شریف سے درخواست کرتے کہ حضور ایک ایک ڈنڈا تھام کر ایک دوسرے کی ٹھکائی کریں ، کیا خوبصورت منظر ہوتا کہ ہمارے رہنما عوام کے لئے ہر زخم اپنے جسم پر سہتے اور اس کے باوجود اگر عوام کا دل چاہتا کہ وہ بھی اس ڈنڈے بازی میں اپنے جوہر دکھائیں تو ان کو پولیس کے ساتھ صرف اور صرف گتکا کھیلنے کی اجازت ہوتی!

جہاں تک یوم شہداء کی تقریب بپا کرنے کا تعلق ہے تو بہتر ہوتا کہ علامہ قادری پہلے انقلاب لے آتے اور پھر ایک ہی بار یوم شہداء مناتے، کیونکہ خطرہ ہے کہ انقلاب برپا کرنے کے لئے انہیں ابھی مزید جانوں کے نذرانے بھی پیش کرنے پڑیں، قبل ازوقت یوم شہداء کا اعلان کرنے کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ اب چار طرف یوم شہداء کی پکار سنائی دے رہی ہے اور کوئی نہیں ہے جو انقلاب کی دہائی دینے کو تیار ہو، خیر تسلی کی بات یہ ہے کہ علامہ نے ابھی تک فوج کو نہیں پکارا ہے، ویسے جب موسلادھار بارش ہو رہی تھی تو ایک لمحے کو ہمیں خیال آیا تھا کہ علامہ کو چاہئے کہ فوج سے اپیل کریں کہ وہ بارش رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ ہم پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ انقلاب مارچ ہو یا آزادی مارچ، سب کو گندا کرنے کے لئے اگست کا موسم ہی کافی ہے!

آخر میں قارئین کے لئے سوال چھوڑ رہے ہیں کہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے انقلابی کہاں ہیں؟ کیا ان کو پاکستان کی حالت بدلنے کا خیال نہیں ہے ؟ آخر سارے انقلابی سنٹرل اور اپر پنجاب کے علاقوں سے ہی کیوں نمودار ہو رہے ہیں؟

مزید : کالم