پاکستان کو برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں: انڈونیشن سفیر

پاکستان کو برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں: انڈونیشن سفیر

  

فیصل آباد (بیورورپورٹ) اس سال کے آخر تک آسیان اکنامک کمیونٹی کے آغاز سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے اور پاکستان کو اس تناظر میں اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے ابھی سے ضروری اقدامات کر لینے چاہیءں۔ یہ بات انڈونیشیا کے قائمقام سفیر سمسورزل نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 2013 میں پرفرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کے بعد انڈونیشیا پاکستان میں اپنی برآمدات بڑھانے میں کامیاب رہا جبکہ پاکستان نے اس معاہدے سے فائدہ نہ اٹھایا حالانکہ پاکستان اس معاہدے کے تحت 200 سے زائد مصنوعات انڈونیشیا کو برآمد کر سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سالوں میں انڈونیشیا کو پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی ہے اور ان کے فیصل آباد آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ یہاں کے برآمدی تاجروں کو انڈونیشیا میں ان کیلئے موجود مواقعوں سے آگاہ کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے سے قبل پاکستانی کینو کی برآمدات صرف 3 ملین ڈالرتھیں جو اب بڑھ کر 20 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا 250 ملین کی آباد ی کا ملک ہے جس کی 66.6 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا اس وقت دنیا کی بہت بڑی معیشت بن چکاہے جس کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.9 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ انڈونیشیا اپنی آبادی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے خود چاول پیدا کرتا ہے تاہم اس کے باوجود وہاں چاول کی برآمد کے مواقع موجود ہیں۔سمسورزل نے کہا کہ وہ فیصل آباد سے انڈونیشیا کو برآمدات بڑھانے کیلئے ہر قسم کی سہولتیں مہیا کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 21 اکتوبر کو جکارتہ میں انڈونیشیا کا 30 واں ٹریڈ ایکسپو ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے برآمدکنندگان کو خاص طور پر اس ایکسپومیں شرکت کرنی چاہیئے تا کہ وہ انڈونیشیا کے درآمدکنندگان سے براہ راست رابطے کر کے اپنی برآمدات بڑھا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایکسپو میں شرکت کرنے والوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویزے جاری کئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کو پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ وہاں چین ،انڈیا اور تائیوان کی موجودگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہو چکا ہے کہ جبکہ پاکستان اب اس طویل مذاکراتی عمل کو شروع کر رہا ہے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائمقام صدر ندیم اللہ والا نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا برادر اسلامی ملک ہیں۔ انہوں نے نلتر ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں جاں بحق ہونے والے انڈونیشیا کے سفیر برہان محمد اور ان کی اہلیہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ فیصل آباد چیمبر سے ذاتی مراسم بھی قائم کئے تھے۔ وہ جب بھی فیصل آباد آتے اس چیمبر میں ضرور تشریف لاتے۔ قائمقام صدر نے چیمبر کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کل 25 بلین ڈالر کی برآمدات میں13 بلین ٹیکسٹائل کا حصہ ہے جبکہ اس 13 بلین میں سے نصف برآمدات فیصل آباد سے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان پی ٹی اے کے حوالے سے بتایا کہ اس کی وجہ سے ہماری 700 ملین کی دوطرفہ تجارت 2.25 بلین تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم تجارتی توازن انڈونیشیا کے حق میں ہے۔ انہوں نے دو طرفہ تجارت میں اضافہ کیلئے تجارتی وفودکے تبادلوں پر بھی زور دیا اور کہا کہ فیصل آباد چیمبر اس سلسلہ میں ایک وفد انڈونیشیا بھیجنا چاہتا ہے اور توقع ہے کہ انڈونیشیا کا سفارتخانہ اس سلسلہ میں ہر ممکن تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر انڈونیشیا کے تاجروں سے براہ راست رابطوں کے سلسلہ میں انڈونیشیا کے سرکردہ چیمبرز سے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط بھی کرنا چاہتا ہے اور توقع ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری سہولتیں مہیا کریں گے۔ آخر میں نائب صدر انعام افضل خاں نے مہمانوں اور تقریب کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا جبکہ ندیم اللہ والا نے انڈونیشیا کے قائمقام سفیرسمسورزل کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر انڈونیشیا کے قائمقام سفیر نے بھی ندیم اللہ والا کو خصوصی شیلڈ اور انڈونیشیا کے بارے میں ایک کتابچہ پیش کیا۔

مزید :

کامرس -