شجاع آباد سے محبت کرنے والا صحافی

شجاع آباد سے محبت کرنے والا صحافی

  

روس کے انقلابی ادیب ،میکسم گورکی نے اپنے بچپن کے مسیحی ماحول کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ مجھے ابا کے خدا سے خوف آتا تھا۔مجھے اماں کے خدا سے محبت تھی۔ابا کہا کرتے تھے کہ خدا دوزخ کی آگ میں جلاتا ہے،سخت ترین سزا دیتا ہے۔وہ واحد القہار ہے مگر اماں کہا کرتی تھیں کہ خدا محبت کرتا ہے۔اپنے بندوں کو بخش دیتا ہے،غفور الرحیم ہے‘‘۔

ابراہیم صدیقی کا جنم شجاع آباد میں ہوا وہ شہر دیہات پر مشتمل تھا۔مٹی سے بنی ہوئی مساجد اور گھاس سے بنے ہوئے گھروں والا’’ شجاع آباد‘‘ جہاں صبح بہت جلدی ہوا کرتی تھی اور رات بہت جلدہو جایا کرتی تھی ۔ رات کی کالی کوکھ سے جنم لینے والے سونے جیسی صبح کے سارے رنگ دیکھتے۔پرندوں کے گیت سنتے۔گندم کے آٹے سے بنی ہوئی روٹی مکھن لسی سے کھاتے اور شام ہونے کے بعد وہ بہت جلد سو جایا کرتے اور جب تک انہیں نیند نہیں آتی تب تک آسمان میں ستاروں کے روشن کارواں دیکھتے رہتے اور بادلوں کے درمیان چلتے ہوئے چاند کے بارے میں اپنی دادی سے عجیب و غریب سوالا ت کرتے۔بچوں کو جلدی سلانے کے لیے وہ بوڑھی اماں کبھی شہزادوں کی کہانیاں سناتی تو کبھی ان کے والدین کے بچپن کے قصے بتاتی اور کبھی بہت دھیمے سروں میں وہ نعتیں گنگناتی جنہیں سرائیکی میں ’’مولود‘‘ کہا جاتا ہے۔وہ معراج کا مولود تو بچوں کا فیورٹ ہوا کرتا تھا۔وہ مولود جس میں نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے مقدس سفر کو منظوم قصے کی صورت میں مترنم آواز میں پڑھا جاتا تھا اس مولود کے سات مصرعے ہوا کرتے تھے جو سات آسمانوں کی منظر کشی کیا کرتے تھے۔ہر مولود میں ہر آسمان کو ایک منزل پکارا جاتا تھا۔

اس ماحول میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک ہاتھ کان پر رکھ کر اور دوسرا ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے ابراہیم صدیقی نظام مصطفیٰ کی تحریک سے اپنی صحافتی اور سیاسی زندگی کا آغاز کریں گے۔وہ ماحول اس ماحول سے بالکل مختلف تھا جس ماحول میں مفسر قرآن علامہ عبدالعزیز قرآن مجید کا منظوم ترجمہ کیا کرتے تھے۔یہ ماحول پیدا ہوا تھا اس ماحول کے بطن سے جس دور میں درمیان شہر شاہی جامع مسجد میں حضرت مولانا قاضی احسان احمد کے پاس بر صغیر کے جید علما آتے تھے اور انگریز حکومت کے خلاف یہ ترانے گاتے کہ:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اور اس ماحول میں کی جانے والی تقاریرکے درمیان یہ نعرے ہوا کرتے تھے۔’’ سر بکف سر بلنددیو بند دیو بند‘‘ مگر اس سوچ کا اپنے معاشرے سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔وہ محبت کا دور تھا۔وہ پیار کا سلسلہ تھا۔تاریخ کے اس کارواں کا ایک چراغ تھا۔ابراہیم صدیقی۔ وہ ابراہیم صدیقی جو اس سچائی کو دل سے تسلیم کیا کرتا تھا کہ: ’’ گر نہیں مٹی تو پھر کیسا کفن؟‘‘

اس شخص کے دل میں اپنے شہر سے محبت کا ایک دریا بہا کرتا تھا۔وہ شخص جو نوائے وقت کا شجاع آباد میں عرصہ تیس سال سے رپورٹر تھا ،جو قوم پرست اور مذہبی سیاست کے درمیان ایک مضبوط پل تھا،جس نے اپنے شہر کے ساتھ دل سے محبت کی تھی ،وہ صحافی جس نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ’’ یہ کہنا بہت مشکل ہے مگر سچائی کا میں نے مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر اعتراف کیا تھا کہ شجاع آباد سے محبت میرے ایمان کا حصہ ہے‘‘۔ آج شجاع آبادکی دھرتی اس کے لیے اس طرح رو رہی ہے جس طرح ایک ماں اپنے نیک بیٹے کی موت پرروتی ہے۔یہ پہلی بار ہوا ہے اس سے پہلے اس قسم کا منظر شجاع آباد کی سیاست میں نہیں دیکھا گیا ۔ایسا نہیں کہ شجاع آباد میں سیاسی رہنماؤں کی موت پر اجتماعات نہیں ہوئے۔میڈیا کی آنکھوں نے شجاع آباد میں بہت بڑے اجتماعات دیکھے ہیں مگر قوم پرست لیڈروں اور شخصیات کی آخری رسومات کے دوران قوم پرست نظریات والے ہی جمع ہوتے ہیں مگر ابراہیم صدیقی کی نماز جنازہ میں صرف مذہبی جماعتوں سے وابستہ افراد ہی نہیں تھے بلکہ ان کے آخری سفر میں قوم پرست،ترقی پسند اور لبرل جمہوریت پسند لوگوں کے علاوہ وہ صحافی بھی موجود تھے جو ان سے نظریاتی اختلاف رکھتے تھے۔

مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی غم سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ اس شخص کے جسد خاکی کو کندھا دینے کے لیے پہنچی جس نے اپنی صحافت میں مٹی کی مہک کو شامل رکھا تھا۔جس نے اپنے شہر میں سب لوگوں کے ساتھ محبت کا رشتہ قائم رکھا۔ابراہیم صدیقی نے اپنا سیاسی اور صحافتی سفر بڑی محنت سے طے کیا ۔وہ ایک غریب مگر با عزت مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔مستقل محنت نے انہیں شجاع آباد کی ایک طاقت ور شخصیت بنا دیامگر انہوں نے کبھی بھی اپنی طاقت کا غلط استعمال نہیں کیا۔کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔کبھی کسی کو نہیں ستایا۔وہ ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتے۔جب کوئی شخص ان کے پاس کسی کام کے لیے آتا تو وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ کام نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کبھی کسی سے یہ نہیں کہا کہ میں سماجی کارکن نہیں۔وہ پوری کوشش کرتے کہ مدد مانگنے کے لیے آنے والے کا کام کسی طرح بھی ہو جائے۔وہ اس میں پوری محنت اور دیانت سے کوشش کرتے۔انہیں تقریر کا ملکہ حاصل تھا۔بڑے بڑے سیاسی اسٹیج پر جب وہ تقریر کرتے تو سامعین کا جوش ابھر آتا۔اس طرح وہ شخص جو اپنی تقریر کے دوران کبھی کبھی موڈ میں آ کر نت نئے نعرے لگواتا۔انہوں نے دیو بند تحریک کی اس روایت کو نہیں چھوڑا جو شجاع آباد میں اپنے مخصوص مزاج کے حوالے سے تاریخ کے راستوں پر چلتی آئی ہے۔

ابراہیم صدیقی کو شجاع آباد میں اپنا نام روشن سیاہی سے رقم کروانے کا بڑا شوق تھا۔اس لیے وہ بڑے کاموں کے لیے اپنے آپ کو ہمیشہ تیار رکھتے۔انہیں اس بات کا یقین تھا کہ تاریخ بنائی جا سکتی ہے اس لیے وہ ایک مزدور کی طرح کام کرتے،وہ سادگی سے چلتے ،وہ ایک مثالی انسان تھے اور اب وہ ایک مثال بن گئے ہیں۔ضلع ملتان کے بڑے بڑے سیاست دان ان کا احترام کرتے تھے۔یہ بات کسی بھی بحث سے بالاتر حقیقت کی طرح ابھر کر سامنے آ گئی ہے کہ ان کی موت کے بعد شجاع آباد میں ان کی شخصیت کے حوالے سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔اب وہ پل نہیں رہا جو مختلف نظریات کے لوگوں کو آپس میں جوڑتا تھا۔اب وہ رشتہ باقی نہیں رہا جس کے دائرے میں سب لوگ سما جاتے تھے۔اب وہ درخت نہیں رہا جس کی گھنی چھاؤں میں سب مل بیٹھتے اور اپنائیت کے ساتھ سوچتے کہ شجاع آباد کے دکھوں کو کس طرح دور کرنا چاہیے؟ اور اس کمی کو سب سے زیادہ محسوس کرے گاوہ شہر جو، اب سیاسی حوالے سے یتیموں کا شہر بن گیا ہے۔وہ شجاع آباد جہاں موسم گرما کے دوران کپاس کے پھول کھلتے ہیں۔جس کی گرم ہواؤں میں آموں کی مہک اڑتی ہے۔اب اس شہر میں ایک مثالی شخص کا درد دھوئیں کی طرح پھیل گیا ہے اور وہ شخص اپنی روح میں تنہائی کے بھرپور احساس کے ساتھ سیاسی اور صحافتی حلقوں کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کیا یہ دنیا ایسے شخص کو پیش کر سکتی ہے جو اپنی دھرتی سے اس طرح پیار کرتا ہوجس طرح ابراہیم صدیقی شجاع آباد سے کیا کرتا تھا۔ایسی محبت جیسی محبت ایک بچہ اپنی ماں کی آغوش سے کرتا ہے۔

ابراہیم صدیقی عمر میں مجھ سے بڑے تھے مگر انہوں نے کبھی اس فرق کو دیوار نہ بننے دیا۔میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ہر معاملے میں ان کی ایک مدلل رائے ہوتی وہ اپنی رائے پر قائم رہتے تھے بلکہ قلیل سی بحث میں ہم تمام دوست بھی ان کی رائے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔انہیں دلیل سے بات کرنے کا نایاب فن آتا تھا۔3جولائی جمعہ کے روز شجاع آباد کے نوجوان صحافی انیق مغل کا فون آیا ۔میں نے محسوس کیا کہ انیق بہت دکھ کی کیفیت میں ہے بات کرتے کرتے خاموش ہو جاتا تھا۔میں نے ان سے پوچھا کہ وہ اتنا پریشان کیوں ہے۔انیق نے رونا شروع کر دیا اور بتایا کہ ابراہیم صدیقی صاحب انتقال کر گئے ہیں۔میں یقین اور بے یقینی کے گرداب میں غوطے کھانے لگا۔آنکھوں میں بادل سے چھا گئے۔انیق مغل نے فون بند کیا تو میں عجیب سی کیفیت میں ڈوب گیا۔اتنی جلدی ،کیوں اور کیسے۔شاید وہ اپنے داخلی غم دکھ اور اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو اپنے اندر پالتے پالتے تھک چکے تھے،میں تو صرف محدود مدت سے ایک دوست تھا۔میرے جیسے لاتعداد لوگ مزید بھی ہیں ۔ایسے لگا میرے دل پر اس عظیم شخص کی جدائی کا داغ سا بن گیا ہے۔ایک مستقل نشان جو آج تک قائم ہے۔اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔آمین

مزید :

کالم -