ریحام خان کے لئے چند مشورے

ریحام خان کے لئے چند مشورے
ریحام خان کے لئے چند مشورے

  

بقراطی جھاڑنے والوں کا اپنا ہی ایجنڈا ہوتا ہے، اس لئے ان کی باتوں کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہئے مگر ان کی شاطرانہ چالیں اس قدر دل لبھانے والی ہوتی ہیں کہ اچھے بھلے انسان کا دماغ خراب کر کے رکھ دیتی ہیں۔ مثلا آج کل ایک ایسا ہی بقراطی مافیا ریحام خان کو بے نظیر بھٹو کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں کی بھرمار ہے۔ جن میں ایک طرف شہید بے نظیر بھٹو اور دوسری طرف ریحام خان کی تصاویر لگا کر یہ لکھا گیا ہے کہ ملک کو ایک اور بے نظیر مل گئی۔ اب پتہ نہیں یہ باتیں ریحام خان تک بھی پہنچی ہیں یا نہیں اور اگر پہنچی ہیں تو ان کا ردعمل کیا ہے؟ لیکن میرا خیال ہے کہ اُنہیں اس بات کا خیال بھی ذہن میں نہیں لانا چاہئے کہ وہ بے نظیر بھٹو سے مماثل ہیں وہ سیاست میں آ تو گئی ہیں اور مختلف سیاسی و انتخابی جلسوں میں تحریک انصاف اور عمران خان کے حق میں تقاریر بھی کر رہی ہیں، لیکن اُنہیں یہ مان لینا چاہئے کہ پاکستانی سیاست کے بارے میں ان کا تجربہ ابھی خام ہے وہ اس کے رموز و اوقاف کو نہیں سمجھتیں اور سادہ لوحی میں جو کچھ کہہ رہی ہیں، وہ اُلٹا نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ مثلاً حال ہی میں انہوں نے یہ بیان دیا ہے کہ وزیر اعظم بننے کے لئے چہرہ بھی ضروری ہے۔ کہنا وہ شاید یہ چاہتی تھیں کہ وزیر اعظم کو شکل سے بھی وزیر اعظم لگنا چاہئے، مگر ان کی اس بات سے یار لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وزیر اعظم کو صرف خوبصورت چہرے والا ہونا چاہئے باقی اس کی کارکردگی اور کردار کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔

ریحام خان کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ عمران خان اپنے جلسوں میں موروثی سیاست اور عزیز و اقارب میں عہدوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے شدید تنقید کرتے رہے ہیں اب ریحام خان کے آنے کی وجہ سے خود ان پر تنقید ہونے لگی ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی سیاست میں اتار دیا ہے۔ اس لئے یہ بات آسان نہیں کہ ریحام خان سیاست میں صرف اس وجہ سے قدم جمانے میں کامیاب رہیں کہ وہ عمران خان کی اہلیہ ہیں۔ یہ چیز بنیادی طور پر ایک منفی پوائنٹ ہے جسے مثبت بنانے کے لئے بڑی تگ و دو کرنی پڑے گی۔ سوال تو یہ بھی اُٹھتا ہے کہ کیا کسی سیاسی جماعت کے سربراہ سے شادی کے بعد اس کی جیون ساتھی راتوں رات سیاسی لیڈر بھی بن سکتی ہے؟ کیا اس کے لئے صرف یہی کافی ہے یا اس کے اندر سیاست کی سمجھ بوجھ بھی ہونی چائے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ریحام خان نے سیاست میں آکر جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے ابھی انہیں پس پردہ رہ کر سیاست کے داؤ پیچ سیکھنا چاہئے تھے۔ ہاں وہ اپنے شوہر نامدار کو سیاست کے حوالے سے مشورے ضرور دے سکتی تھیں۔ مگر عملاً خان صاحب کی جگہ جلسوں میں شرکت اور خطابات میں گھریلو باتوں کا تذکرہ میرے نزدیک کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑ رہا۔ مثلاً اُن کا یہ کہنا کہ خان صاحب نے اگر عوام کے مسائل حل نہ کئے تو گھر میں اُن سے باز پرس کی جائے گی۔ ایک مزاح تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کا سنجیدہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں بنتا یہ تو ایک قومی سطح کے لیڈر کا تمسخر اڑانے والی بات ہے۔

ابھی یہ مناظر بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ پارٹی کے سینئر رہنما ریحام خان کے ساتھ کھڑے ان کا خطاب سن رہے ہیں گویا ان کی سیاسی سنیارٹی پارٹی کی خاتون اول کے جاہ و مرتبے کے نیچے دب کر رہ گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ پارٹی ڈسپلن کے خلاف ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی اُبھرے گا کہ عمران خان سے کوئی بات منوانی ہے یا کوئی کام کروانا ہے تو ریحام خان کے ذریعے بات کی جائے۔ اگر عمران خان کی یہ کمزوری بن گئی تو پھر کاریگر قسم کے پارٹی رہنما انہیں چھوڑ کر ریحام خان کی چھتری تلے آ جائیں گے اور پہلے سے گروپ بندی کا شکار تحریک انصاف ایک نئے مگر انتہائی با اثر گروپ کی گرفت میں آ جائے گی۔ ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ پارٹی میں موجود خواتین رہنماؤں کا ریحام خان کے بارے میں کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ فوزیہ قصوری جو خواتین ونگ کی صدر ہیں، اسے کیسے دیکھتی ہیں۔ وہ پہلے بھی اہمیت نہ ملنے پر ایک بار پارٹی سے علیحدہ ہو چکی ہیں۔ جس کے بعد انہیں اوورسیز کوآرڈینیٹر کا عہدہ دے کر راضی کیا گیا تھا۔ اب اگر انہیں ریحام خان کے ساتھ ایک مدد گار کے طور پر کام کرنا پڑتا ہے تو ان کا ردعمل کیا ہوگا۔ یہ وقت بتائے گا۔ ریحام خان کے سیاست میں آنے سے سب سے بڑا کنفیوژن یہ پھیلا ہے کہ ان کی پارٹی میں حیثیت کیا ہے۔ عمران خان کی اہلیہ ہونا ایک شناخت اور احترام کی وجہ ضرور ہے مگر سیاسی جماعتوں میں صرف رشتہ داریوں سے کام نہیں چلتا، کوئی عہدہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ عمران خان اپنی اہلیہ کو پارٹی کا کوئی عہدہ دیں گے کیونکہ اس طرح ان کے اپنے موقف کی نفی ہو گی اور ان کا نوازشریف کے خلاف سب سے بڑا اعتراض کہ انہوں نے تمام عہدے اپنے رشتہ داروں میں بانٹ رکھے ہیں مریم نواز شریف کے خلاف عمران خان کی مہم تو ابھی کل ہی کی بات ہے۔ سو ایسی غلطی وہ نہیں کریں گے جو خود ان کے لئے مشکلات پیدا کر دے، مگر ریحام خان کا سیاست میں آنے کا شوق دیکھ کر شاید وہ پارٹی رہنماؤں کو ان کی اطاعت کا ایک خفیہ پیغام جاری کر دیں۔ دونوں صورتوں میں مشکلات پیدا ہوں گی، جس سے بچنا ضروری ہے کیونکہ عمران خان روائتی سیاست نہیں بلکہ نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔

اب جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ریحام خان بے نظیر بھٹو کی جگہ لے سکتی ہیں یا نہیں؟ تو اس سے زیادہ مضحکہ خیز سوال کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ موروثی سیاست اپنی جگہ بہت اہم ہے لیکن یہ بھی قربانیاں مانگتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی صرف لیڈر کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے عوام کے دلوں میں گھر کر لے۔ آپ بھارت کی مثال دیکھیں۔ جہاں اِندرا گاندھی کو نہرو کا فائدہ ملا تو راجیو گاندھی نے اندرا گاندھی کی موت کا فائدہ اٹھایا۔ مگر جب راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا تو سونیا گاندھی کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں، کیونکہ ان کا سیاست میں کوئی تجربہ تھا اور نہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق۔ یہی وجہ ہے کہ گاندھی خاندان ہندوستانی سیاست کی ضرورت ہونے کے باوجود راجیو گاندھی کے بعد اپنے خاندان کا کوئی فرد اقتدار میں نہیں لا سکا۔ جہاں تک بے نظیر بھٹو کا تعلق ہے تو اُن کا کسی سے موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اُن کی زندگی کے ابتدائی دن سیاست کی بھول بھلیوں کو دیکھتے گزرے ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی بھرپور سیاسی تربیت کی۔ اچھے دنوں کے بعد جب مشکل دن آئے تو وہ بھی بے نظیر بھٹو نے ثابت قدمی سے گزارے۔ وہ اپنے والد کو قید و بند سے لے کر پھانسی کے پھندے تک جاتا دیکھتی رہیں۔ اُنہیں ظلم وجبر کے جس دور سے گزرنا پڑا اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ پھر وہ جوانی میں جلا وطنی کا شکار رہیں۔ سیاست کا مطالعہ اور سیاسی سمجھ بوجھ اُن کی گھٹی میں پڑی تھی۔ پھر جب وہ واپس آئیں تو ان کے اندر عزم بھی تھا اور حوصلہ بھی۔ ایک غیر شادی شدہ لڑکی ہونے کے باوجود انہوں نے لاہور کے شاندار استقبال سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ آصف علی زرداری سے شادی کے بعد وہ وزیر اعظم بنیں، سازشوں کا شکار ہوئیں عہدے سے ہٹا دی گئیں، پھر ایک جدوجہد میں شریک رہیں اور دوبارہ وزیر اعظم کا منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ایک بار پھر معزول کئے جانے کے بعد ابتلا کا ایک نیا دور شروع ہو اتو اس میں بھی ثابت قدم رہیں۔ پرویز مشرف کو پابندی ختم کرنے پر مجبور کر کے وہ وطن واپس آئیں اور اسی جدوجہد میں سانحے کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اب ایک ایسی ہمہ گیر سیاسی شخصیت سے ہم ریحام خان کا موازنہ کیسے کر سکتے ہیں۔ ریحام خان عمران خان سے شادی نہ کرتیں تو ان کا سیاست میں گزر بھی نہ ہوتا، وہ اپنی شوبز کی دنیا میں مگن رہتیں۔ یہ خان صاحب کی رفاقت ہے کہ جس نے انہیں راتوں رات سیاستدان بھی بنا دیا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں وہ سیاست میں کامیابیاں بھی سمیٹ سکیں، اس میدان میں کوئی پیش گوئی مشکل ہے۔

یہ درست ہے کہ ریحام خان کی وجہ سے پاکستانی سیاست کو سلیقے اور قرینے سے گفتگو کرنے والی ایک خاتون مل گئی ہے۔ وگرنہ ہماری سیاسی خواتین اچھی بیگمات تو ہیں لیکن قومی سیاست پر اُن کا علم خام ہے، اُن سے مختلف ایشوز پر ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی۔ مگر اس کے باوجود ریحام خان کے لئے مشورہ یہ ہے کہ وہ پارٹی کے ہر معاملے میں دخل نہ دیں۔ نہ ہی ہر تقریب میں عمران خان کے ساتھ نظر آئیں۔ اس سے یہ تاثر اُبھرے گا کہ عمران خان آزادانہ فیصلوں سے محروم ہو چکے ہیں یہ درست ہے کہ شادی کے بعد عمران خان کی زندگی میں ٹھہراؤ آیا ہے مگر یہ ٹھہراؤ ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ عمران خان کی شخصیت کا فطری حوالہ جو ان کی دبنگ اور جرات مندانہ سوچ سے عبارت ہے معدوم ہو جائے۔ ریحام خان کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے خان صاحب کو اب تک کئی بار دفاعی پوزیشن اختیار کرنی پڑی ہے۔ خاص طور پر ان کی ڈگری کے معاملے نے ایک بہت شرمندہ کرنے والی صورتِ حال میں لا کھڑا کیا تھا۔ ریحام خان بہتر ہے کہ سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں طلال چوہدری اور پرویز رشید کی جلی کٹی باتیں تو سننی پڑیں گی جو بالواسطہ طور پر خان صاحب کے لئے شرمندگی کا باعث بنیں گی۔ اچھی بات ہے ریحام خان مسکراتے ہوئے بات کرتی ہیں مگر انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ جب حریفوں کو ہنس ہنس کے ہدف بنایا جاتا ہے تو ردعمل زیادہ شدید ہوتا ہے، سیاست میں آگے جانے کے لئے بے جا ردعمل سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ ہم نیک و بد’’محترمہ‘‘ کو سمجھائے دیتے ہیں۔

مزید :

کالم -