تفریحی پارکوں میں چوری کی وارداتیں معمول ، سال میں 100سے زائد موٹر سائیکلیں غائب

تفریحی پارکوں میں چوری کی وارداتیں معمول ، سال میں 100سے زائد موٹر سائیکلیں ...

  

 لاہور( اقبال بھٹی)پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے ملازمین کی غفلت اور ملی بھگت سے تفریحی پارک چوری جیسی وارداتوں کے گڑھ بن گئے ،ایک سال کے دوران ایک ہزار سے زائد موٹر سائیکل چوری ہوئے صرف گلشن اقبال پارک میں ایک سال کے دوران تین سو موٹر سائیکل چوری ہوئے ذرائع کے مطابق پارکس میں موٹر سائیکلوں کی چوری پارکنگ اتھارٹی میں موجود لینڈ مافیا اور پارکوں میں سکیورٹی گارڈز کی ملی بھگت سے ہوتی ہے جب سے پارکوں میں ٹوکن فری سسٹم شروع ہوا ہے تب سے وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے ایک خاص حلقہ موٹر سائیکل چوریوں کے پیچھے پولیس کے ملوث ہونے کا شعبہ ظاہر کرتا ہے اس حوالے سے مختلف پارکس میں سکیورٹی گارڈز سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہر پارک میں چار سے پانچ گیٹ ہوتے ہیں اور پارکنگ اتھارٹی والے صرف دو گیٹوں پر ٹوکن دیتے ہیں اور جب پارک میں آنے والے کسی دوسرے گیٹ پر موٹر سائیکل کھڑی کرتے ہیں جس پر پارکنگ والا موجود نہیں ہوتا تو پھر موٹر سائیکل چوری ہو جاتی ہے یاد رہے کہ حکومت پنجاب لاہور میں موجود ہر پارک کے لئے پارکنگ اتھارٹی کو پارکنگ کی مد میں ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ ادا کرتی ہے اور یوں صوبائی دارالحکومت میں پارکوں میں پارکنگ اتھارٹی کوکروڑوں روپے ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں جو حکومت پنجاب ادا کرتی ہے تاکہ شہرویوں کو مالی طور پر فائدہ اور گاڑی موٹر سائیکل بھی محفوظ رہے لیکن پارکوں میں موجود سسٹم کی وجہ سے شہریوں کو فائدہ ہونے کی بجائے ان کی موٹر سائیکل چوری ہو جاتی ہے اس حوالے سے جب پولیس ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم لوگ پارکوں میں چوری ہونے والی موٹر سائیکلوں کی وجہ سے پریشان ہیں اس لئے پولیس کی طرف سے تمام پارکوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے کہ کسی بھی پارک میں اس گیٹ پر موٹر سائیکل نہ کھڑی کرنے دی جائے جس پر پارکنگ والا موجود نہ ہو جب کسی دوسرے گیٹ پر موٹر سائیکل کھڑی نہیں ہو گی تو پھرچور ی بھی نہیں ہو سکے گی اور اگر پارکنگ اسٹینڈ سے چوری ہو گی تو پارکنگ اسٹینڈ والے ذمہ دارہونگے اور ان کے خلاف کاروائی ہوگی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -