مصنوعی ذہانت کا امتحان، روسی سپر کمپیوٹر نے ماہرین کو ”گھما“ دیا

مصنوعی ذہانت کا امتحان، روسی سپر کمپیوٹر نے ماہرین کو ”گھما“ دیا
مصنوعی ذہانت کا امتحان، روسی سپر کمپیوٹر نے ماہرین کو ”گھما“ دیا

  



لندن (ویب ڈیسک) ایک روسی سپر کمپیوٹر نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کے میدان میں تاریخی سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ خود کو ایک 13 سالہ لڑکا ظاہر کرنے والا یہ کمپیوٹر ذہانت کی ”ٹیورنگ ٹیسٹ“ نامی ایک جانچ کے دوران ججز کو دھوکہ دینے اور یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ وہ کمپیوٹر نہیں بلکہ ایک انسان ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپیوٹر اور انسانوں کے درمیان بات چیت پر مشتمل یہ تجربہ لندن کی رائل سوسائٹی میں کیا گیا۔ جاپان کے ایک سپر کمپیوٹر نے جسے دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر قرار دیا جاتا ہے، نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس سپر کمپیوٹر کو تیار کرنے والوں کے مطابق یہ نیا ریکارڈ 10 کواڈریلین کیلکولیشنز فی سیکنڈ ہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والے مقابلے میں پانچ سپر کمپیوٹرز شریک ہوئے، سوالات کے جوابات کمپیوٹر کے علاوہ انسان بھی دے رہے تھے اور ججوں کو یہ طے کرنا تھا کہ جواب دینے والوں میں سے کون سے انسان ہیں اور کون سے کمپیوٹر۔ روسی کمپیوٹر پروگرام، جس نے ایک 13 سالہ لڑکے یوچین گوسٹمین کے نام سے اس مقابلے میں شرکت کی، 33 فیصد وقت تک ججوں کو یہ یقین دلائے رکھنے میں کامیاب رہا کہ وہ دراصل ایک حقیقی انسان ہی ہے۔ یہ مقابلہ منعقد کرانے والے لندن کی ریڈنگ یونیورسٹی کے پروفیسر کیون واروک کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے میدان میں ٹیورنگ ٹیسٹ سے زیادہ مشہور اور متنازع سنگ میل کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی