بھارتی یوم آزادی سے ایک ہفتہ قبل ہی سرینگر فوجی چھاؤنی میں تبدیل ،علاقے میں سخت پابندیاں عائد،لوگوں کو مشکلات کا سامنا

بھارتی یوم آزادی سے ایک ہفتہ قبل ہی سرینگر فوجی چھاؤنی میں تبدیل ،علاقے میں ...

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں15اگست کوبھارتی یوم آزادی کے پیش نظر قابض انتظامیہ نے سخت پابندیاں عائد کی ہیں اور جگہ جگہ پرسڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جبکہ سرینگر اوردوسرے قصبوں میں بھارتی فورسز کی تعداد میں اضافہ اور ان کی گشت میں تیزی لائی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مختلف قصبوں میں خانہ تلاشیوں کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے جبکہ سرینگر کے خارجی اور داخلی راستوں سمیت سرینگر جموں شاہراہ کی بھی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ سرینگر میں سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور بھارتی یوم آزادی سے ایک ہفتہ قبل ہی سرینگر فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کررہا ہے۔ سرینگر کے ڈاؤن ٹاؤن اور سول لائنز علاقوں میں بھارتی فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ متعدد جگہوں پر ناکے لگائے گئے ہیں۔مولانا آزاد روڈ اور ریذیڈنسی روڈ پر ڈلگیٹ،ریڈیو کشمیر،ریگل چوک اور پلیڈیم کے نزدیک راہگیروں اور گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے اور لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کئے جارہے ہیں۔

موٹر سائیکل سواروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہے اور انکے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ بھارتی یوم آزادی کے سلسلے میں سرینگر میں منعقد ہونے والی سرکاری تقریب کے پیش نظر بخشی سٹیڈیم کے ارد گرد سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ اہم مقامات اور تنصیبات پر بھارتی فورسز کی تعداد میں ضافہ کیا گیا اور بھارتی فوج اور پولیس نے چھاپہ مار کاروائیوں کا سلسلہ دراز کیا ہے جس سے لوگوں میں خوف و دہشت پھیل گئی ہے اور وہ گھروں سے باہر نکلنے میں خوف محسوس کررہے ہیں۔ادھر سرینگر جموں شاہراہ پر بھارتی فوج کے اضافی دستے تعینات کئے گئے ہیں جو گاڑیوں کی چیکنگ کررہے ہیں اور آنے جانے والی گاڑیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -