بلوچستان

بلوچستان
بلوچستان

  

وزیر اعظم نواز شریف کی وفاقی حکومت نے بلوچستان کے سلسلے میں پرامن منصوبہ کو منظور کر لیا ہے ۔ اس منصوبہ کا مقصد ان بلوچوں کو بیرونی ممالک سے واپس لانا ہے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ حکومت نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کیلئے 5سے 15لاکھ روپے تک کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے، ان افراد کے بچوں کی تعلیم و تربیت،صحت اور روزگار بھی حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔ بلوچستان کے حوالے سے یہ اہم فیصلے 6 اگست کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بلوچستان کی اپیکس کمیٹی میں کئے گئے۔ اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔ بلوچستان خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ میں اپنے مختلف کالموں میں گزشتہ تین سال سے کئی تجاویز پیش کر چکا ہوں تاکہ بلوچستان میں پیدا کی گئی شورش پر قابو پایا جاسکے۔ حکومت اور فوج نے یہ مستحسن قدم اٹھایا ہے۔ اس ضمن میں کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے پیش رفت کی تھی۔ اب یہ ذمہ داری ان عناصر کی ہے کہ وہ حکومت کے اقدامات کی روشنی میں واپس پاکستان آکر قومی دھارے کا حصہ بنیں اور اپنی ذمہ داریاں اادا کریں۔ خواہ وہ خان آف قلات ہوں یا خانوادہ بگٹی اور مری کے بیرون ملک مقیم فرزندگان۔ ان کی مسلسل غیر موجودگی بذات خود کئی دیگر مسائل کو جنم دیتی ہے۔

میں نے جولائی 2012کو جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت تھی اور اسی پارٹی کے شریک چیئر مین تھے، ایک کالم میں لکھا تھا کہ بلوچستان میں گزرنے والا ہر لمحہ پاکستان کو عدم استحکام کی جانب گامزن کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو حالت جنگ میں سمجھنا چاہئے۔ ہمارے پاس ان غلطیوں کو دہرانے کا وقت ہے اور نہ ہی قوت جو ہم سے مشرقی پاکستان میں سر زد ہوئیں اور جس کا خمیازہ ہم تمام زندگی بھُگتتے رہیں گے ۔ مملکت پاکستان کے صدر اور حکومت کے وزیراعظم اور حزب اختلاف کے قائد کو چاہئے کہ کم از کم تین کمیٹیاں قائم کریں جو مختلف زاویوں سے بلوچستان کا جائزہ لیں اور قومی اسمبلی ان کی سفارشات پر عمل در آمد کو یقینی بنائے۔ اس سلسلے میں جتنی جلدی ہوگی بہتر ہوگا۔تاخیر کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے ہیں ۔ ایک کمیٹی پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے کم از کم چار سابق اور رٹائرڈ سربراہوں پر مشتمل ہو جو ایف سی کے اس وقت کے سربراہ میجر جنرل عبید اللہ خٹک کے بیان کی روشنی میں جائزہ لے کہ بلوچستان میں بھارت کتنا ملوث ہے اور کس کس ملک کی خفیہ ایجنسیاں کیوں سرگرم ہیں اور پاکستان فوری کیا اقدامات کرے۔

دوسری کمیٹی مدیران اخبارات اور دانشوروں پر مشتمل ہو جو جائزہ لے کہ بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے کیا کیا اقدامات پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح کی بنیا پر ضرورت ہیں ۔ تیسری کمیٹی سندھ اور پختون خوا (پنجاب نہیں ) کی یونی ورسٹیوں کے نوجوانوں پر مشتمل ہونا چاہئے جو تین ماہ تک بلوچستان کے مختلف شہروں میں رہ کر جائزہ لیں کہ کشت و خون ، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے پس پشت کیا مقاصد ہیں اور کون کارفرما ہے ۔ ایک اورکمیٹی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے جو سندھ کے قبائلی سرداروں پر مشتمل ہو جو بلوچستان کے سرداروں سے ملاقات کرکے انہیں قائل کرے کہ دہشت گردی، قتل و غارت گری سے مسائل الجھیں گے اور پاکستان کے دشمنوں کو ہی فائدہ پہنچے گا اس لئے وہ اپنے اپنے قبیلے کے نوجوانوں کو قائل کریں کہ وہ ایسی کارروائیوں سے کنارہ کشی اختیار کریں اور معاملات کومذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ابتدا کریں ۔ ایک اور کمیٹی نہایت اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے کہ وہ ان جائزوں کے بعد دنیا بھر کو بھارت کے عزائم سے آگاہ کرنے کے لئے موئثر کارروائی کرے ۔ یہ تمام کمیٹیاں سرکار بنائے، سہولتیں فراہم کرے لیکن اعلی سرکاری افسراں کی افسری سے دور رکھا جائے ۔ یہ افسران قواعد اور ضابطوں کے نام پر کام کم اورسست رفتاری سے کرتے ہیں جو وقت کا ضیاع ثابت ہوتا ہے ۔ وقت کی ڈور ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اور ہماری دوڑ وقت کے مقابل ہے اور وقت ہے کہ جو ہمارے ہاتھوں سے مکھن لگی رسی کی طرح نکلا جارہا ہے ‘‘۔

ایک اور کالم میں تحریر کیا تھا کہ ’’ تو پھر بلوچستان حکومت یا وفاقی حکومت بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لئے سرداروں کی خدمات کیوں حاصل نہیں کرتی اور اگر سردار کوئی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو وفاقی حکومت بلوچستان میں اپنا کیمپ کیوں قائم نہیں کرتی اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات سے کیوں گریزاں ہے ‘‘ ۔ اسی کالم میں لکھا گیا تھا کہ مشرقی پاکستان( اب بنگلہ دیش) میں کئے گئے اقدامات سے بلوچستان میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے تو پاکستان مشرقی پاکستان میں اپنی ناکامیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے درست اقدامات کرکے بلوچستان کو بھارت کا تختہء مشق بننے سے کیوں نہیں بچا سکتا ؟ بلوچستان میں غیر بلوچوں کو جن میں پنجابی، اردو بولنے والے، پختون، سندھی، شامل ہیں ، چن چن کر قتل کرنا ان لوگوں کا کام نہیں ہو سکتا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ احساس محرومی کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں ان تما م لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے ، جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچستان میں صرف کر دی۔ ان لوگوں نے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ آج یہی لوگ ہدف ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی نام نہاد آزادی کی تحریک کی مزاحمت کر سکتے ہیں۔ عین انسانی فطرت کے پیش نظر یہ لوگ اب بلوچستان سے جانا بھی چاہئیں تو نہیں جاسکتے کہ انہوں نے اپنے اثاثے بلوچستان میں ہی بنائے، جنہیں اب ان سے کوئی کوڑیوں میں خریدنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بلوچستان کی آزادی کی جنگ کا حصہ بننے والوں کو یہ سوچنا ہوگاکہ بلوچستان میں جب تعلیم دینے والا کوئی نہیں ہوگا، علاج کرنے والا کوئی نہیں ہوگا تو بلوچ عوام کا کیا بنے گا۔ پھر غیر تعلیم یافتہ بلوچ لوگ سردار کی اطاعت گزاری کے سوا کیا کر سکیں گے ‘‘ ۔

بلوچستان کے ساتھ ساتھ حکومت کو سندھ میں بھی ان عناصر سے گفت و شنید کرنا چاہئے جنہیں کسی نہ کسی وجہ سے ملک دشمن قرار دے کر ان کی تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی ، ان کے درجنوں سرگرم کارکن حراست میں لئے گئے پھر ان کی تشدد زدہ لاشیں ملیں۔ میرا اشارہ جئے سندھ متحدہ محاذ کی جانب ہے۔ محاذ کے سربراہ شفیع برفت بیروں ملک خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کیوں نہیں ان عناصر سے بھی بامقصد گفتگو ہو سکتی اور ان کی شکایات کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا۔ محاذ آئین پاکستان سے تجاوز کرتا ہے لیکن ان سے گفتگو تو کی جاسکتی ہے تاکہ ان کے تحفظات دور کئے جاسکیں۔ ان کے سرگرم کارکنوں کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اختیار ہونا چاہئے لیکن یہ گرفتاریاں اور ایک کے بعد دوسرا ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ کسی طور پر تھمنا چاہئے کیوں کہ یہ حالات کو کیوں کر پر امن رکھنے میں مدد گار ثابت ہو سکیں گے۔ اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ سے بھی براہ راست با مقصد گفتگو کے لئے وفاقی حکومت اور فوج کو آگے بڑھنا چاہئے۔ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنا چاہئیں اور ایم کیو ایم کو بھی معاملات میں مملکت اور مملکت کے اہم اداروں پر درشت تنقید سے اجتناب برتنا چاہئے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہر قدم احتیاط سے اٹھایا جائے۔ اس تماش گاہ میں جہاں رات و دن سیاست داں اوراراکین پارلیمنٹ جمہوریت کا گیت گاتے ہیں، انہیں سازگار جمہوری فضا اور ماحول بھی قائم کرنا چاہئے تاکہ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے عناصر اپنے تحفظات ، خیالات اور مطالبات کا بر ملا اظہار کرسکیں اور انہیں حل کرا سکیں۔ اسے ہی جمہوریت کہا جاتا ہے۔

مزید :

کالم -