اخلاق باختگی کے ہولناک واقعات ہمارے معاشرے کو کہاں لے جائیں گے؟

اخلاق باختگی کے ہولناک واقعات ہمارے معاشرے کو کہاں لے جائیں گے؟

  

وزیر اعظم نوازشریف نے قصور میں بچوں سے بد اخلاقی اور پھر اس کی ویڈیو بنانے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا ملزموں کو سخت سزا دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا ہے سیشن جج کی سطح پر انکوائری کے لئے چیف جسٹس کو درخواست کی جائے گی اور کہا ہے متاثرین کو انصاف دیا جائے گا۔ بد اخلاقی کے دو مزید ملزم بھی گرفتار ہوئے ہیں سات نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ پولیس نے روایتی طور پر تحقیقات کا آغاز تو کیا ہے، تاہم پولیس افسروں کے خیالات میں تضادات بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات میں ایف آئی اے سے مدد لی جائے گی۔اس ہولناک واقعے سے یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ جو زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل ہے اخلاقی گراوٹ کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا جا رہا ہے اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ چند برس قبل لاہور میں بھی منظرِ عام پر آیا تھا، لیکن اس میں ملزم ایک تھا اور اس کا طریق واردات الگ نوعیت کا تھا، قصور کا واقعہ اس لحاظ سے زیادہ ہولناک ہے کہ اس میں بڑی تعداد میں لوگ ملوث ہیں اور متاثرہ بچوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔ اگرچہ پولیس کے مطابق صرف سات شکایات ملیں۔ پھر یہ معاملہ کئی سال پر محیط ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بچے بد اخلاقی کا نشانہ بنتے رہے۔ لیکن ان کے والدین انجانے خوف و دہشت کی وجہ سے خاموش رہے اور بات حکام تک نہ پہنچی، اگر پہنچ بھی گئی تو معاملہ غالباً اس خیال سے دبا دیا گیا کہ اگر اعلیٰ حکام کے سامنے آیا تو بالآخر باز پرس علاقے کے پولیس افسروں ہی سے ہو گی۔ اب بھی اگر یہ راز طشت از بام نہ ہوتا تو نہ جانے برائی اندر ہی اندر کب تک بڑھتی اور کہاں تک پھیلتی جاتی۔

اخلاقی پستی کے اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے کی مصنوعی چمک دمک کے نیچے مختلف النوع اخلاقی برائیوں کا کیسا وسیع جال پھیلا ہوا ہے جب کوئی ایسا واقعہ منظرِ عام پر آتا ہے تو دل دہل جاتے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں چند روز تک شور و غوغا ہوتا ہے سرکاری حکام بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے ہیں پھر یکایک سب کچھ تھم جاتا ہے لوگ اپنی اپنی مصروفیات میں اُلجھ جاتے ہیں اور معاشرہ اپنی ڈگر پر رواں ہو جاتا ہے۔ لیکن اس واقعہ سے یہ بہر حال ثابت ہو جاتا ہے کہ ہمارے ہاں سنگین معاشرتی برائیوں کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور روزانہ نت نئی اقسام کے جرائم سامنے آتے ہیں۔ جن کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ ہماری انتظامیہ پوری طرح تیار ہوتی ہے اور نہ معاشرہ، بلکہ افرادِ معاشرہ تو اپنی مصروفیات ہی سے باہر نہیں نکل پاتے، اور اگر کوئی اپنے وقت کی قربانی دے کر آگے بڑھتا ہے تو اسے یہ انجانا خوف ہوتا ہے کہ اسے کسی قانونی کارروائی میں اُلجھا نہ دیا جائے۔ اسی خوف کی وجہ سے وہ بعض اوقات برائیوں کو اپنے سامنے رونما ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور لب بستہ رہتا ہے۔ پولیس بھی شکایت سامنے آنے سے پہلے ایسے کسی واقعہ کا سراغ لگانے سے بظاہر بے بس ہوتی ہے جہاں تک قصور جیسے واقعات کا تعلق ہے معاشرہ اس کے رد عمل میں مجموعی طور پر بے حسی کا شکار نظر آتا ہے جس کا ایک عکس پولیس کے طرزِ عمل میں دیکھا جا سکتا ہے جو اتنے سنگین معاملے کو ایک معمولی جرم سمجھ کر نظر انداز کرنے کا رویہ ظاہر کر رہی ہے۔ پہلے تو اسے زمین کا تنازعہ ظاہر کیا گیا، پھر کہا گیا کہ صرف سات شکایات ملی ہیں اب جب چاروں جانب شور مچ گیا ہے اور نت نئی کہانیاں اور ان کے کردار سامنے آنے لگے ہیں تو تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنانے کی بات بھی چل نکلی ہے لیکن یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ ہماری انتظامیہ اپنے طور پر پہل کر کے معاشرے میں پلنے والے ایسے جرائم کی روک تھام کے لئے نہ تو تیار ہے اور نہ تربیت یافتہ۔

سعودی عرب اور ایران دو ایسے ملک ہیں جہاں ’’نہی عن المنکر‘‘ باقاعدہ ایک محکمہ ہے اور معاشرتی برائیوں کی روک تھام میں اس کا کردار متعین ہے۔ اس محکمے کے اہل کار شہروں اور دیہات میں شہریوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور جہاں کہیں اخلاقی جرائم کی بو سونگھتے ہیں وہاں فوراًمداخلت کرتے ہیں۔ اس کام کے لئے با وردی اور بے وردی پولیس قائم ہے۔ اس بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ یہ پولیس کس حد تک کامیاب ہے۔ مغربی ملکوں میں دونوں ملکوں کی اس پولیس کے متعلق منفی خبریں بھی منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں لیکن اگر خرابیاں موجود بھی ہیں تو بھی انہیں دور کر کے اور’’نہی عن المنکر‘‘ کے تصور کو جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر اس سے اصلاحِ معاشرہ کی خدمت ضرور لی جا سکتی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری حکومتیں اپنے گونا گوں مسائل میں اُلجھی رہتی ہیں، معاشی مسائل نے پورے معاشرے کو الگ سے جکڑ رکھا ہے۔ اپوزیشن کی ساری تگ و تاز کا دائرہ کار بھی حکومت کی ناکامیوں کے گرد پھیلا ہوتا ہے۔ اور وہ ہر وقت اُنہی کا ماتم کرتی نظر آتی ہے۔ معاشرہ کدھر جا رہا ہے اور اس کی اصلاح کے لئے بھی کسی کو کوئی کام کرنا ہے، اس جانب کسی کا دھیان نہیں۔مسلمانوں کے اس معاشرے میں اولاد ماں باپ کو قتل کر رہی ہے۔ بیویاں شوہروں کی جان لے رہی ہیں، والدین بیٹیوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ان جرائم کی خبریں اخبارات میں چھپتی ہیں اب تو الیکٹرانک میڈیا پر بھی ایسے ایسے واقعات کی جھلک نظر آ جاتی ہے کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیں لیکن سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ان واقعات کے تدارک کے لئے کوئی منظم اور مربوط سرگرمی نظر نہیں آتی، اصلاحِ معاشرہ کے نام پر جو تنظیمیں قائم ہیں ان میں بھی بعض اوقات جرائم کا رجحان پایا جاتا ہے۔ گمشدہ بچوں کو تلاش کرنے والے اداروں میں بھی جرائم پیشہ لوگ گھس جاتے ہیں اور ان بچوں کو بد اخلاقی پر مائل کرتے ہیں۔ ایسی اطلاعات منظرِپر آتی رہتی ہیں۔

علماء دین کا کردار اس سلسلے میں مشعلِ راہ ہونا چاہئے تھا اور انہیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت کا کوئی ایسا وسیع تر نظام وضع کرنا چاہئے تھا جو مجموعی طور پر معاشرے میں بچوں کو مفید شہری بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ لیکن وہ بھی ایسے جھمیلوں میں اُلجھ گئے ہیں کہ اس کار خیر کے لئے ان کے پاس وقت ہے نہ کوئی منصوبہ !بہت سے ملکوں میں ایسے ادارے قائم ہیں جو یہ کام بطریق احسن انجام دیتے ہیں۔ان کے نظام کا جائزہ لے کر ہمیں کوئی ایسی فورس قائم کرنے پر توجہ دینی چاہئے جو موجودہ پولیس سے الگ تھلگ ہو اور اس کا بنیادی فرض معاشرے میں جرائم کو پنپنے سے روکنا ہو جس میں ماہرین نفسیات شامل ہوں جو ایسے سنگین جرائم کی روک تھام سائنٹفیک خطوط پر کرنے میں معاونت کر سکیں۔ پولیس کا موجودہ ادارہ یہ کام نہیں کر سکتا وزیر اعلیٰ نے جو عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے وہ زیادہ سے زیادہ چند مجرموں کی نشان دہی کر دے گا جو سال ہا سال سے اس قبیح اخلاقی برائی میں ملوث تھے، اور اخلاق باختہ حرکتیں کر رہے تھے۔ چند مُجرموں کو سزا بھی ہو سکتی ہے لیکن اس طرح سے ایک محدود دائرے میں مقصد تو حاصل ہو جائے گا لیکن کیا پتا اس نوعیت کے اخلاقی جرائم کہاں کہاں پنپ رہے ہیں اور ان کی جانب ابھی کسی کی نظر نہیں گئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک گیر سطح پر ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کا ادارہ سائنٹیفک خطوط پر قائم کیا جائے جو معاشرے سے اخلاقی برائیوں کا سراغ لگائے اور انہیں ختم کرنے کا ذمہ دار ہو، جن ملکوں میں ایسے ادارے قائم ہیں ان سے اس سلسلے میں مشاورت اور مدد لی جا سکتی ہے۔ یہ کام ترجیحی بنیادوں پر قائم کرنا ہوگا ورنہ معاشرے کی اخلاقی بنیاد یں کمزور سے کمزور تک ہوتی جائیں گی۔اور پھر یہ عمارت دھڑام سے گر بھی سکتی ہے۔

مزید :

اداریہ -