ہنرمند افرادی قوت کو بیرن ملک بھیج کر زرمبادلہ میں اضافہ ہوسکتاہے

ہنرمند افرادی قوت کو بیرن ملک بھیج کر زرمبادلہ میں اضافہ ہوسکتاہے

  

اسلام آباد(اے پی پی) ہنر مند افرادی قوت کو بیرون ملک بھیج کر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ خلیجی ملکوں میں ملازمتوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کو پیشہ وارانہ تعلیم دینا ضروری ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کو توانائی منصوبوں اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے استعمال کر کے ملکی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ پیر کو مقررین نے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ( ایس ڈی پی آئی) میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ترسیلات زر کی اہمیت اور قومی اہداف کے حصول کیلئے ان کے استعمال سے متعلق گول میز مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عتیق الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں بیرون ملک سے تقریبات 40 فیصد تک ترسیلات زر قانونی طریقے سے بھیجی جاتی ہیں ۔

پاکستان میں خلیجی ملکوں سے سب سے زیادہ ترسیلات زر بھیجی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں خلیجی ملکوں میں ہنر مند افرادی قوت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ پاکستان سے تقریباً 70 لاکھ کے قریب لوگ خلیجی ملکوں میں کام کرتے ہیں، ان ملکوں میں ملازمتوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے زیادہ سے زیادہ ہنر مند افراد کو وہاں بھیجا جا سکتا ہے جس سے ملک کے ترسیلات زر میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والی رقوم کو ملک میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ ٹیکس جمع کرنے میں بھی اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان رقوم کو توانائی منصوبوں کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے ملک میں بجلی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پروفیسر ڈاکٹر جی ایم عارف نے کہا کہ پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے ترسیلات زر بھیجنے کی شرح ہمسایہ ملکوں سے زیادہ ہے۔ حکومت کو بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم کو قانونی بنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے پاکستانی وطن واپس آ کر نہ صرف خود کاروبار کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو بھی ملازمتوں کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب، بلوچستان اور رورل سندھ کے دور دراز کے علاقوں میں بیرون ملک ملازمتوں کے مواقعوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار نے کہا کہ ان رقوم کو ملک میں ڈیم بنانے کیلئے استعمال کرنا چاہئے جس سے سیلابوں سے ہونے والے نقصان کو روکنے میں مدد ملے گی، زرعی شعبہ ترقی کرے گا اور توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند افرادی قوت میں اضافے کیلئے ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کھولنے چاہئیں، اس سے بیرون ملک ہنر مند افرادی قوت کی مانگ کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر خرم ایس مغل نے کہا کہ بیرون ملک سے رقوم بھیجنے والے افراد کو مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے محفوظ مواقع ملنے چاہئیں۔ ترسیلات زر کو باضابطہ بنانے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں جس سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔

مزید :

کامرس -