پولیس افسر اہلکاروں کے لیے جاری کھانے کے فنڈ کھا گئے

پولیس افسر اہلکاروں کے لیے جاری کھانے کے فنڈ کھا گئے
پولیس افسر اہلکاروں کے لیے جاری کھانے کے فنڈ کھا گئے

  

لاہور (ویب ڈیسک) آزادی و انقلاب مارچ کو روکنے پر مامور ہزاروں پولیس اہلکاروں کے کھانے کی مد میں جاری ہونے والے بھاری فنڈز ہڑپ کرلئے گئے؟ ماڈل ٹاﺅن اور دیگر جگہوں پر ڈیوٹی کرنے والے اہلکار اپنی جیبوں سے کھانے پر مجبور رہے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا کی جانب سے سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کو پیغام دیا گیا کہ ماڈل ٹاﺅن، پولیس لائن، قربان لائن اور شہر کے داخلی خارجی راستوں پر ڈیوٹی کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو کھانا دیا جائے جس کیلئے حکومت نے فنڈز جاری کردئیے ہیںتاہم اہلکاروں کی طرف سے کھانا نہ ملنے کی شکایات سامنے آئیں۔ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل 24 گھنٹے ڈیوٹی کررہے ہیںتاہم ہمیں 3 دن میں ایک دفعہ کھانا دیا گیا اور وہ بھی صرف ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کیلئے،اور باقی 10 ہزار کی نفری کو کچھ نہیں ملا جبکہ بہت سے انسپکٹرز اور سب انسپکٹر 10,10 لوگوں کا کھانا لے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے کھانے کی مد میں پولیس کو کروڑوں روپے کے فنڈز دئیے جو افسروں کی جیبوں میں چلے گئے اور اہلکار بھوکے پیٹ ڈیوٹی کررہے ہیں۔ دوسری طرف سی سی پی او کے ترجمان نے موقف اپنایا کہ سیکیورٹی ڈیوٹی کرنے والے تمام اہلکاروں کو کھانا دیا جارہا ہے، اگر کسی جگہ کوئی شکایت ہے تو اسے دور کیا جائے گا۔

مزید : اسلام آباد