احتساب ضرور، لیکن بلا امتیاز!

احتساب ضرور، لیکن بلا امتیاز!

  

احتساب بیورو یکایک زیادہ سر گرم عمل ہو گیا ہے اور اس کی صوبائی شاخوں نے بھی پرانے ریفرنسوں کو پھر سے زندہ کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابھی پیپلزپارٹی پنجاب اور ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر قاسم ضیاء کی گرفتاری کی خبر فضا ہی میں تھی کہ پیپلزپارٹی ہی کے سینٹر سیف اللہ بنگش کے صاحبزادے شوکت علی بنگش کو ایک شادی ہال کی اراضی فروخت کر کے رقم خورد برد کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل احتساب بیورو سندھ کی طرف سے گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا جس پر پہلے ایم کیو ایم کی طرف سے احتجاج ہوا ، پھر سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی اعتراض کیا اور کہا کہ نیب کو دیکھ بھال اور سوچ سمجھ کر کارروائی کرنا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے تو 18 ویں ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری کا بھی حوالہ دیا۔ ادھر قاسم ضیاء کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی پنجاب نے احتجاج کیا اور اسے انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ اب ایک اور گرفتاری کی خبر آ گئی ہے۔ پاک فوج نے جب این ایل سی سکینڈل کا فیصلہ سناتے ہوئے اپنے دو سابق اعلیٰ افسروں کو سزا کا مستوجب ٹھہرایا تو جبھی کہا گیا تھا کہ اب احتساب کا عمل تیز ہوگا اور یہ شروع ہو گیا ہے۔اس سلسلے میں اب تک کی کارروائی کا زیادہ تر ہدف ایم کیو ایم کے بعد پیپلزپارٹی بنی ہے حالانکہ سکینڈل بہت ہیں، ان میں سیاست دان ہی نہیں۔ بیورو کریٹ اور دوسری کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ احتساب کے عمل کو سبھی پسند کرتے اور چاہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہو جائے تاکہ کرپشن کے دروازے بند ہوں، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ احتساب حقیقتاً ہوتا نظر آئے اور یہ بلا امتیاز ہو، جہاں تک احتساب بیورو کا تعلق ہے تو اس کے بیشتر ریفرنس یا تو ’’پلی بارگیننگ‘‘سے ختم ہو جاتے ہیں یا پھر مضبوط کیس نہیں ہوتے اور ملزم بری ہو کر اپنی صفائی کا دعویٰ کرتے اور حق بجانب ہوتے ہیں، اس لئے احتساب بیورو کو اپنی سرگرمیوں کو تیز ضرور کرنا چاہئے لیکن احتیاط، قواعد و ضوابط اور قانون کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیس مضبوط بھی ہونے چاہئیں۔ قاسم ضیاء ہی نے کہا ہے کہ وہ اپنے حصے کی رقم ادا کر چکے ہیں، عوام کے مطابق ابھی بڑی مچھلیاں باقی ہیں، ان سب پر ہاتھ ڈالنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -