سگریٹ فلٹرز سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، نئی تحقیق

سگریٹ فلٹرز سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، نئی تحقیق
سگریٹ فلٹرز سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، نئی تحقیق

  



سیول (نیوزڈیسک ) دنیا بھر میں ہر سال 5.6 ٹریلین سگریٹ فلٹرز (سگریٹ کا بقیہ حصہ یعنی گُل) زمین پر پھینکیں جاتے ہیں، جو 7 لاکھ 66 ہزار571 میٹرک ٹن وزنی بنتے ہیں۔ ان کھربوں فلٹرز کے بارے میں اب محققین کا کہنا ہے کہ اس کوڑے کو مفید بنایا جا سکتا ہے، ان سگریٹ فلٹرز کو مواد میں تبدیل کرکے سوپرکیپیسٹرز بنایا جا سکتا ہے، یعنی ایک ایسا الیکٹروکیمیکل جزو، جس میں بے پناہ انرجی جمع کی جا سکتی ہے۔ اگر سگریٹ فلٹر کو کامیابی سے سوپرکیپیسٹرز میں تبدیل کر لیا جاتا ہے تو یہ مواد فون، کمپیوٹر اور ہوا سے چلنے والی ٹربائن کی پاور مشین کو چلانے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوگا۔ نینوٹیکنالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سوپرکیپیسٹرز کیمیکل ردعمل کے بجائے الیکٹریکل چارج کے ذریعے انرجی جمع کر سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آپ مشینوں کو تیزی سے چارج کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سیﺅل نیشنل یونیورسٹی کے یونگ ہیوپ یی کا کہنا ہے کہ ”ہماری تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کے فلٹر کو بہت زیادہ اچھی کارکردگی کا حامل کاربن مواد بنایا جا سکتا ہے، جو مسلسل ایک ایسا ذریعہ بن جائے گا جو معاشرے کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ سگریٹ کا فلٹر سینتھک کیلولوس ایسی ٹیٹ ریشوں سے بنایا جاتا ہے۔ اس زہر کو ہم نے سائنسی طریقے سے جلا کر کاربن بیسڈ مواد بنایا ہے، جو توانائی کو جمع کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس