وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر کو ابوظہبی سے فوری واپس بلالیا

وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر کو ابوظہبی سے فوری واپس بلالیا
وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر کو ابوظہبی سے فوری واپس بلالیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزارت خارجہ حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں متعین پاکستانی سفیر آصف درانی کو طوری طور پر اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔ ان کی طلبی نجی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لے کر ہنگامی طور پر طلبی کی گئی ہے۔ وزیراعظم اور ان کے مشیر و قومی سلامتی سینیٹر سرتاج عزیز اور وفاقی سیکرٹری وزارت خارجہ اعجاز چودھری نے باہمی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ابوظہبی میں موجود پاکستان کے سفیر آصف درانی کو فوری طور پر واپس بلالیا جائے تاکہ ان سے وزارت خارجہ سے پیشگی منظوری کے بعد متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے ایک سیکشن افسر کے عہدے کے اہلکار کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی وجوہات معلوم کی جاسکیں چونکہ ان کے معاہدے پر دستخط کرنا فارن آفس کے طے شدہ رولز آف بزنس کی صریحاً خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ وزارت خارجہ بھی بذات خود دوسرے ملک کی حکومت کے ساتھ اس وقت تک معاہدہ نہیں کرتی جب تک ملک کے چیف ایگزیکٹو سے اس کی منظویر حاصل نہیں کردیتی۔ نجی اخبار کے مطابق یو اے ای کے وزیر خارجہ نے پاکستانی سفیر آصف درانی کی حرکات و سکنات سے دلبرداشتہ ہوکر انہیں تقریباً 10 روز قبل اس وقت یو اے ای کے فارن آفس میں طلب کیا جب فارن آفس کے اوقات کار ختم ہوچکے تھے۔ اتوار کی رات ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی سفیر آصف درانی کو اگرچہ فوری طور پر اسلام آباد طلب کیا گیا۔ آصف درانی کو سابقہ حکمران جماعت کی ایک شخصیت کی سفارش پر چند ماہ بیشتر یو اے ای میں پاکستان کا سفیر بنا کر نواز شریف حکومت نے بھجوایا تھا۔ ایمبیسڈر آصف درانی اس سے قبل دو سال تک ایوان صدر اسلام آباد میں بطور ڈائریکٹر جنرل ذمہ داری سرانجام دیتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وطن واپسی پر ایمبیسڈر آصف درانی سے وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام تفصیلی پوچھ گچھ کریں گے تاکہ اس امر کی تہہ تک پہنچا جائے کہ ان کی وجہ سے 2 برادر ملک پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین برادرانہ تعلقات کو کیوں نقصان پہنچایا۔قصور ثابت ہونے پر ایمبیسڈر آصف درانی کیخلاف رولز آف بزنس کے تحت انضباطی کارروائی کا آغاز کرے گی اور اس تمام کارروائی کے بارے میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کو باخبر کیا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی