بھارتی فن کار سکھ بیر سنگھ؟

بھارتی فن کار سکھ بیر سنگھ؟

  

خبر ہے کہ ایک بھارتی گلوکار سکھ بیر سنگھ کو لاہور سے دوبئی جاتے ہوئے لاہور ایئرپورٹ پر مقررہ حد سے زیادہ کرنسی لے جاتے ہوئے روک لیا گیا لیکن وہ اہل کاروں کی آنکھ بچا کر کھسک گیا۔ اب ایف آئی اے (امیگریشن) والے کسٹمز والوں کو اور کسٹمز والے ایف آئی اے والوں کو الزام دے رہے ہیں جبکہ مطلوبہ شخص جا چکا ہے۔ خبر کے مطابق سکھ بیر سنگھ جب لاہور ایئرپورٹ پہنچا تو اس کے سامان کی سکیننگ کے بعد جب پڑتال ہوئی تو اس کے پاس 27 ہزار ڈالر تھے۔ قواعد کے مطابق کوئی بھی شخص دس ہزار ڈالر سے زیادہ کرنسی نہیں لے جا سکتا اور وہ بھی اسے قواعد کے مطابق گوشوارے میں ظاہر کرنی چاہئے۔ سکھ بیر سنگھ جو گلوکار ہے اس کے پاس رقم زیادہ تھی اس لئے اس کو روک کر کسٹمز کے حوالے کیا گیا کہ وہ قانون کے مطابق عمل کریں، لیکن سکھ بیر جل دے کر نکل گیا جس کے بعد اس کی تلاش کے لئے پروموٹر کا پتہ کیا جا رہا تھا جس نے گلوکار کو بلوا یا تھا۔ ابھی تک مزید اطلاع نہیں ملی۔

یہ عجیب سی کہانی ہے کہ مطلوبہ شخص کسٹمز والوں کو جل دے کر نکل گیا جبکہ کسٹمز والوں کا کہنا ہے کہ اس کو ان کے حوالے ہی نہیں کیا گیا تھا یہ دو محکموں کی غفلت کا نتیجہ ہے، ورنہ مطلوبہ شخص کو روک کر قواعد کے مطابق اضافی رقم ضبط کر کے اسے جانے دیا جاتا یا پھر باقاعدہ کیس بنا کر قانونی کارروائی ہوتی اور قواعد ہی کے مطابق اس کی جان چھوٹتی بھارت میں پاکستان کے کئی اہم فن کاروں کے ساتھ یہ سلوک کیا جا چکا ہے کہ ان کو گرفتار کر لیا گیا ان کی ضمانت ہوئی پھر کیس لڑ کے وہ مقدمے سے بری ہوئے یا سزا یاب ہوئے۔اس سلسلے میں ایئرپورٹ کے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی ضرورت ہے اور جو اہل کار بھی غفلت کا مرتکب ہو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور فن کار سکھ بیر سنگھ کو بھی یوں فرار نہیں ہونا چاہئے تھا،بلکہ اس کے ہوتے ہوئے کارروائی ہوتی تو شاید اس کی گرفتاری کی نوبت نہ آتی، اب اس کے جرم کی نوعیت سنگین ہو گئی ہے۔ متعلقہ حکام کو اسے تلاش کر کے ضروری کارروائی کرنا چاہئے اور بد نامی والا کوئی کام نہیں ہونا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -